آیت نمبر 48
اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے حصے میں خوشی آتی ہے یا غم آتا ہے ، تنگی آتی ہے یا کشادگی نصیب ہوتی ہے ، یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ بدبخت انسان جو بھلائی کا شیدائی ہے اور برائی اور سختی سے نفور ہے ، اسے کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس مالک سے دوررہا ہے جس کے ہاتھ میں اس کے سب امور ہیں اور ہر حال میں وہ خالق ومالک ہے
آیت 48 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا } ”پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہوگی۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ } ”نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔“ { وَاِنَّآ اِذَا اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا } ”اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔“ { وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ} ”اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے۔“