اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ
وَمَا يَنۢبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ
إِنَّهُمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ
فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِينَ
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ
وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّٰجِدِينَ
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَٰذِبُونَ
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔ اس معنی میں رسالت ایک یاد دہانی اور سوئے ہئے لوگوں کو جگانے سے عبارت ہے اور یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر پیغمبر بھیجنا لازم کردیا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔ جب رسول آتا ہے اور لوگ پھر بھی نہیں مانتے ، نہیں یاد کرتے اور نہیں جاگتے تو یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ راہ ہدایت ترک کردیتے ہیں لہٰذا عذاب حق ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کے بارے میں ایک جدید بحث :
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
فلا تدع ……العزیز الرحیم (219)
ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “
اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں ہیں۔ رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر اس نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو ……بھی۔
رسول اللہ ﷺ کو عذاب سے ڈرانے کے بعد اب یہاں آپ کے رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ دور سے لوگ زیداہ ڈر جائیں ، اگر رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار (مثلاً ابو طالب) ایمان نہ لائے اور شرک پر مرے تو معذبین میں سے ہوگا تو اور لوگوں کے لئے جاننا چاہئے کہ کوئی رعایت نہ ہوگی۔
بخاری اور مسلم شریف میں منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور پکارا ” باصباحا “ تو
سب لوگ جمع ہوگئے۔ ہر شخص دوڑ کر آپ کے پاس پہنچ گیا یا اس نے اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا نبی عبدالمطلب یا نبی مہرہ یا نبی لوئی دیکھو ! اگر میں ت میں یہ خبر دوں کہ پہاڑ کی اس طرف سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں اور ایک شدید عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس پر ابولہب نے کہا ” تم پر ہلاکت ہو سارے دن کے لئے۔ “ کیا تم نے صرف اس بات کے لئے ہمیں بلایا اور اسی موقعہ پر یہ سورت بھی نازل ہوگئی۔ تبت یدا ابی لھب و تب امام مسلم نے اپنی سند ہے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
وانذر عشیرتک الاقربین (62 : 312) ” اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو “ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا ” اے فاطمہ بنت محد ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب ، اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بارے میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں کھتا۔ میرے مال کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے لے سکتے ہو۔ “
امامت رمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے یہ نقل فرمایا ہے۔ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا تو آپ نے عام بات بھی کی اور خاص بات کی۔ فرمایا اے اہل قریش ، اپنے نفوس کو آگ سے بچائو ، ایاولاد کعب اپنے آپ کو آگ سے بچائو ، اے فاطمہ بنت محمد اپنے نفس کو آگ سے بچائو ، خدا کی قسم میرے پاس تمہارے لئے خدا کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں تمہارا رشتہ دار ہوں۔
تو احادیث اور ان کے ساتھ دوسری احادیث ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو اس طرح لیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو کس طرح خبردار کیا اور آخرت کے معاملے میں ان کو اپنے رب کے حوالے کردیا اور ان کے سامنے صاف صاف کہہ دیا کہ میری قرابت کسی کو وہاں کوء فائدہ نہ دے گی۔ اگر تمہارے لئے تمہارا عمل نافع نہ ہوا اور یہ کہ تمہارے لئے میرے پاس اللہ کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ حالانکہ آپ اللہ کے رسول تھے۔ غرض یہ ہے اسلام اور اس کے صاف صاف تعلیم ، بالکل واضح اور دو ٹوک بات اور اللہ اور بندے کے درمیان ہر قسم کیواسطوں کی نفی۔ یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ بھی واسطہ اور وسیلہ نہیں ہیں۔
پھر نبی ﷺ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جن مومنین نے تمہاری دعوت کو قبل کرلیا ہے ان کے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا ہوگا۔
واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین (62 : 12) ” اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضح کے ساتھ پیش آئو۔ “ ‘ پروں کو ان کے لئے بچھانے سے مراد تواضع کرنا اور نرمی کرنا ہے۔ نہایت ہی مجسم اور حسی انداز میں بیان فرمایا کہ جب پرندہ اترتا ہے تو پروں کو پوری طرح بچھاتا ہے اور رفتار نرم کرتا ہے حضور اکرم نے اپنی پوری زنگدی میں اہل ایمان کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ کیونکہ آپ کے اخلاق بعینہ قرآن تھے آپ کی زندگی قرآن کریم کا عملی ترجمہ تھی۔
اور جو لوگ آپ کی نافرمانی رتے ہیں ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں اور ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیں۔
فان عصوک قفل انی بربی مما تعلمون (62 : 612) ” ۔ “ یہ روش مکہ میں تھی ، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو الل ہیک راہ میں لڑنے کی اجازت نہ تھی۔ اب قرآن کریم آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ تسلی دیتا ہے کہ اللہ بروقت آپ کا نگران ہے اور بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔
اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔
اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الا الذین ……(721)
” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
لہٰذا اہل ایمان ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے تو ان کے دل و دماغ اسلامی عقیدہ اور ایمان سے بھرگئے۔ ان کی زندگی ایک منہاج پر رواں دواں ہوگئی۔ انہوں نے اپنی عمی زندگی میں نیک عمل کرنا شروع کردیا اور ان کی قوتیں اعمال صالحہ اور خوبصورت بھلائی کی راہ پر صرف ہونے لگیں۔ وہ صرف ادہام و تخیلات کی دنیا سے باہر آگئے اور انہوں نے اپنے فن کو بھی اپنے نظریہ کے لئے استعمال کیا۔ یعنی کسی نے ان پر ظلم کیا تو انہوں نے بدلہ لے لیا۔ یعنی میں سچائی کو انہوں نے عملاً قبول کیا اس کی حمایت میں ان کا فن بھی میدان میں آگیا۔
ایسے ہی اہل فن میں ، معرکہ توحید شرک کے ابتدائی دور میں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ابن ثابت ، کعب ابن مالک ، عبد اللہ ابن رواحہ ؓ شعراء انصار میں سے تھے اور عبد اللہ ابن الزیسری ابوسفیان ابن الحارث ابن عبدالمطلب تھے۔ یہ دونوں ایام جاہلیت میں حضور اکرم کی جو بھی کرتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے اور خوب ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت میں بھی خوب کمالات دکھائے اور اسلام کی مدافعت کی۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان ابن ثابت کو حکم دیا ” ان کی ہجو کرو اور جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ “ عبدالرحمٰن ابن کعب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعراء پر اشعار میں بھی نازل کیا ہے جو کچھ نازل کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایک مومن اپنی تولار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے ، اس خدا کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس چیز سے تم ان کو مارتے ہو وہ تیروں کی بارش ہے۔ “ (امام احمد)
اسلامی شعر و فن کا تحقیق مختلف اسالیب میں ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ایک صورت جو ابتدائے اسلام میں وجود میں آئی اور اس وقت اس کی ضرورت بھی تھی لیکن اسلام تصور حیات کے مطابق شعر و سخن کے اور دائرے بھی بیشمار ہیں جن کی اسلام اجازت دیتا ہے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ اسلامی فن وہی ہوگا جو اسلام کے دفاع میں ہو۔ یا براہ راست اس میں دعوت اسلامی موجود ہو۔ یا جس میں اسلام کی تعریف ہو ، پیغمبر اسلام کی تعریف ہو یا اکابر اسلام کی تعریف و تمجید ہو۔ یا اللہ کی حمد و ثنا ؟ یہ ضروری نہیں ہے کہ شعر اگر ان موضوعات پر ہو تو اسلامی ہے اور اگر ان پر نہ ہو تو اسلامی نہیں ہے۔ گردش لیل و نہار پر ایک شاعرانہ نظر ، اور مناظر کائنات پر ایک ایسی نظر جس کے ذریعے ایک مسلم کا شعور اور اس کا تخیل قدرت الہیہ کا احساس کرتا ہو ، حقیقی اسلامی فن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحہ جس میں انسان کے دل و دماغ پر اللہ کی حکمت روشن ہوجاتی ہے اور جس کے اندر انسان اس کائنات کے عجائبات کا احساس کرتا ہے۔ ایسے لمحات ہی میں اسلامی ادب کی تخلیق ہوتی ہے۔
اسلامی فن اور غیر اسلامی فن کے درمیان امتیاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک تصور حیات ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر روابط کی ایک مخصوص شکل پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی فن اسلامی تصورات ، اسلامی روابط کے اور اسلامی اخلاق کی اساس پر تخلیق ہوتا ہے تو وہ اسلامی ہے اور اسے اسلام پسند کرتا ہے ورنہ نہیں ہے۔
اور سورت کا خاتمہ اس دھمکی اور مجمل تہدید پر ہوتا ہے۔
وسیعلم الذین طلموآ ای منقلب ینقلبون (62 : 822) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ اس پوری سورت کا مضمون یہ رہا اور اس میں مشرکین کے عناد اور ہٹ دھرمی کی تصویر کشی کی گئی۔ یہ بتایا گیا کہ وہ اللہ کی وعید کے مقابلے میں سرکشی کرتے رہے بلکہ الٹا عالم غرور میں عذاب کے جلدی نزول کا مطالبہ کرتے رہے۔ نیز اس سورت میں ایسے تمام لوگوں پر نازل ہونے والے عذابوں کی تصویر کشی بھی کی گئی اور مختلف رسولوں کے انجام دکھائے گئے۔
اس لئے سورت کے آخر میں مجملاً نبی ﷺ کی مخالف قوتوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ تم بھی ذرا اپنی خیر منائو کہ تمہارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ گویا کفار مکہ ذہنی دنیا پر یہ آخری ضرب ہے اور ایسے الفاظ میں ہے کہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کے مطاق ہر شخص کا خیال اس کے معانی پہچان سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مشرکین کے ایوان میں ایک زلزلہ ہے جو سورت کے آخر میں برپا کردیا گیا۔