اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ ٱلْءَاخَرِينَ
وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْمَعِينَ
ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْءَاخَرِينَ
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَٰهِيمَ
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا تَعْبُدُونَ
قَالُوا۟ نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ
أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ
قَالُوا۟ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
قَالَ أَفَرَءَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ
أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ
ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ
رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ
آیت 61 فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ”جب فرعونی لشکر تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچ گیا تو بنی اسرائیل کو اپنے پکڑے جانے کا یقین ہوگیا۔
آیت 62 قَالَ کَلَّاج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ”اس آیت کے یہ الفاظ سورة التوبہ کی آیت 40 کے ان الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو حضور ﷺ نے غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رض کو مخاطب کر کے فرمائے تھے : لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج ” اے ابوبکر رض آپ پریشان نہ ہوں ‘ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“
فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ”اپنے مفہوم کے اعتبار سے آیت کے الفاظ بہت واضح ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان الفاظ کی لایعنی تاویل کرکے اس واقعہ کو مدوجزر قرار دے تو اسے صرف ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے۔ فَلَقَکے معنی پھٹنے کے ہیں اور یہ مادہ اس مفہوم کے ساتھ قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ جیسے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج الانعام : 96 ”چاک کرنے والا صبح کی سفیدی کو“۔ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الفلق ”کہیے میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی“۔ چناچہ اس آیت میں بھی لفظ فلق کے لغوی معنی ہی مراد ہیں ‘ یعنی سمندر پھٹ گیا اور اس کے دونوں حصے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئے۔ کون نہیں جانتا کہّ مدوجزر کی کیفیت میں نہ تو سمندر پھٹتا ہے اور نہ ہی اس کا پانی چٹان یا پہاڑ کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے۔ چناچہ اس تاویل کے مقابلے میں آیت کے الفاظ کا لغوی اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو قرآن کے اس فرمان کی حقانیت بھی ثابت ہوجاتی ہے : لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ ط ” حمٰ السجدۃ : 42 کہ باطل اس کتاب پر حملہ نہیں کرسکتا ‘ نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے۔ یعنی قرآن اپنے مفاہیم و معانی کی حفاظت بھی خود کرتا ہے۔
آیت 64 وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ”جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔
آیت 67 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔
آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔
آیت 72 قَالَ ہَلْ یَسْمَعُوْنَکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ”جب تم ان سے دعا کرتے ہو اور ان کے سامنے گڑ گڑاتے ہو تو کیا وہ تمہاری دعائیں اور تمہاری باتیں سنتے ہیں ؟
آیت 73 اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ”وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان منطقی سوالات کا اس کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکے :
آیت 74 قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے ‘ چناچہ ہم نے بھی ان کی پیروی میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔
آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔
آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ”یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔
آیت 82 وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ”ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب تھے۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں :