فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
آیت 60 فَاَتْبَعُوْہُمْ مُّشْرِقِیْنَ ”صبح کی روشنی ہوتے ہی فرعون اور اس کے لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔