واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا ۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہو سکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ (ﷺ) سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ (ﷺ) تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ مقصد تعمیر یہ ہے کہ جو بیمار یا حاجت مند مسجد گرامی میں حاضر نہیں ہو سکتے ‘ یا سخت سردی کی رات ہو ‘ یا بارش کی رات ہو اور لوگ وہاں سے یہاں حاضر نہ ہو سکیں تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اب تو میں برسر سفر ہوں اور کام میں مشغول ہوں ‘ جب ہم انشاء اللہ واپس آئیں گے تو تمہاری مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ چناچہ آپ جب تبوک سے واپس ہو کر مقام ذی اوان میں اترے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ یہ مقام مدینہ سے ایک گھنٹہ کی راہ کے فاصلہ پر تھا۔
آیت 106 وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْہِمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ یہ ضعفاء میں سے دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر ہے ‘ جن کا معاملہ مؤخر کردیا گیا تھا۔ یہ تین اصحاب رض تھے : کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع رض ‘ ان میں سے ایک صحابی حضرت کعب بن مالک انصاری رض نے اپنا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جو کتب احادیث اور تفاسیر میں منقول ہے۔ مولانا مودودی رح نے بھی تفہیم القرآن میں بخاری شریف کے حوالے سے یہ طویل حدیث نقل کی ہے۔ یہ بہت سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد مدینہ کے اس معاشرے ‘ حضور ﷺ کے زیر تربیت افراد کے انداز فکر اور جماعتی زندگی کے نظم و ضبط کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ حیران کن بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔ یہ تینوں حضرات سچے مسلمان تھے ‘ مہم پر جانا بھی چاہتے تھے مگر سستی کی وجہ سے تاخیر ہوگئی اور اس طرح وہ جانے سے رہ گئے۔ حضرت کعب رض بن مالک خود فرماتے ہیں کہ میں اس زمانے میں بہت صحت مند اور خوشحال تھا ‘ میری اونٹنی بھی بہت توانا اور تیز رفتار تھی۔ جب سستی کی وجہ سے میں لشکر کے ساتھ روانہ نہ ہوسکا تو بھی میرا خیال تھا کہ میں آج کل میں روانہ ہوجاؤں گا اور راستے میں لشکر سے جاملوں گا۔ میں اسی طرح سوچتا رہا اور روانہ نہ ہوسکا۔ حتیٰ کہ وقت نکل گیا اور پھر ایک دن اچانک مجھے یہ احساس ہوا کہ اب خواہ میں کتنی ہی کوشش کرلوں ‘ لشکر کے ساتھ نہیں مل سکتا۔ جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پیچھے رہ جانے والوں کو بلا کر باز پرس شروع کی۔ منافقین آپ ﷺ کے سامنے قسمیں کھا کھا کر بہانے بناتے رہے اور آپ ﷺ ان کی باتوں کو مانتے رہے۔ جب کعب رض بن مالک کی باری آئی تو حضور ﷺ نے ان کو دیکھ کر تبسم فرمایا۔ ظاہر بات ہے کہ حضور ﷺ جانتے تھے کہ کعب رض سچے مؤمن ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے روکا تھا ؟ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر چھوٹ گئے ہیں ‘ اللہ نے مجھے بھی زبان دی ہے ‘ میں بھی بہت سی باتیں بنا سکتا ہوں ‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی عذر مانع نہیں تھا۔ میں ان دنوں جتنا صحت مند تھا اتنا پہلے کبھی نہ تھا ‘ جتنا غنی اور خوشحال تھا پہلے کبھی نہ تھا۔ مجھے کوئی عذر مانع نہیں تھا سوائے اس کے کہ شیطان نے مجھے ورغلایا اور تاخیر ہوگئی۔ ان کے باقی دو ساتھیوں نے بھی اسی طرح سچ بولا اور کوئی بہانہ نہ بنایا۔ان تینوں حضرات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی شخص ان تینوں سے بات نہ کرے اور یوں ان کا مکمل طور پر معاشرتی مقاطعہ social boycott ہوگیا ‘ جو پورے پچاس دن جاری رہا۔ حضرت کعب رض فرماتے ہیں اس دوران ایک دن انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی اور بچپن کے دوست سے بات کرنا چاہی تو اس نے بھی جواب نہ دیا۔ جب انہوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے بندے تمہیں تو معلوم ہے کہ میں منافق نہیں ہوں تو اس نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ چالیس دن بعد حضور ﷺ کے حکم پر انہوں نے ابھی بیوی کو بھی علیحدہ کردیا۔ اسی دوران والئ غسان کی طرف سے انہیں ایک خط بھی ملا ‘ جس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے ساتھی آپ پر ظلم ڈھا رہے ہیں ‘ آپ باعزت آدمی ہیں ‘ آپ ایسے نہیں ہیں کہ آپ کو ذلیل کیا جائے ‘ لہٰذا آپ ہمارے پاس آجائیں ‘ ہم آپ کی قدر کریں گے اور اپنے ہاں اعلیٰ مراتب سے نوازیں گے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی آزمائش تھی ‘ مگر انہوں نے وہ خط تنور میں جھونک کر شیطان کا یہ وار بھی ناکام بنا دیا۔ ان کی اس سزا کے پچاسویں دن ان کی معافی اور توبہ کی قبولیت کے بارے میں حکم نازل ہوا آیت 118 اور اس طرح اللہ نے انہیں اس آزمائش اور ابتلا میں سرخرو فرمایا۔ بائیکاٹ کے اختتام پر ہر فرد کی طرف سے ان حضرات کے لیے خلوص و محبت کے جذبات کا جس طرح سے اظہار ہوا اور پھر ان تینوں اصحاب رض نے اپنی آزمائش اور ابتلا کے دوران اخلاص و استقامت کی داستان جس خوبصورتی سے رقم کی ‘ یہ ایک دینی جماعتی زندگی کی مثالی تصویر ہے۔
اس سے مراد وہ تین بزرگ صحابہ ہیں جن کی توبہ ڈھیل میں پڑگئی تھی۔ حضرت مرارہ بن ربیع، حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ ؓ۔ یہ جنگ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ شک اور نفاق کے طور پر نہیں بلکہ سستی، راحت طلبی، پھلوں کی پختگی سائے کے حصول وغیرہ کے لئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو اپنے تئیں مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا تھا جیسے حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھی۔ اور کچھ لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا ان میں یہ تینوں بزرگ تھے۔ پس اوروں کی تو توبہ قبول ہوگئی اور ان تینوں کا کام پیچھے ڈال دیا گیا یہاں تک کہ (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ01107ۙ) 9۔ التوبہ :117) نازل ہوئی جو اس کے بعد آرہی ہے۔ اور اس کا پورا بیان بھی حضرت کعب بن مالک ؓ کی روایت میں آ رہا ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ وہ اللہ کے ارادے پر ہیں اگر چاہیں سزا دے اگر چاہیں معافی دے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ سزا کے لائق کون ہے۔ اور مستحق معافی کون ہے ؟ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے سوا نہ تو کوئی معبود نہ اس کے سوا کوئی مربی۔