اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَٰنٍ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ
وَءَاخَرُونَ ٱعْتَرَفُوا۟ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا۟ عَمَلًا صَٰلِحًا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَأْخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
وَقُلِ ٱعْمَلُوا۟ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
وَءَاخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
بدوی معاشرے کے اس تجزیے کے بعد اب اگلی آیات میں اس وقت کے پورے اسلامی معاشرے کی پوزیشن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں چار طبقات تھے۔ انصار و مہاجرین کے سابقین اولین مسلمان اور وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ان کے متبع تھے۔ دوسرے وہ منافقین جو مدینہ کے باشندوں میں سے بھی تھے اور مدینہ کی اردگرد کی آبادیوں میں بھی پھیلے ہوئے تھے اور عمل نفاق میں خوب طاق ہوگئے تھے ، تیسرے وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے تھے اور کچھ برے تھے اور چہارم وہ تھے جن کے بارے میں اللہ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس فیصلے کا انتظار تھا۔
پہلا گروہ : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : " وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ "
دوسرا گروہ : وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : تمہارے گردوپیش میں جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لئے واپس لائے جائیں گے۔
تیسرا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو ، کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے ؟ اور اے نبی تم ان لوگوں سے کہ دو کہ عمل کرو ، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے ، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے ، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
چوتھا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے ان پر ازسرنو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔
بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ اس وقت کے اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی پر یہ تبصرہ تبوک کی واپسی کے بعد اور لوگوں کے عذرات سننے کے بعد نازل ہوا۔ یہ عذرات ان منافقین نے بھی پیش کیے تھے جو اس غزوے کے باوجود تاکیدی حکم کے پیچھے رہ گئے تھے اور بعض مخلص مومنین نے بھی پیش کیے تھے۔ ان میں بعض لوگ وہ تے جنہوں نے سچے عذرات پیش کیے ، بعض نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا تھا اور وہ اس وقت تک بندھے رہنے پر مصر تھے جب تک رسول اللہ انہیں نہیں کھولتے۔ اور بعض ایسے تھے جنہوں نے کوئی عذر پیش نہیں کیا تھا اور امید رکھتے تھے کہ اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اور یہ وہ تین افراد تھے جو پیچھے رہ گئے تھے تو ان کے بارے میں حضور نے کوئی فیصہ ہی نہ فرمایا تھا ، یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ نے معافی نازل کردی اور ان کی توبہ قبول کرلی۔ جیسا کہ عنقریب ان کے بارے میں تفصیلات آجائیں گی۔ یہ لوگ اس وقت تحریک اسلامی میں شامل ہونے والے مختلف اصناف میں سے تھے اور غزوہ تبوک کے مابعد یہ سب قسم کے لوگ اسلامی صفوں میں شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو اس وقت کی تحریکی صفوں سے اچھی طرح آگاہ فرما رہے تھے کہ اسلامی تحریک کے شب و روز کیا ہیں اور تحریک اسلامی کے اس پہلے مرحلے کے اختتام پر یعنی جزیرۃ العرب میں تکمیل انقلاب کے اختتام پر اور عالمی انقلاب کے مرحلے کے آغاز کے موقعہ پر آپ کو بتایا جا رہا تھا کہ اگلے مرحلے میں کم کے لوگ کون ہوں گے تاکہ اسلامی تحریک ان کو لے کر عالمی سطح پر اللہ وحدہ کی بندگی کا نظام قائم کردے اور اس طرح تمام کرہ ارض پر ہر انسان کو کسی بھی انسان کی غلامی سے آزاد کردے اور زمین پر کوئی انسان بھی کسی طرح کسی دوسرے انسان کا غلام نہ رہے۔
تحریک اسلامی کے لی اس بات کی شد ضرورت تھی کہ اسے اچھی طرح معلوم ہو کہ اسے کس گراؤنڈ پر کھیلنا ہے۔ ہر مرحلے اور ہر قدم پر اسے کیا کرنا ہے۔ اور یہ معلومات اس کے لیے ضروری تھیں تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ان کی پوزیشن کیا ہے اور اگلے مرحلے کے لیے اس نے کیا اقدامات کرنے ہیں ؟
وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ :
وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
مسلمانوں کا یہ طبقہ جو تین عناصر پر مشتمل تھا ، سابقون اولون از ماہرجین ، سابقوں اولین از انصار اور وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آے ، یہ تین طبقات اس وقت کی تحریک اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی تھے اور فتح مکہ کے بعد جزیرۃ العرب میں یہی لوگ حقیقی حاملین دعوت تھے۔ دسویں پارے میں اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس کی تفصیلات دے دی ہیں۔ غرض یہی لوگ تھے جنہوں نے اس دعوت کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس سوسائٹی پر ان کو پورا کنٹرول حاصل تھا۔ اور ہی لوگ ہر اچھی حالت اور ہر بری حالت میں اس سوسائٹی کو تھامے ہوئے تھے اور یہ بات ہر تحریک کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہی کہ مشکلات کی ازمائشیں بمقابلہ خوشحالی اور فتح کی آزمائش کے بہت ہی آسان ہوتی ہیں۔
مہاجرین میں سے سابقون اولون کو لوگ ہیں ؟ ہماری رائے میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت فرمائی۔ اسی طرح انصآر سے سابون اولون وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر سے قبل ایمان لائے ، رہے وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ایمان لائے ، وہ وہی لوگ ہیں جو غزوہ تبوک کی آزمائش میں پورے اترے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلامی نظام زندگی اختیار کیا ، پوری طرح ایمان لائے اور اس کے بعد ایمانی تقاضے پورے کیے۔ اور اعلی ایمانی معیار تک پہنچ کیے۔ اگرچہ ان پر ان لوگوں کو سبقت حاصل ہے جنہوں نے نہایت ہی شدید حالات میں اسلام کے دامن کو تھاما۔
روایات اس بارے میں مختلف ہیں کہ انصار اور مہاجرین میں سے سابقون اولون کون ہیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بیعت رضوان والے ہیں۔ ہماری رائے وہی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور اس رائے کو ہم نے اسلامی معاشرے کی تشکیل مراحل اور اہل ایمان کے مختلف مراحل اور اہل ایمان کے مختلف طبقات کی تشکیل کے مراحل کے گہرے مطالعے کے بعد قائم کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
بہتر ہوگا کہ ہم یہاں دسویں پارے سے چند فقرے نقل کردیں جو ہم نے وہاں اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کے اندر اہل ایمان کے مراتب کے تعین کے بارے میں وہاں لکھے تھے تاکہ قارئین کے ذہن میں وہ نکات دوبارہ تازہ ہوجائیں اور اسے دوبارہ پارہ دہم کی ورق گردانی نہ کرنی پڑے۔ اور ان نکات کی روشنی میں قارئین اسلام معاشرے کی طبقاتی تقسیم (Classification) کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یہ اسلامی معاشرے کی آخری تقسیم تھی کیونکہ زیر بحث آیات قرآن کریم کی آخری دور کی آیات ہیں۔
" تحریک اسلامی مکہ مکرمہ میں نہایت ہی شدید حالات میں ابھری ، اس کا مقابلہ قریش کے جاہلی معاشرے سے تھا۔ تحریک اسلامی کا کلمہ دعوت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو قریش کے اس جاہلی معاشرے نے اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا ، اس لیے کہ یہ کلمہ درحقیقت ان تمام معاشروں اور ان کے اقتدار اعلی کے لیے ایک گونہ بغاوت کا اعلان تھا جن کا اقتدار اعلی اللہ کے اقتدار اعلی اور اللہ کی حکومت سے ماخوذ نہ تھا۔ یہ کلمہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ کلمہ گو نے تمام طاغوتی قوتوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے اور وہ صرف اللہ کی حکومت اور اقتدار کا وفادار ہے۔ پھر قریش کے جاہلی معاشرے نے فوراً ہی محسوس کرلیا کہ یہ نئی دعوت ایک نئی قیادت ، قیادت محمد ﷺ کے تحت ایک منظر تحریک کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ اور اس نئی تحریک کا شعار پہلے دن سے یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کی جائے اور قریش کی جاہلی اور سرکش اور ظالم قیادت کی اطاعت کا انکار کردیا جائے۔
جونہی قریش نے درج بالا خطرہ محسوس کیا کہ موجودہ نظام ، اس کے مفادات اور اصولوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے تو اس جاہلی معاشرے نے تحریک اسلامی کے افراد کے خلاف تشدد اور ظلم کا طوفان کھڑا کردیا۔ انہوں نے ایک جدید تحریک اور اس جدید سوسائٹی اور اس جدید قیادت کے خلاف وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے جو ان کے بس میں تھے۔ جن میں ایذا رسانی ، سازشیں ، اوچھے ہتھیار اور فتنہ پردازیاں سب کچھ شامل تھے۔
قریش کا جاہلی معاشرہ یکلخت اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنا دفاع شروع کردیا اور اس معاشرے نے بعینہ اسی طرح اپنا بچاؤ شروع کردیا جس طرح ایک زندہ انسان اپنے آپ کو موت کے خطرات سے بچانا چاہتا ہے۔ اور قریش کے اس جاہلی معاشرے کا یہ رد عمل بالکل فطری تھا ، اور جب بھی کوئی دعوت لوگوں کو صرف رب العالمین کی بندگی ، ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کی طرف بلانا شروع کرتی ہے ، اس وقت کی قائم جاہلی سوسائٹی کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے ، کیونکہ جاہلی سوسائٹی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور اسلامی دعوت صرف رب العالمین کی بندگی کی طرف ہوتی ہے۔ جب بھی دعوت اسلامی ایک عضویاتی تحریک کی شکل میں اٹھے گی جاہلیت ، اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوگی جس طرح نقیض نقیض کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ اور اس قسم کی تحریک کا ہر کارکن جاہلی معاشرے کی زد میں آجاتا ہے اور اسے ہر قسم کے فتنوں اور مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اور بسا اوقات اس تشدد کے نتیجے میں کارکنوں کا خون بھی بہایا جاتا ہے ، جب ایسے حالات ہوتے ہیں تو تحریک اسلامی کی صفوں میں آ کر شہادت حق دینے والے صرف وہی لوگ ہوتے ہیں ، جنہوں نے فیصلہ کرلیا ہو کہ وہ اللہ کی راہ میں جان تک کا نذرانہ پیش کریں گے۔ اس دعوت اور تحریک اور اس جدید سوسائٹی کی رکنیت ایسے سرفروش ہی اختیار کرتے ہیں جو اذیت ، فتنہ سامانیوں ، بھوک افلاس اور شدائد و مصائب برداشت کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں قید و بند اور موت کے لیے بھی تیار ہونا پڑتا ہے۔
مکہ مکرمہ کے عربی معاشرے میں ایسے ہی مضبوط ، طاقتور اور اولوالعزم لوگ ہی اسلامی قیادت کی بنیاد بنے۔ وہ لوگ جو مشکلات برداشت کرکے اور شدائد و مصائب انگیز نہ کرکے تحریک میں فوج در فوج داخل ہوگئے تھے وہ دوبارہ جاہلیت کی طرف مرتد ہوکر لوٹ گئے تھے۔ یہ اولوالعزم لوگ تعداد میں بہت ہی کم تھے اور یہ بات بالکل معروف اور کھلی ہے۔ اس لیے کہ ابتداء جاہلیت کو چھوڑ کر اسلام کی مشکل اور پر خطر راہ کو اپنانے کے لیے کوئی تیار نہ تھا ماسوائے ان ممتاز اور مختار اور برگزیدہ لوگوں کے جن کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا۔
سابقین مہاجرین ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جو نادرہ روزگار تھے اور یہ اس دین کا بنیادی اثاثہ تھے اور مضبوط بنیاد تھے اور انہوں نے ابتدائی مکی دور میں لبیک کہا۔ یہی لوگ جب مدینہ پہنچے تو یہ اس تحریک کے روح رواں اور دین کے مرکزی ستون تھے۔ ان کے ساتھ مدینہ میں انصار میں سے ایسے ہی اولوعزم افراد مل گئے۔ ان لوگوں نے اگرچہ وہ مشکلات برداشت نہ کی تھیں جو مہاجرین نے کیں لیکن ان لوگوں نے چونکہ نہایت ہی مشکل حالات میں عقبہ کے مقام پر حضور کے ساتھ بیعت کی تھی ، اس لیے یہ لوگ بھی پاک طینت اور اصلی مزاج کے لوگ تھے اور ان کے اندر وہ بنیادی اوصاف موجود تھے جو اس دین کے حاملین اولین میں ضروری تھے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں " محمد ابن کعب قرظی نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن رواحہ نے بیعت عقبہ کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ سے کہا : آپ اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے جو شائط ہم پر عائد کرنا چاہیں ، عائد کردیں۔ تو اس پر حضور نے فرمایا میں رب کے لیے تو یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اپنے لیے یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میری مدافعت اس طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان و مال کی مدافعت کرتے ہو ، اس پر لوگوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمارے لیے کیا اجر ہوگا ؟ تو حضور نے فرمایا الجنۃ تو انہوں نے کہا یہ بہت ہی اچھا سودا ہے ، نہ ہم اقالہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقالہ کرے۔
یہ لوگ جو حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے ، یہ جنت کے بغیر اور کچھ نہ چاہتے تھے۔ انہوں نے بڑے وثوق کے ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ نہ تو وہ اس سودے کو واپس کریں گے اور نہ ہی فریق ددوئم کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اس سودے وک ٹالیں۔ اور یہ جانتے تھے کہ یہ بیعت کوئی معمولی بیعت نہ تھی ، وہ جانتے تھے کہ اب قریش ان کے پیچھے پڑیں گے اور نہ صرف قریزش بلکہ تمام عرب ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور وہ اب جاہلیت کے ساتھ مل کر پرسکون زدنگی بسر نہ کرسکیں گے جو ان کے اردگرد خیمہ زن ہے اور جزیرۃ العرب اور مدینہ کے اطراف و اکناف پر حکمران ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ انصار کو یہ علم تھا اور یہ یقینی علم تھا کہ اس بیعت کے نتائج کیا ہوں گے اور انہوں نے یہ بات بھی اچھی طرح جان لی تھی کہ حضور نے ان کے ساتھ اس دنیا کے اندر کسی اجر و صلہ کا وعدہ نہیں فرمایا۔ یہاں تک کہ حضور نے ان کے ساتھ یہ وعدہ بھی نہیں کیا کہ تمہیں اس دنیا میں اس مقصد میں کامیابی نصیب ہوگی ماسوائے جنت کے۔ ان کے ساتھ کوئی اور وعدہ نہ تھا۔ یہ تھی ان کے فہم دین کی انتہا اور یہ تھی ان کی چاہت جو وہ اس دین کے ساتھ رکھتے تھے۔ لہذا یہ لوگ سابقوان اولن کے مقام بلند پر فائز ہوئے اور یہ لوگ مہارجین کے اولین ساتھیوں میں قرار پائے جنہوں نے تعمیر دین کی بنیادوں میں حصہ لیا اور اس عمارت کو تیار کیا۔ یہ لوگ مدینہ کی سوسائٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے۔
لیکن مدینہ کا معاشرہ اور جماعت اسی طرح مخلص اور صاف رہی۔ اسلام کا ظہور مدینہ سے ہوا۔ وہ اس کے اندر دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ خصوصا ان میں سے صاحب مرتبہ اور سربراہ قسم کے لوگوں نے بھی اپنی قوم کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیا تاکہ ان کی لیڈر شپ قائم رہے۔ جب جنگ بدر کا عظیم واقعہ پیش آگیا تو اس قسم کے لوگوں کے سرخیل عبد ابن ابی ابن سلول نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ یہ معاملہ تو اب بہت آگے نکل گیا ہے۔ اس لیے اس نے نفاق کے طور پر اسلام قبول کرلیا۔ یہ بات ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو اسلام کا سیلاب بہا کرلے گیا اور انہوں نے دوسروں کی تقلید میں اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ یہ مقلد قسم کے لوگ منافق نہ تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام کو ابھی تک اچھی طرح نہ سمجھا تھا اور نہ وہ اسلامی قالب میں اچھی طرح ڈھل گئے تھے ، اس کی وجہ سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی میں افراتفری تھی کیونکہ مختلف لوگ ایمان کے مختلف درجات پر فائز تھے۔
قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں اس قسم کے لوگوں کی تربیت شروع کی۔ چونکہ ایمان و اخلاق کے مختلف درجات کے لوگ اس سوسائٹی میں داخل ہوگئے تھے ، اس لیے ضروری تھا کہ ان مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازا معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازاً معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف خاندانوں اور مزاجوں کے تھے اور مسلسل آ رہے تھے۔ قریش اگرچہ لوگوں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے اور تمام عرب قبائل کو وہ اس دین کے خلاف آمادہ جنگ کرتے تھے۔ اسی طرح یہودی بھی اس دین کی راہ میں رکاوٹ تھے اور وہ بھی رات دن لگے ہوئے تھے کہ تمام اقوام اس دین جدید پر حملہ آور ہوں اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اس لیے جدید آنے والے لوگوں کی تربیت کی بہت ضرورت تھی۔
تربیت اور تطہیر کی اس مسلسل جد و جہد کے باوجود کبھی کبھار خصوصاً مشکل اور شدید وقت میں اسلامی صفوں میں کمزوریوں کا ظہور ہوجاتا تھا۔ بعض گوشوں میں نفاق ابھرتا بعض میں تردد اور غیر یقینی صورت حال ہوتی۔ بعض لوگ دین جدید کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتے۔ بعض لوگ خطرات کا سامنا کرنے سے ڈرتے۔ بعض اوقات لوگ یہ نہ سمجھ سکتے کہ ان کے مابین اسلامی رابطے اور تعلق کا کیا مقام ہے اور ان کی سابقہ جاہلی رشتہ داریوں اور روابط کی حیثیت اب کیا ہے ؟ وہ اسلام بھائی چارے کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے۔ اس سورت کی آیات سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ مختلف طریقوں سے اور مختلف زاویوں سے ایسے لوگوں کی تربیت کس طرح کرتی ہیں اور اس کے لیے کیا کیا اسلوب اختیار کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ہم بعض آیات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔
لیکن مدینہ طیبہ میں مسلم معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ درست تھا ، اس لیے کہ اس ڈھانچے میں بنیادی اہمیت صرف ان لوگوں کو حاصل تھی جو مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین تھے اور نہایت ہی مضبوط لوگ تھے۔ نیز اس معاشرے کی تعمیر و تربیت میں اتحاد و اتفاق اور اس کے ڈھانچے میں اس قدر پختگی تھی اس نے ان کمزوریوں اور عوارض اور انتشار پر قابو پا لیا تھا اور وہ عناصر جو خوف اور پریشانی سے متاثر ہوجاتے تھے اور جن کی ابھی تک پوری تربیت نہ ہوئی تھی اور وہ اس جدید معاشرے میں ابھی تک ڈھل نہ گئے اور ان کے اندر پوری ہم آہنگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کو بھی اجتماعی معاشرتی نظام سنبھالا دیتا تھا۔
بہرحال آہستہ آہستہ یہ جدید عناصر تربیت پا رہے تھے۔ اس معاشرے میں ڈھل رہے تھے اور ان کی تطہیر مسلسل ہو رہی تھی اور وہ اسلامی معاشرے کی اصل قوت کے ساتھ ملتے رہتے تھے۔ اور ضعیف القلب ، نافرمانی کرنے والوں اور ڈھل مل یقین قسم کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔ مفادات سے ڈرنے والے اور ایسے لوگ جن کے دلوں میں ابھی تک اسلامی نظریہ حیات پوری طرح نہ بیٹھا تھا تاکہ وہ اپنے سوشل روابط بھی اسی نظریہ کی اساس پر استوار کریں۔
یہاں تک کہ فتح مکہ سے پہلے حالت یہ ہوگئی تھی کہ اسلامی معاشرہ تعلیم وتربیت اور اپنی ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے مقام کمال کے قریب پہنچ گیا تھا اور اکثر لوگ مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین کے نقش قدم پر چل پڑے تھے۔ اور یہ معاشرہ اس قدر پاک اور تربیت یافتہ ہوگیا تھا کہ وہ اسلامی نظام حیات کے پیش نظر مطلوبہ معیار کے قریب تر تھا۔
یہ بات درست ہے کہ ابھی تک اس معاشرے میں ایسی قدریں نشوونما پا چکی تھیں کہ جن کا تعلق براہ راست اسلامی نظریات کے ساتھ تھا۔ ان اقدار کی وجہ سے تحریک کے اندر کچھ لوگ زیادہ ممتاز تھے اور زیادہ ثابت قدم تھے اور تحریک کی صفوں میں اوروں سے آگے تھے۔ مثلاً مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ، اہل بدر ، حدیبیہ میں بیعت رضوان کرنے والے۔ پھر جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل جہاد ، انفاق اور قتال میں حصہ لیا اور جنہوں نے بعد میں لیا۔ نصوص کتاب اللہ ، احادیث نبوی اور تحریک کے بعض عملی اقدامات سے یہ تفاوت مراتب اور اقدار کا ثبوت ماتا ہے۔ یہ اسلامی اقدار اور تفاوت اسلامی نظریہ حیات کو آگے بڑھانے کے نقطہ نظر سے متعین ہوئیں "۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ انصار و مہاجرین میں سے جو لوگ سابقون اولون تھے ان کے ایمانی معیار اور ان کی تحریکی ازمائشوں نے انہیں کس مقام بلند تک پہنچایا اور اس سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ تعمیر اسلام اور عملاً اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صحابہ کرام کا کردار پوری انسانی تاریخ میں کس قدر اہم ہے اور مبنی بر حقیقت ہے۔ اور اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ؓ و رضو عنہ) کا حقیقی مفہوم کیا۔
اللہ ان سے راضی ہوا اور اللہ کی رضا کا نتیجہ ہوتا ہے اللہ کی طرف اجر وثواب۔ اللہ کی رضا مندی بذات خود بھی بڑا انعام ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے اللہ سے راضی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ سے مطمئن ہوتے ہیں ، اللہ کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہیں اور اللہ کے فیصلوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ اور اللہ نے انہیں جو انعامات دیے ہیں ان پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اگر اللہ کی جانب سے ان پر کوئی آزمائش آجائے تو اس پر صبر کرتے ہیں۔ لیکن یہاں جن الفاظ اور اور جس انداز میں رضا مندی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مختار زمانہ گروہ اور ذات باری کے درمیان ایک عمومی ، گہری ، دو طرفہ ، وسیع الاطراف اور دونوں جوانب سے رضامندی کا تبادلہ ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس برگزیدہ گروہ کو یہ مقام عطا فرمایا ہے کہ وہ بھی اس قابل ہوگئے کہ وہ اللہ سے راضی ہوں حالانکہ اللہ رب اور حاکم ہے اور یہ لوگ اس کی مخلوق اور بندے ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ تعلق اس قدر گہرا اور اس قدر شاندار ہے کہ انانی الفاظ میں اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ صحابہ کرام کی یہ شان نصوص قرآنی کے بین السطور سے صرف اس شخص کے سامنے کھلتی ہے جو روحانی تڑپ رکھتا ہو اور جس کا سینہ معانی قرآن کے لیے کھلا ہو اور جس کا حس اور شعور عالم بالا کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔
یہ ہے ان کا دائمی اور مخصوص تعلق اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا اس رضامندی کی علامت کیا ہے ؟ یہ کہ ! وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : ان کے لیے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم الشان کامیابی ہ۔
یہ تو ہے ایک معیار اور اس کے مقابلے میں دوسری سطح کے لوگ بھی ہیں۔
اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین اہل مدینہ اور ارد گرد کی آبادی میں اب بھی موجود ہیں۔ اس قسم کے منافقین کی سازشون اور نیش زنیوں سے حضور اور اہل ایمان مطمئن ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف حضور کو فرماتے ہیں کہ آپ کے علم میں ان کی ریشہ دوانیاں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سخت تنبیہہ کردی جاتی ہے کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ ان کی مکاری اور ہوشیاری اور شاطرانہ چالیں اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ، اللہ ان کو اس دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار کرے گا جبکہ آخرت میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔
لا تعلمھم نحن نعلمہم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم " تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ دنیا میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا ؟ قریب الفہم مفہوم یہ ہے کہ ایک تو ان کو اس بات پر سخت قلق ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کی شاطرانہ چالوں کے باوجود ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کردی گئی اور دوسرا عذاب یہ کہ ان کی موت اس حالت میں آئے گی کہ ان کو روح کو سختی سے قبض کیا جائے گا اور قبض روح کی حالت میں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں رسید کی جائیں گی یا یہ عذاب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو فتح پر فتح نصیب ہو رہی ہے اور وہ دل ہی دل میں جلتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ کہ یہ لوگ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کی حالت کا انکشاف مسلمانوں پر نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ عمل جہاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔
یہ تو تھے دو انتہائی معیار اور ان کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بین بین ہیں۔
1 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم (ﷺ) مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ (ﷺ) پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ کوئی ان کو نہ کھولے گا یہاں تک کہ نبی کریم (ﷺ) ان کو کھولیں گے اور ان کا عذر قبول فرمائیں گے آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو نہیں کھولوں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے کیوں کہ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پیچھے رہ گئے ۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو نہیں کھولیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہم کو کھولنے والے ہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ عسی اللہ ان یتوب علیہم “ اور قریب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ قبول ہوجائے اور وہ بہت توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو نبی کریم (ﷺ) نے ان تک یہ آیت پہنچائی ان کو کھول دیا اور ان کا عذر قبول کرلیا وہ مال لے آئے اور کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے لئے مال ہیں ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے استغفار فرمائیے آپ نے فرمایا مجھے تمہارا مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا (آیت) خذ من اموالہم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بھا وصل علیم “ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کیجئے (آگے فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے رحمت ہوگی آپ نے ان سے صدقہ لے لیا اور ان کے لئے استغفار فرمایا اور ان میں سے تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا ان کا معاملہ ایک سال موخر کردیا گیا وہ نہیں جانتے تھے کیا ان کو عذاب دیا جائے گا یا ان کو توبہ قبول کی جائے گی تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت ) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ اتاری آیت کے آخر تک پھر فرمایا (آیت) وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا ، ان اللہ ھو التواب الرحیم (118) تک یعنی ” ان استقاموا “ اگر وہ صراط مستقیم پر قائم رہے ۔
2 :۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے بغیر اسی طرح روایت بیان کی ۔
3 :۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابولبابہ تھے جب انہوں نے قریظہ کو کچھ کہا تو ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کردیا کہ محمد (ﷺ) تم ذبح کریں گے اگر تم ان کے حکم پر اتر آئے ۔
ابولبابہ ؓ کا اپنے آپ کو ستون سے باندھنا :
4 :۔ البیہقی (رح) نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بنوقریظہ (یہودی) ابو لبابہ کے حلیف تھے انہوں نے اوپر سے جھانک کر ان کی طرف دیکھا اور آپ ان کو رسول اللہ (ﷺ) کے حکم کی طرف دعوت دینے لگے انہوں نے کہا اے ابولبابہ کیا تو ہم کو حکم دیتا ہے کہ ہم نیچے اتر آئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ذبح کردیئے جاؤ گے رسول اللہ (ﷺ) کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ سے غافل ہیں جب تو نے ان کی طرف اس کے ذریعہ اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا پس وہ کچھ وقت تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے اور یہ تنگی والا جہاد تھا وہ لوگ جو پیچھے رہ گئے (غزوہ تبوک سے ) ابولبابہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) (غزوہ سے ) واپس تشریف لائے ابو لبابہ نے آکر سلام کیا آپ نے ان سے منہ پھیرلیا تو ابولبابہ گھبرائے گئے اور تو بہ کے ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا جو ام سلمہ کے دروازہ کے پاس ہے سات دن اور رات شدید گرمی میں اسی حال میں رہے ان دنوں میں کچھ کھایا اور نہ ایک قطرہ تک پیا اور کہا میں اس جگہ پر پڑا رہوں گا یہاں تک کہ اس دنیا سے جدا ہوجاؤں گا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لیں وہ برابر اسی طرح رہے یہاں تک کہ کمزوری کے سبب کسی کی آواز بھی نہیں سن سکتے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) انکی طرف صبح اور شام دیکھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی آواز دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ ان کو ان کی رسی سے آزاد کردے انہوں نے انکار کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے بغیر مجھے کوئی نہ کھولے ۔ رسول اللہ (ﷺ) تشریف لائے اور اپنے ہاتھ مبارک سے ان کو کھولا جب تندرست ہوئے تو ابولبابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) میں اپنی قوم کا وہ گھر کو دوں گا جس میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی اور میں آپ کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہوں آپ مجھ کو ٹھکانہ دیجئے اور میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ نکالنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تجھ سے مال کا تیسرا حصہ کافی ہے ابو لبابہ نے پانی قوم کے گھر سے ہجرت کرلی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس سکونت اختیار کرلی اور انہوں نے اپنے تہائی مال کا صدقہ کیا پھر توبہ کی پھر اس کے بعد اسلام میں ان سے سوائے نیکی اور خیر کے عمل کے اور کچھ نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
5 :۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمی پیچھے رہ گئے نبی کریم (ﷺ) سے ( جہاد میں نہ جاسکے ) پھر ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے سوچا اور نادم ہوئے اور انہوں نے اپنی ہلاکت کا یقین کرلیا ۔ اور کہنے لگے کہ ہمسائے اور عورتوں کے ساتھ اطمینان اور راحت سے رہ رہے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) اور ایمان والے لوگ آپ کے ساتھ جہاد میں مصروف ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ ضرور باندھ دیں گے ۔ اور پھر نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) ہم کو کھولیں گے اور ہمارا عذر قبول فرمائیں گے ابو لبابہ چلے اور انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے بھی مسجد کے ستونوں سے (اپنے آپ کو ) باندھ دیا اور تین آدمی باقی رہ گئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نہ باندھا۔ رسول اللہ (ﷺ) جہاد سے واپس تشریف لائے اور آپ سیدھے مسجد میں پہنچے تو ان پر گزرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ کون ہیں اپنے آپ کو ستونوں سے باندھنے والے ایک آدمی نے کہا یہ ابولبابہ اور ان کے دوساتھی ہیں جو رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کی قسم میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو کھولنے کا حکم نہ دیا جاؤں اور ان کا عذر قبول نہ کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول نہ فرمائیں گے کیونکہ یہ لوگ پیچھے رہ گئے مسلمانوں سے اور ان کے ساتھ جہاد کرنے سے اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ضرور ہوگا جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) نے ان کو کھولا اور ان کے عذر کو قبول فرمایا ۔ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی اپنے مال لے کر آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آکر کہا ہمارے مالوں کو لے لیجئے اور ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے وہ عرض کرنے لگے کہ ہمارے لئے استغفار کیجئے اور ہم کو پاک کیجئے ۔ آپ نے فرمایا میں اس میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا ۔ یہاں تک اس کا حکم نہ کیا جاؤں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ راوی نے کہا کہ تین آدمی باقی رہ گئے جنہوں نے ابولبابہ کی مخالفت کی انہوں نے توبہ نہیں کی تھی ۔ اور نہ ہی کسی چیز کا انہوں نے ذکر کیا اور ان کے عذر کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ۔ ان پر زمین تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائیں گے ۔ اور وہ انتظار کرنے لگے اللہ کے حکم کا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ سے لے کر (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ تک یعنی وہ انتظار کررہے تھے اللہ کے حکم کا پس ان پر توبہ کا حکم نازل ہوا اور اس کے ساتھ انہوں نے عمل کیا ۔
6 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا ان میں سے کردم ، مرداس اور ابولبابہ تھے ۔
7 :۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ سات آدمی تھے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے چار ایسے تھے جنہوں نے کچھ اچھے عمل اور کچھ برے عمل آپس میں ملا دیئے (ان کے نام یہ تھے ) جد بن قیس ، ابولبابہ ، حرام اور اوس یہ سب انصار میں سے تھے ان کی توبہ قبول کی گئی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں کہا گیا (آیت ) ” خذ من اموالہم صدقۃ “
8 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا (عمل صالح والے لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جہاد کیا (آیت) ” واخر سیئا “ جو ان سے پیچھے رہ گئے۔
9 :۔ ابن ابی شیبہ وابن دنیا نے توبہ میں وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن میں کوئی آیت نہیں ہے جو میرے نزدیک اس امت کے لئے اس آیت سے بڑھ کر امید افزاء ہو (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ ۔
اعمال سیئہ سے توبہ کرنا :
10 :۔ ابوالشیخ والبیہقی (رح) نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور قرآن پر غور کررہا تھا تو میں نے اپنے اعمال کو اہل جنت کے اعمال کو اہل جنت کے اعمال پر پیش کیا اچانک ان کے اعمال شدید اور سخت تھے مثلا (آیت) ” کانوا قیلا من الیل ما یہجعون (17) “ (الذریات) اور (آیت) اور ” یبیتون لربہم سجدا و قیام ‘ (64) “ (فرقان آیت 64) اور (آیت) ” امن ھو قانت اناء الیل ساجدا وقائما “ تو میں اپنے آپ کو ان میں سے گمان نہ کرتا پھر میں نے اپنے آپ کو اسآیات پر پیش کیا (آیت) ” ما سلکم فی سقر (42) اور (آیت) ” قالوا لم نک من المصلین (42) “ المدثر) لے کر ”(آیت ) ” نکذب بیوم الدین (46) تک پس میں جھٹلانے والی قوم میں غور وفکر کرتا اور اپنے آپ کو ان میں گمان نہ کرتا پھر اس آیت کا حکم دیا گیا یعنی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ پس میں امید کرسکتا ہوں کہ میں ان میں سے ہوں گا اور اے میرے بھائیو ! تم بھی ان میں سے ہوگے۔
11 :۔ ابو الشیخ وابو المنذر و ابونعیم نے المعرفۃ میں وابن عساکر نے ایک قومی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں چھ آدمی رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے (وہ یہ تھے ) ابو لبابہ اوس بن جزام ، ثعلبہ بن ودیعہ ، کعب بن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ھلال بن امیہ (ان میں سے ) ابو لبابہ اوس بن جزام اور ثعلبہ آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا اور اپنا مال لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس مال کو لے لیجئے جو ہم آپ سے پیچھے رک گئے اور ان کو چالیس دن مؤخر کردیا گیا وہ باہر نکلے اور انہوں نے اپنے خیمے لگائے اور ان میں سے آپ نے ان کو اپنی عورتوں سے بھی جدا کردیا کوئی مسلمان ان کا دوست نہیں تھا ۔ اور اس میں سے کوئی قریب بھی نہیں ہوا پھر اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر ” التواب الرحیم “ تک ام سلمہ نے کعب کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان کو خوشخبری دی ۔
12 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو قرآن پر پیش کیا ۔ میں نے کسی آیت کو نہیں پایا جو میرے نزدیک اس آتی سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، یعنی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔
13 :۔ ابو الشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اے مالک انہوں نے توبہ کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے ۔ اور امید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واجب ہے (یعنی ثابت ہے )
صحابہ کرام ؓ سے خواب کے متعلق دریافت کرنا :
14 :۔ بخاری ومسلم وترمذی والنسائی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) اکثر اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کیا تم سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک صبح کو آپ نے ہم سے فرمایا اس رات دو آنے والے میرے پاس آئے مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ۔ وہ مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم ایک آدمی پر تھے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ایک پتھر لے کر اس پر کھڑا ہوا تھا اچانک وہ پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے تو اس کا سرکچلا جاتا ہے اور پتھر لڑھک کر دور جاگرتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے جاکر اس کو اٹھاتا ہے اور اس کی طرف واپس آتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے جیسے تھا پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو اس سے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے ان دونوں سے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا چلئے تو ہم چلے اور ایک اپنی گدی بل چت لیٹے ہوئے ایک آدمی کے پاس آئے اور دوسرا آدمی لوہے کی سلاخ لے کر اس پر کھڑا تھا اچانک وہ اس کی ایک جانب سے آکر اس کی باچھیں گدی تک چیر دیتا ہے ۔ اور اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر وہ دوسری جانب پھر آتا ہے اور اس جانب سے بھی اسی طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی جانب کیا تھا اس جانب سے جب فارغ ہوتا ہے تو پہلی جانب ٹھیک ہوجاتی تھی جیسے تھی پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے اور اس طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے تو ہم چلے اور ہم تنور کی طرح ایک چیز پر آئے اچانک اس میں شور اور آوازیں تھیں ہم نے اس میں جھانکا اچانک اس میں مرد اور عورتیں ننگی تھیں آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے بلند ہوتا تھا یہ شعلہ جب ان پر پڑتا تو وہ چیخ و پکار کرتے میں نے کہا یہ کون ہیں ؟ دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور خون کی طرح ایک سرخ نہر پر آئے اور تیرنے والے آدمی اس میں تیر رہا تھا اور نہر کے کنارہ پر ایک دوسرا آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر تھے جب وہ تیرنے والا تیر کر اس کے پاس آتا تھا جس کے پاس پتھر جمع تھے تو وہ اپنا منہ کھولتا تو یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا پھر وہ آدمی چلا جاتا اور تیرنے لگتا پھر اس کی طرف لوٹتا جب کبھی لوٹتا تو اپنا منہ کھول دیتا اور وہ اس میں پتھر ڈال دیتا ۔ میں نے ان دونوں سے کہا یہ دونوں کون ہیں ؟
میرے دونوں ساتھیوں نے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بہت ہی بدصورت آدمی کے پاس آئے جس سے بڑھ کر آپ نے انتہائی بدصورت آدمی کو نہیں دیکھا ہوگا اچانک اس کے پاس ایک آگ تھی جس کو وہ سلگاتا کہ اس کے اردگرد دوڑتا تھا ۔ میں نے اس سے کہا یہ کون ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک گھنے سیاہ باغ پر آئے اس میں ہر جانب بہار کا نور تھا اور اچانک باغ کے راستوں کے درمیان ایک لمبے قد کا آدمی تھا قریب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سر کی لمبائی آسمان کی طرف بڑھی ہوئی تھی جبکہ اس آدمی کے اردگرد اکثر (چھوٹے ) بچے تھے کہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بڑے باغ کی طرف پہنچے ۔ اس سے بڑا باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اس سے اچھا دونوں نے مجھ سے کہا اس میں چڑھتے چلو ہم اس میں چڑھے ہم ایک ایسے شہر کی طرف پہنچے جو سونے اور چاندی کی اونٹینوں سے بنایا گیا تھا ہم اس شہر کے دروازہ پر آئے ہم نے کھولنے کو کہا تو ہمارے لئے کھول دیا گیا ہم اس میں داخل ہوئے اور وہاں بہت سے لوگوں سے ہم نے ملاقات کی ان میں کچھ اپنی تخلیق میں اتنے حسین تھے کہ ان سے بڑھ کر حسین تم نے نہیں دیکھے ۔ اور کچھ اتنے بدصورت تھے کہ ان سے بڑھ کر بدصورت تم نے نہیں دیکھے ۔ دونوں نے ان سے فرمایا تم جاؤ اور اس میں نہر میں اپنارنگ صاف کرلو اچانک یہ نہر چوڑائی میں تھی جو جاری تھی اور اس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں واقع ہوگئے پھر ہماری طرف لوٹ آئے ۔ ان سے ساری بدصورتی چلی گئی اور وہ انتہائی حسین ہوگئے دونوں نے مجھ سے کہا یہ آپ کو محل ہے اور آپ کی منزل ہے میں نے ان سے کہا تم دونوں میں اللہ تعالیٰ برکت دے مجھ کو چھوڑ دو میں اس میں داخل ہوجاؤں دونوں نے کہا ابھی نہیں لیکن تم ضرور اس میں داخل ہوگے۔
جہنم کی خواب میں دیکھنا :
میں نے ان دونوں سے کہا آج کی رات میں نے عجیب و غریب مناظر دیکھے رہیں ۔ وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا دونوں نے مجھ سے کہا پہلا آدمی کہ جس پر ایک آدمی آکر اس کا سر کچل دیتا ہے پتھر کے ساتھ وہ آدمی ہے جو قرآن شروع کرتا پھر اسے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز سے سو جاتا تھا (یعنی نماز نہیں پڑھتا تھا ) اس کے ساتھ قیامت کے دن تک ایسا کیا جاتا رہے گا اور آدمی جو اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک کیونکہ یہ آدمی صبح سویرے نکل کر جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ آفاق میں پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح قیامت کے دن تک کیا جاتا رہے گا اور ننگے مرد اور عورتیں جو سب تنور میں تھے وہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں اور وہ آدمی جو ایسے آدمی کے پاس آتا ہے جو نہر میں تیرتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارتا ہے وہ سود کھانے والا ہے اور روہ بدصورت آدمی جس کے پاس آگ تھی ۔ اس کو سلگاتا تھا وہ داروغہ جہنم مالک تھا اور وہ لمبا آدمی جو باغ میں تھا ۔ وہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) تھے اور وہ لڑکے جو اس کے اردگرد تھے ایسے نومولود بچے تھے جو فطرت پر بھی وفات پاگئے اور وہ قوم جو آدھی ان میں سے خوبصورت تھی اور آدھی ان میں سے بدصورت تھی وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے اعمال ایسے ہی ملا دیئے اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور میں جبرئیل اور یہ میکائل ہیں ۔
15 :۔ الخطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں ابو موسیؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں نے کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کی کھالیں آگ کی کینچوں سے کاٹی جارہی تھیں ۔ میں نے کہا یہ کون ہیں ۔ بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی چیزوں کے ساتھ زیب وزینت کرتے تھے جو ان کے لئے حلال نہیں تھی ۔ اور میں نے ایسا بدبودار خیمہ دیکھا جس میں چیخ و پکار تھی ۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ عورتیں ہیں جو ان کے لئے بناؤ سنگھار کرتی تھیں جو ان کے لئے حلال نہیں تھے ۔ اور میں نے ایک قوم کو دیکھا جو غسل کررہے تھے جنابت کے پانی سے میں نے کہا یہ کون ہیں بتایا یہ وہ قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے کو آپس میں ملا دیا ۔
16 :۔ ابن سعد (رح) نے اسود بن قیس عدی (رح) نے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ ایک دن حبیب بن مسلمہ سے ملے اور فرمایا اے حبیب ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرمانبرداری کے امور کے سوا کے لئے تجھے رب میسر آگیا ہے ۔ اس نے کہا لیکن میری پہنچ آپ کے باب تک ہے اور وہ ایسے نہیں ہیں فرمایا کیوں نہیں لیکن تو نے معاویہ کی اطاعت کی قلیل زائل ہونے والی دنیا کی شرط پر اگر وہ تیرے دنیوی (رح) معاملات میں تیرے ساتھ کھڑے ہیں وہ یقینی طور پر تو وہ تیرے ساتھ بیٹھے گا ۔ تیرے دین میں اور اگر وہ جو تو نے کیا ہے وہ تیرا کام ہے خیر اور بھلائی کی بات ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” خلطو اعملا صالحا واخر سیئا “ لیکن تو اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت ) ” کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون (14) “
خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ (ﷺ) کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور زید بن اسلم کے اقوال سے بھی یہی مقدار نقل کی ہے۔ لیکن بغوی نے لکھا ہے کہ عطیہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کے قول میں ستونوں سے خود بندھ جانے والے لوگوں کی تعداد صرف پانچ بیان کی گئی ہے جن میں ابولبابہ بھی تھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر و زید بن اسلم کے اقوال میں آٹھ اور قتادہ و ضحاک کے اقوال میں سات بیان کی گئی ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) (ایک) جہاد پر تشریف لے گئے مگر ابولبابہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمی پیچھے رہ گئے (جہاد پر نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ نے اور پانچ میں سے دو آدمیوں نے غور کیا ‘ پشیمان ہوئے اور ان لوگوں کو اپنی تباہی (یعنی دین کی بربادی) کا یقین ہوگیا۔ کہنے لگے : ہم تو (ٹھنڈے) سایہ میں عورتوں کے ساتھ چین کریں اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب (دوسرے) مسلمان جہاد میں شریک ہوں (یہ بڑا گناہ ہے) خدا کی قسم ! ہم ستونوں سے خود اپنے کو باندھ دیں گے اور اس وقت تک نہ کھولیں گے جب تک رسول اللہ (ﷺ) خود نہ کھولیں۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تین آدمی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو نہیں بندھوایا تھا (الحدیث) ۔
عبد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے چار یعنی ابو البابہ ‘ مرداس ‘ اوس اور جذام نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔
ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابو الشیخ نے بطریق ثوری از اعمش از ابو سفیان ‘ حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی سے رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ابو البابہ ‘ اوس بن جذام ‘ ثعلبہ بن ودیعہ ‘ کعب بن مالک ‘ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ ابو لبابہ اور ثعلبہ (وغیرہ) نے اپنے آپ کو ستونوں سے بندھوا دیا تھا اور (رہائی کے بعد) اپنے مال لا کر خدمت گرامی میں پیش کئے تھے اور عرض کیا تھا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو لے لیجئے ‘ اسی نے ہم کو آپ کے ہمرکاب جانے سے روکا تھا۔ حضور (ﷺ) نے انہی حضرات کے متعلق فرمایا تھا : میں ان کو نہیں کھولوں گا جب تک اللہ ان کو نہ کھلوائے۔ انہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث کی سند قوی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : تمام روایات حضرت ابو لبابہ کے نام پر متفق ہیں۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آیت کا نزول صرف ابولبابہ کے حق میں ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس میں اختلاف ہے کہ ابو لبابہ کا جرم کونسا تھا جس کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ مجاہد نے کہا : ابولبابہ نے بنی قریظہ سے کہا کہ اگر ان (یعنی حضرت معاذ) کے فیصلہ کی شرط پر راضی ہو کر تم اپنی گڑھی سے نیچے اترے تو (حلق پر انگلی پھیرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ ہوجائے گا ‘ یعنی) ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ہم نے یہ قصہ سورة الانفال کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت ابو لبابہ کا ستون سے خود بندھنا بنی قریظہ کے واقعہ ہی سے متعلق تھا۔
زہری کا قول ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق تبوک کے واقعہ سے ہے۔ میں کہتا ہوں : شاید دونوں قصوروں کی وجہ سے ابولبابہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا ہو۔ اس کی تائید حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے اقوال مندرجۂ بالا سے ہوتی ہے۔ ابن مردویہ نے واقدی کے سلسلہ والی سند سے حضرت ام سلمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابولبابہ کی توبہ (قبول ہونے) کی آیت میرے گھر میں اتری تھی۔ سحر کے وقت میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو ہنستے سنا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہنسی کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی۔ میں نے عرض کیا : کیا میں ان کو اس کی اطلاع دے دوں ؟ فرمایا : تمہاری مرضی۔ میں نے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز دی : ابو لبابہ ! تم کو بشارت ہو ‘ اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ یہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آواز سنتے ہی لوگ ابولبابہ کو کھولنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابولبابہ نے کہا : (ابھی نہیں) رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے آئیں ‘ وہ ہی مجھے کھولیں گے۔ صبح کو جب حضور (ﷺ) گھر سے برآمد ہوئے تو آپ نے جا کر کھولا اور آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْاالخ نازل ہوئی۔
حضرت ام سلمہ کی اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جس قصور کی معافی نازل ہوئی تھی ‘ وہ وہی قصور تھا جو بنی قریظہ کے متعلق حضرت ابو لبابہ سے صادر ہوگیا تھا ‘ کیونکہ تبوک کا جہاد تو پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ہوا تھا۔ لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ ستون سے بندش کا واقعہ دونوں قصوں کے نتیجہ میں قرار دیا جائے کیونکہ روایتیں دونوں صحیح ہیں۔
وصل علیھم اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ صدقہ کا مال لیتے وقت کیا امام پر واجب ہے کہ دینے والے کیلئے دعا کرے ؟ بعض علماء نے نزدیک واجب ہے ‘ بعض کے نزدیک مستحب۔ بعض کے نزدیک واجب زکوٰۃ وصول کرتے وقت تو دعا دینی واجب ہے اور نفل صدقہ کے وصول کرتے وقت مستحب۔ بعض کا قول ہے کہ امام پر واجب ہے۔ مگر فقیر اگر مالدار سے لے تو دینے والے کو دعا دینی مستحب ہے۔
بخاری کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ نے فرمایا (حضرت ابو اوفیٰ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی) کہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں جب لوگ صدقہ کا مال پیش کرتے تھے تو حضور (ﷺ) (دعا دیتے اور) فرماتے : اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما۔ چناچہ میرے باپ نے بھی جب اپنے صدقہ کا مال پیش کیا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لغت میں صلوٰۃ کا معنی ہے : دعاء ‘ رحمت ‘ استغفار اور اللہ کی طرف سے رسول (ﷺ) کی تعریف۔ جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے تو دعا اور استغفار ہوتا ہے۔ آیت میں یہی معنی مراد ہے۔ ایک حدیث آتی ہے جس میں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کھانے کیلئے بلائے تو دعوت قبول کرلینا چاہئے (اور جانا چاہئے) پھر اگر روزہ نہ ہو تو کھا لینا چاہئے اور روزہ دار ہو تو (میزبان کیلئے) صلوٰۃ یعنی دعا کرنا چاہئے۔ رواہ احمد و مسلم وابو داؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ۔
حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ (ﷺ) سے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میرے شوہر کیلئے صلوٰۃ کر دیجئے ‘ یعنی دعائے مغفرت فرما دیجئے۔ حضور (ﷺ) نے دعا کردی۔ اخرجہ احمد۔ اس روایت کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے : جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے تو رحمت اور پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ حضرت ابو اوفیٰ کیلئے رسول اللہ (ﷺ) نے جو دعا کی تھی ‘ اس میں صلوٰۃ سے مراد رحمت ہی ہے۔ ابو داؤد اور نسائی نے حضرت قیس بن سعد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! اپنی صلوٰۃ اور رحمت سعد بن عبادہ کی آل پر کر دے۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ ملائکہ مؤمن کی روح سے کہتے ہیں : تجھ پر اور تیرے بدن پر اللہ کی رحمت ہو۔
احادیث مذکورہ کے الفاظ کی روشنی میں اور لغوی معنی کے پیش نظر یحییٰ بن یحییٰ نے کہا کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی اگر لفظ صلوٰۃ استعمال کرلیا جائے یعنی لفظ صلوٰۃ سے ان کیلئے دعا کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محدثین اور فقہاء اسلام کی اصطلاح ہے کہ لفظ صلوٰۃ انبیاء کیلئے مخصوص ہے ‘ یا ہمارے نبی (ﷺ) کیلئے خاص ہے اور دوسروں کیلئے اس کا استعمال ذیلی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ اسی اصطلاح کی بناء پر امام مالک نے فرمایا : میری رائے میں انبیاء کے سوا دوسروں کے واسطے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مکروہ ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ یہ قول امام مالک اور سفیان کا ہے اور یہی مسلک متکلمین اور فقہاء کا ہے۔ فقہاء اسلام نے کہا : انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے رضاءٍ مغفرت اور رحمت وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں (صلوٰۃ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے) انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال (خلافت راشدہ اور بنی امیہ کے عہد میں) معروف نہ تھا ‘ بنی ہاشم یعنی خلفاء عباسیہ کے دور میں اس کی ایجاد ہوئی (لہٰذا یہ بدعت ہے) ۔
امام ابوحنیفہ اور ایک جماعت کے علماء کا قول ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مستقل طور پر (یعنی تنہا غیرانبیاء کیلئے) درست نہیں ‘ ذیلی طور پر (یعنی انبیاء کے بعد اگر دوسروں کا ذکر آیا ہو تو بالتبع) درست ہے ‘ کیونکہ اہل شریعت کی اصطلاح میں انبیاء خصوصاً رسول اللہ (ﷺ) کی عظمت کے اظہار کیلئے لفظ صلوٰۃ خاص کرلیا گیا ہے ‘ لہٰذا انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے اس کا استعمال جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا : لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔ اسی بناء پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی کی طرف سے سوائے رسول اللہ (ﷺ) کے ‘ کسی اور پر صلوٰۃ بھیجنا (یعنی لفظ صلوٰۃ سے دعا کرنا) مناسب نہیں۔ رواہ ابن ابی شیبۃ من طریق عثمان بن حکیم عن عکرمۃ وہذا سند صحیح۔
بیہقی نے کہا : حضرت ابن عباس کے اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ تعظیم کے طور پر انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ نہ ذکر کیا جائے ‘ اگر دعاء کے طور پر ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ابن قیم نے کہا : پسندیدہ بات یہ ہے کہ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ امہات المؤمنین ‘ آل رسول ‘ ذریات رسول اور تمام اہل طاعت کیلئے بالاجمال (بغیر کسی شخصی تعین اور نام کے) لفظ صلوٰۃ کا استعمال صحیح ہے اور انبیاء کے علاوہ کسی معین شخصیت کیلئے اس کا استعمال مکروہ ہے۔ کسی معین شخصیت کیلئے اگر استعمال کیا جائے گا تو یہ شعار بن جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں تو کراہت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اس لفظ کا (خصوصی) استعمال ایسی شخصیتوں کیلئے کیا جائے جن کے ہم پایہ بلکہ ان سے برتر فضائل رکھنے والے دوسرے افراد ہوں اور ان افضل یا مساوی المرتبہ افراد کیلئے تو لفظ صلوٰۃ استعمال نہ کیا جائے اور دوسروں کیلئے کیا جائے ‘ جیسے رافضی کرتے ہیں۔ کذا قال الحافظ ابن حجر۔
ان صلوتک سکن لھم بیشک تمہاری دعا ان کیلئے رحمت ہے۔ حضرت ابن عباس نے سکَنکا ترجمہ رحمت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے سکون خاطر اور طمانیت قلب ترجمہ کیا ہے ‘ یعنی تمہاری دعا ان کیلئے سکون خاطر اور دل کے ٹھیراؤ کا ذریعہ ہے۔ ان کو اطمینان ہوجائے گا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔
میں کہتا ہوں : پاک باطن اور صاف قلب رکھنے والوں سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو گناہ کی ظلمت ان کے دل پر چھا جاتی ہے اور اندر کچھ تاریکی محسوس ہونے لگتی ہے ‘ لیکن جب اللہ کے رسول (ﷺ) ان کیلئے دعائے مغفرت کردیتے ہیں اور اللہ ان کو معاف کردیتا ہے تو دل کی تاریکی اور گھٹن دور ہوجاتی ہے۔ یا دل کے اندر گناہ کی تاریکی اور گھٹن ایسی ہوتی ہے جیسے معدہ سے بخارات چڑھنے اور اطراف قلب میں جمع ہو کر دل پر دباؤ ڈالنے سے خفقان پیدا ہوجاتا ہے اور جب بخارات کا دباؤ معدہ کی اصلاح سے ختم ہوجاتا ہے تو خفقان جاتا رہتا ہے۔ یہی حالت گناہ سے پیدا ہونے والی تاریکی کی وجہ سے دل کی بےچینی کی ہوتی ہے اور مغفرت کی وجہ سے ان کا زوال ہو کر سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ سچ فرمایا ہے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوجاتا ہے۔
وا اللہ سمیع اور اللہ سننے والا ہے ان کے اعتراف قصور اور ان کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی دعا و استغفار کو۔
علیم۔ خوب واقف ہے ان کی ندامت (اور توبہ) سے۔
بغوی نے (آیت ذیل کے سبب نزول کے متعلق) لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ لوگ جو (سستی یا کسی اور وجہ سے) تبوک کو نہ گئے تھے اور انہوں نے (گناہ کا علی الاعلان اقرار کر کے) توبہ بھی نہیں کی تھی ‘ کہنے لگے : کل تک تو یہ لوگ ہمارے ساتھ تھے ‘ کوئی ان سے میل جول بھی نہیں رکھتا تھا نہ کوئی ان سے بات کرتا تھا۔ اب یہ نئی بات کیا ہوگئی ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور (ﷺ) نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔
صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔
وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔
وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔
اعملوا (جو چاہو) کرو۔
فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔
ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔
مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے گا۔
وستر دون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ اور ضرور تم کو ایسے کے پاس لے جایا جائے گا جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے ‘ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتا دے گا۔
واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا ۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہو سکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ (ﷺ) سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ (ﷺ) تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ مقصد تعمیر یہ ہے کہ جو بیمار یا حاجت مند مسجد گرامی میں حاضر نہیں ہو سکتے ‘ یا سخت سردی کی رات ہو ‘ یا بارش کی رات ہو اور لوگ وہاں سے یہاں حاضر نہ ہو سکیں تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اب تو میں برسر سفر ہوں اور کام میں مشغول ہوں ‘ جب ہم انشاء اللہ واپس آئیں گے تو تمہاری مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ چناچہ آپ جب تبوک سے واپس ہو کر مقام ذی اوان میں اترے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ یہ مقام مدینہ سے ایک گھنٹہ کی راہ کے فاصلہ پر تھا۔