ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابو طالب نے ڈر کر ایسا اقرار کرلیا تو میں یہ کلمہ کہہ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ نے آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَاء نازل فرمائی۔
بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا کا تذکرہ آنے کے وقت فرمایا : شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت (کچھ) فائدہ پہنچائے اور ان کو ٹخنوں ٹخنوں تک آگ میں کردیا جائے جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت مندرجۂ بالا مکہ میں ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔
ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا بھی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کرتے سنا تو میں نے کہا : کیا تو اپنے ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجودیکہ وہ مشرک تھے ؟ اس نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے بھی تو اپنے مشرک باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں کیا۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔
ممکن ہے یہ قصہ بھی ابو طالب کی موت کے واقعہ ہی کے زمانہ میں ہوا ہو (اور دونوں واقعات آیت مذکورہ کے نزول کا سبب ہوں) ۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول رسول اللہ (ﷺ) کی والدہ آمنہ بی بی کے متعلق ہوا تھا۔ ان روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ نہ اس قابل ہے کہ جو قوی روایت ہم نے اوپر ذکر کی ہے (جس میں آیت کا نزول ابو طالب کے متعلق بیان کیا گیا ہے) اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکے ‘ اسلئے ایسی روایات کو قبول نہ کرنا ضروری ہے۔
حاکم نے اور بیہقی نے دلائل میں ایوب بن ہانی کے طریق سے بروایت مسروق ‘ حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (ﷺ) قبرستان تشریف لے گئے ‘ ہم بھی ساتھ گئے۔ آپ نے ہم کو بیٹھ جانے کا حکم دیا ‘ ہم بیٹھ گئے۔ آپ قبروں کو پھلانگتے ہوئے ایک قبر کے پاس پہنچے اور دیر تک کچھ چپکے چپکے قبر سے فرمایا ‘ پھر روتے ہوئے اٹھ گئے۔ آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عمر سامنے آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ کو کس بات سے رونا آگیا ؟ ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے اور گھبرا گئے۔ حضور (ﷺ) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم لوگ گھبرا گئے۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : جس قبر سے تم نے مجھے چپکے چپکے کچھ کہتے دیکھا تھا ‘ وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اس کی زیارت کرنے کی اللہ سے اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے اجازت دے دی۔ پھر میں نے ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی اللہ سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں ملی اور مجھ پر مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے دو آیات نازل ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مجھ پر وہ رقت طاری ہوئی جو ماں کی وجہ سے اولاد پر طاری ہوتی ہے ‘ اسی بات نے مجھے رلایا۔
حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ لیکن ذہبی نے شرح مستدرک میں اس پر گرفت کی ہے اور لکھا ہے کہ ایوب بن ہانی کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) غزوۂ تبوک سے واپس آگئے اور عمرہ کرنے روانہ ہوئے اور عسفان کی گھاٹی سے نیچے اترے تو اپنی والدہ کی قبر پر جا کر فروکش ہوئے۔ اس سے آگے وہی بیان ہے جو حضرت ابن مسعود کی روایت میں آیا ہے۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ ناقابل اعتماد۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) (فتح کے بعد) مکہ میں تشریف لائے تو اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر پہنچ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ آپ کو (ا اللہ کی طرف سے) اجازت مل جائے تو والدہ کیلئے دعائے مغفرت کریں یہاں تک کہ سورج میں گرمی آگئی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ الخ نازل ہوئی۔
ابن سعد اور ابن شاہین نے یہ حدیث حضرت بریدہ کے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے مکہ فتح کرلیا تو اپنی والدہ کی قبر پر گئے اور جا کر بیٹھ گئے۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے جو بغوی نے نقل کئے ہیں۔ ابن سعد نے طبقات میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ غلط ہے۔ حضرت آمنہ کی قبر ابواء میں ہے ‘ مکہ میں نہیں ہے۔
امام احمد اور ابن مردویہ نے حضرت بریدہ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھا۔ مجھے عسفان پر ٹھہرنا پڑا۔ حضور (ﷺ) نے (وہاں) اپنی والدہ کی قبر دیکھی ‘ فوراً وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور رونے لگے۔ پھر فرمایا : میں نے اپنے رب سے ان کیلئے شفاعت کرنے کی اجازت مانگی تھی مگر مجھے ممانعت کردی گئی۔ پھر اللہ نے نازل فرمایا : مَا کَان للنَّبِیِّ الخ ۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کے تمام طرق (روایت) مجروح ہیں۔
حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے : جو شخص حضرت ابن مسعود والی حدیث کو صحیح کہتا ہے ‘ وہ اس کو صحیح لذاتہٖ نہیں کہتا بلکہ اسلئے صحیح کہتا ہے کہ ان طریقوں سے اس کی روایت کی گئی ہے ‘ مگر میں نے ان طریقوں پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تمام طرق روایت مجروح ہیں۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے معلول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صحیحین کی اس روایت کے خلاف ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ میں ابو طالب کے انتقال کے موقع پر ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تھا : میں اپنے باپ کیلئے مغفرت کی دعا اسی طرح کروں گا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کیلئے کی تھی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ ضعیف ہے ‘ صحیحین کی روایت کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس آیت کو دلیل بنا کر حضور (ﷺ) کے والدین کو مشرک قرار دینا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے والدین کو مؤمن ثابت کرنے کیلئے سیوطی نے چند رسائل لکھے ہیں ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک آپ (ﷺ) کے تمام آباء و اجداد و امہات کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ میں نے ان سب کا خلاصہ کر کے اس موضوع پر ایک رسالہ تقدیس آباء النبی (ﷺ) تالیف کردیا ہے۔ اس جگہ اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔
ایک شبہ : صحیحین کی حدیث میں ابو طالب کے انتقال کے وقت ابو جہل کا ابو طالب سے یہ کہنا کہ کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھرجائیں گے اور ابو طالب کا آخری جواب یہ دینا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ‘ بتا رہا ہے کہ عبدالمطلب مشرک تھے (پھر حضور (ﷺ) کے تمام آباؤ اجداد کا موحد ہونا کہاں سے ثابت ہوا) ۔
جواب : اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ عبدالمطلب مشرک تھے ‘ عبدالمطلب یقینامؤمن تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں اپنی خصوصی سندوں سے بیان کیا ہے کہ عبدالمطلب نے رسول اللہ (ﷺ) کی کھلائی ام ایمن سے کہا : اے برکت ! میرے بیٹے کی طرف سے غفلت نہ کر ‘ میں نے بیری کے درخت کے پاس اس کو دیکھا تھا۔ اور اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرا یہ بیٹا اس امت کا پیغمبر ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالمطلب دور جاہلیت میں تھے ‘ آسمانی شریعتوں سے ناواقف تھے۔ وہ زمانہ فترت کا تھا اور فترت کے زمانہ میں صرف توحید کا اقرار کافی ہے (فترت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں گزشتہ پیغمبر کی شریعت مٹ چکی ہو ‘ کالعدم ہو ‘ اصل شریعت گم ہوچکی ہو اور نیا پیغمبر ابھی آیا نہ ہو) تمام شرائع سے عبدالمطلب کی ناواقفیت ابوجہل کو معلوم تھی ‘ اس کی وجہ سے اس کو اور ابو طالب کو یہ خیال قائم کرنے کا موقع ملا کہ عبدالمطلب کے مذہب کے خلاف محمد رسول اللہ (ﷺ) کوئی نیا مذہب پیش کر رہے ہیں اور ان کا جدید دین عبدالمطلب کے دین سے ٹکراتا ہے ‘ اسلئے ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم ﷺ کو ممانعت مسند احمد میں ہے کہ ابو طالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا لا الہ الا للہ کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عز وجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کرسکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھرجائے گا ؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کردیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن (اوپر والی آیت) اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56) 28۔ القصص :56) بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا ؟ فرماتے ہیں میں نے جاکر یہ ذکر نبی ﷺ سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریبا ایک ہزار آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ حضرت عمر ؓ یہ دیکھ کر تاب نہ لاسکے، اٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔ اس پر میری آنکھیں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو ! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہوگئے آپ نے حضرت عمر ؓ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے ؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور (آیت ماکان الخ،) اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیے مجھے ہوا۔ دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہوچکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہوگیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہوجائیے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے بیزار ہوگئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کردی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت002 زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔003 ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔004 ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہوگئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کردیا اور ایمان لائیں پھر مرگئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور حضرت علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دو بار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابو طالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں (لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں) واللہ اعلم۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے حضرت ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب (آیت ماکان استغفار الخ،) میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہوگیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ حضرت ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) تک نازل ہوئی۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کا عذر بیان ہوا اور فرمایا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) مذکور ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دے دے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اسکے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک یہودی مرگیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب حضرت عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے تھی۔ ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) تلاوت فرمائی کہ حضرت ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابو داؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہوسکتی ہے کہ ابو طالب کی موت پر حضرت علی ؓ آکر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مرگئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابو طالب کا جنازہ حضور ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ حضرت عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مرگیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب حضرت ابراہیم سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہوگا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت ابراہیم جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہوگئی ہوگی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ حضور ﷺ سے اواہ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں اواہ مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے اواہ فرمایا۔ (مسند احمد) اواہ سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ اواہ ہے۔ (ابن جریر) اسی ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقینا تو اواہ یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں اوہ اوہ کر رہا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد حضور ﷺ اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ (ابن جریر) یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اواہ یعنی فقیہ " امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کرلیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ ابراہیم اواہ اور حلیم تھے۔