سورہ شعراء: آیت 69 - واتل عليهم نبأ إبراهيم... - اردو

آیت 69 کی تفسیر, سورہ شعراء

وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَٰهِيمَ

اردو ترجمہ

اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waotlu AAalayhim nabaa ibraheema

آیت 69 کی تفسیر

درس نمبر 163 تشریح آیات

69……تا……104

واتل علیھم نبا ……ماتعبدون (70)

ان کے سامنے حضرت ابراہیم کا قصہ پیش کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ ان کو بتائو کہ ابراہیم کے والد بھی توبت پرست تھے اور انہوں نے تو والد کے فعل بت پرستی پر سخت مواخذہ کیا تھا۔ پھر تم بت پرست کس طرح بن گئے۔ وہ تو بت پرستی اور شرک کے مسئلے پر ہی اپنے والد اور قوم سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے والد اور قوم کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ بت پرستی کھلی گمراہی ہے کس قدر سخت لہجے میں ماتعبدون (26 : 80) ” یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ “

ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔

آیت 69 - سورہ شعراء: (واتل عليهم نبأ إبراهيم...) - اردو