اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَٰلِبِينَ
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ
فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ ٱلْغَٰلِبُونَ
فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
قَالُوا۟ لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِىٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ
فَأَخْرَجْنَٰهُم مِّن جَنَّٰتٍ وَعُيُونٍ
وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَٰهَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
آیت 40 لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”کہ موسیٰ علیہ السلام اگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں مرعوب و مغلوب کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم اپنی قوم کے جادوگروں کی سرداری قبول کر کے ان کی پیروی کریں اور موسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کی پناہ میں آجائیں !
آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ”خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔
آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ”ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔
آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ”اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔
آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ”فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا !اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔
آیت 51 اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ ”اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول علیہ السلام کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔
آیت 53 فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ ”بنی اسرائیل کے تعاقب کی غرض سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پورے ملک میں پھر ڈھنڈورچی اور ہر کارے بھیج دیے گئے ‘ یہ کہہ کر کہ :
آیت 55 وَاِنَّہُمْ لَنَا لَغَآءِظُوْنَ ”بنی اسرائیل کے مصر سے نکل بھاگنے کی حرکت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اب ہم انہیں عبرتناک سزا دیں گے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ”ان کے اندر ہماری وجہ سے غصہ ہے“۔ یعنی اگرچہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن ہم انہیں جو تکالیف پہنچا تے رہے ہیں اس وجہ سے وہ ہم پر بھرے بیٹھے ہیں۔ چناچہ یہ دل جلے لوگ ہمارے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
آیت 56 وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ”ہمیں ان کی طرف سے کسی بڑے اقدام کا اندیشہ ہے۔ چناچہ ہمیں اپنی پوری قوت کو مجتمع کر کے ان کا پیچھا کرنا چاہیے۔
آیت 58 وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ”اس صورت حال میں انہیں اپنے باغات ‘ چشمے ‘ گھر بار ‘ جاگیریں وغیرہ جن میں وہ خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگیاں بسر کر رہے تھے ‘ سب کچھ چھوڑ کر نکلنا پڑا۔
آیت 59 کَذٰلِکَط وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنی اسرائیل نے بعد میں واپس آکر ان سب چیزوں پر قبضہ کرلیا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بعد میں بنی اسرائیل کو ہم نے دنیوی مال و دولت اور اقتدار سے نوازا اور ایک وقت آیا کہ یہی تمام چیزیں انہیں مل گئیں۔
آیت 60 فَاَتْبَعُوْہُمْ مُّشْرِقِیْنَ ”صبح کی روشنی ہوتے ہی فرعون اور اس کے لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔