سورہ شعراء: آیت 25 - قال لمن حوله ألا تستمعون... - اردو

آیت 25 کی تفسیر, سورہ شعراء

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ

اردو ترجمہ

فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala liman hawlahu ala tastamiAAoona

آیت 25 کی تفسیر

قال لمن حولہ الا تستمعون (35)

’ ۔ “ کیا تم اس شخص کی عجیب باتیں نہیں سنتے ؟ یہ باتیں تو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیں اور نہ ہم نے کبھی سنی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر توقف کے ایک دوسرا دار کیا۔ اور رب العالمین کا مزید تعارف کرایا۔

آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ”اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے سنا ‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے اس انداز کو خاطر میں لائے بغیر اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں :

آیت 25 - سورہ شعراء: (قال لمن حوله ألا تستمعون...) - اردو