اس صفحہ میں سورہ Ash-Shura کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشورى کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَتَرَىٰهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِىٍّ ۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ ٱلْخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ فِى عَذَابٍ مُّقِيمٍ
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنْ أَوْلِيَآءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍ
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ
فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ كَفُورٌ
لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَٰثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِىَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِىٌّ حَكِيمٌ
آیت 45 { وَتَرٰٹہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ } ”اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس جہنم پر ‘ نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے ‘ دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔“ اسی کیفیت میں وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہوں گے۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔“ { اَلَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ } ”آگاہ ہو جائو ! یہ ظالم تو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں رہیں گے۔“
آیت 46 { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَآئَ یَنْصُرُوْنَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اور ان کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں اللہ کے مقابلے میں۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ } ”اور جسے اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو ‘ پھر اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔“ اب اس کے بعد پھر اقامت دین سے متعلق دو عظیم آیات آرہی ہیں۔
آیت 47 { اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ } ”اے اہل ِایمان ! اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘ اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا۔“ یہ اسی ”استجابت“ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت 38 میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا ‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا انداز ہے کہ اے لوگو ! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں ‘ غلبہ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے ‘ اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہوچکی ہے ‘ تو اب آئو ! آگے بڑھو ! اور اپنے رب کی پکار پر فوراً لبیک کہو ! دراصل تم میں سے ہر کسی نے اپنی اپنی زندگی کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ چناچہ اگر کسی کو اپنے اس ”فرض“ کی ادائیگی کا احساس ہو بھی جاتا ہے تو بھی اس کا دل انہی منصوبوں میں اٹکا رہتا ہے کہ بس میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا لوں ‘ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو لوں وہ فرض نبھا لوں ‘ تو خو دکودین کے لیے وقف کر دوں گا۔ مگر تم خوب جانتے ہو کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ‘ یہ کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ موت تمہارے سامنے آن کھڑی ہو ‘ تم { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } کے حکم پر کان دھرو ! اور اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھو ! اور اپنی مدت مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے کرنے کا یہ اصل کام کرلو ! { مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ } ”نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار۔“ یعنی تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہیں کرسکو گے۔ ان الفاظ کا یہ مفہوم بھی ہے کہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا جائے گا تم اس پر نہ تو کوئی احتجاج کرسکو گے اور نہ ہی اپنی حالت کو تبدیل کرنا تمہارے بس میں ہوگا۔
آیت 48 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا } ”پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہوگی۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ } ”نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔“ { وَاِنَّآ اِذَا اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا } ”اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔“ { وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ} ”اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے۔“
آیت 49 { لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔“ یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ لیکن اس کے لیے عام طور پر یہ جملہ آتا ہے : { لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } لیکن اس سورت کے مرکزی مضمون اقامت ِدین کے حوالے سے یہاں خاص طور پر ملک حکومت و اقتدار کا لفظ آیا ہے۔ { یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ } ”وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔“
آیت 50 { اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا } ”یا وہ انہیں ملا کردیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں۔“ { وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًاط اِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ} ”اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا ‘ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ وہ اپنی مرضی و منشا میں قادر مطلق ہے ‘ جس کو جو چاہے عطا کر دے ‘ لیکن وہ جس کو جو عطا کرتا ہے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر عطا کرتا ہے۔ اگلی آیات میں وحی کی حقیقت اور اس کی اقسام بیان ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر یہ قرآن کا اہم ترین مقام ہے۔
آیت 51 { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ } ”اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے“ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے ‘ وہ جو چاہے کرے ‘ مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔ { اِلَّا وَحْیًا } ”سوائے وحی کے“ یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ”القاء“ یا ”الہام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا النحل : 69 ‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا حٰمٓ السجدۃ : 12 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا القصص : 7 اس وحی کی مثالیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ { اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ } ”یا پھر وہ بات کرتا ہے پردے کی اوٹ سے“ یہ وحی کی دوسری قسم ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا : { وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا } النساء۔ { اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ } ”یا وہ بھیجتا ہے کسی پیغام بر َ فرشتے کو ‘ پھر وہ وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے۔“ یہ وحی کی تیسری قسم ہے ‘ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے پورا قرآن حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ { اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ } ”وہ بہت بلند وبالا ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی انسان سے براہ راست بغیر حجاب کے کلام کرے ‘ اور وہ کمال حکمت والا ہے ‘ اس نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں تک پیغام رسانی communication کا جو طریقہ چاہا اختیار فرمایا۔