سورہ توبہ: آیت 118 - وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى... - اردو

آیت 118 کی تفسیر, سورہ توبہ

وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اردو ترجمہ

اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAala alththalathati allatheena khullifoo hatta itha daqat AAalayhimu alardu bima rahubat wadaqat AAalayhim anfusuhum wathannoo an la maljaa mina Allahi illa ilayhi thumma taba AAalayhim liyatooboo inna Allaha huwa alttawwabu alrraheemu

آیت 118 کی تفسیر

وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔

عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔

شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس غزوہ پر بھی رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے گئے ‘ میں کسی غزوہ میں حضور (ﷺ) کے ساتھ سے سوائے غزوۂ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوۂ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا (اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مؤاخذہ نہ تھا کیونکہ ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ (ﷺ) قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے (لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈبھیڑ ہوگئی۔ میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا (یعنی تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کی تھی ‘ میں بھی موجود تھا) وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہد و پیمان کیا تھا۔ اگرچہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔

میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوۂ تبوک کے زمانہ میں میں بڑا طاقتور اور فراخ حال تھا ‘ اس سے پہلے کبھی میں اتنا مرفہ الحال اور طاقتور نہ ہوا۔ اس زمانہ میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں ہوئیں ‘ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور توریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے : لڑائی خفیہ تدبیر (کا نام) ہے۔ جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی ‘ سفر طویل تھا ‘ راستہ میں بیابان تھے ‘ دشمنوں کی تعداد بہت تھی ‘ اسلئے رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرما دیا تھا اور اپنے رخ کی صحیح اطلاع دے دی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں ۔ مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بہت تھی۔ بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے۔ حاکم نے اکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی۔ ابو زرعہ نے کہا : کسی کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے۔ زہری نے کہا : کتاب سے مراد رجسٹر ہے۔ جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا ‘ وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ آئے ‘ میرا معاملہ پوشیدہ ہے (کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا) حضور (ﷺ) نے غزوۂ تبوک کا ارادہ ایسے وقت کیا جب پھل اور (درختوں کے) سائے خوشگوار ہوگئے تھے۔ حضور (ﷺ) اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاریاں کرلیں اور جمعرات کے دن روانہ ہوگئے۔ آپ سفر پر خواہ جہاد کا ہو یا کسی اور غرض سے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی پسند فرماتے تھے۔ میں بھی (روزانہ) صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا مگر بغیر کچھ کئے واپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا : مجھ میں استطاعت ہے ‘ جب چاہوں گا فوراً کرلوں گا۔ یونہی وقت ٹلتا رہا ‘ یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں اپنی کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور (ﷺ) کے بعد ایک دو روز میں تیاری مکمل کر کے پیچھے سے جا پہنچوں گا۔ مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کیلئے صبح کو نکلا ‘ مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا۔ پھر دوسرے روز صبح کو نکلا ‘ تب بھی کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح مدت بڑھتی گئی ‘ یہاں تک کہ لوگ دور چلے گئے اور تیزی کے ساتھ جہاد کی طرف بڑھ گئے اور میں ارادہ ہی کرتا رہا کہ (جلد) کوچ کر کے ان کو پیچھے سے جا لوں گا۔ کاش ! میں نے ایسا کرلیا ہوتا ‘ مگر میرے مقدر میں ہی نہیں تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی روانگی کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں کو دیکھتا تھا تو گھومنے کے بعد مجھے یا تو صرف وہ لوگ نظر آتے تھے جو منافق کہے جاتے تھے یا وہ کمزور لوگ دکھائی دیتے تھے جن کو اللہ نے معذور بنا دیا تھا ‘ اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ تبوک پہنچنے تک رسول اللہ (ﷺ) نے میرا تذکرہ نہیں کیا۔ تبوک پہنچ کر ایک روز آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریافت فرمایا : کعب بن مالک کو کیا ہوگیا ؟ بنی سلمہ کے یا میری قوم کے ایک آدمی نے (جس کا نام حسب روایت محمد بن عمر ‘ عبد اللہ بن انیس سلمی تھا) کہا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور (غرور و فخر کے ساتھ) اپنے دونوں پہلوؤں پر دیکھنے نے نہیں آنے دیا (یعنی آجکل وہ مرفہ الحال ہے ‘ ایک چادر باندھتا ہے ‘ ایک اوڑھتا ہے اور دونوں طرف گردن موڑ موڑ کر اپنے مونڈھوں کو دیکھتا ہے ‘ اسی وجہ سے وہ نہ آسکا) حضرت معاذ بن جبل یا ابو قتادہ نے کہا : تم نے بری بات کہی (ایسا نہیں ہے) یا رسول اللہ (ﷺ) ! خدا کی قسم ‘ میں نے اس کے اندر سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں پایا۔ رسول اللہ (ﷺ) خاموش ہوگئے۔

حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : جب مجھے اطلاع ملی کہ رسول اللہ (ﷺ) واپس آنے کیلئے چل پڑے ہیں تو مجھے بڑی فکرہوئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے پیش کرنے کیلئے عذر بنانے لگا اور ایسی بات کی تیاری کرنے لگا کہ کل کو رسول اللہ (ﷺ) کی ناراضگی سے میں کس طرح بچ سکوں گا۔ مختلف اہل الرائے اور گھر والوں سے میں نے اس معاملہ میں مدد بھی لی۔ پھر جب مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ (ﷺ) قریب ہی آپہنچے ہیں تو میرے دل سے تمام غلط خیالات جاتے رہے اور میں سمجھ گیا کہ جس بات میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی ‘ اس کے ذریعہ سے میں ناراضگی سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چناچہ میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یقین کرلیا کہ سچائی ہی مجھے نجات دے سکتی ہے۔ صبح کو حضور (ﷺ) تشریف لے آئے۔

ابن سعد نے کہا : رمضان میں (واپس پہنچے) کعب نے کہا : کہ رسول اللہ (ﷺ) جب (سفر سے واپس) آتے تھے تو دن چڑھے مدینہ میں پہنچتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے ‘ پھر وہیں بیٹھ جاتے تھے ‘ پھر وہاں سے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ اس کے بعد امہات المؤمنین کے ہاں جاتے تھے۔ حسب دستور آپ نے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی ‘ پھر وہیں لوگوں کے (معاملات سننے کے) لئے بیٹھ گئے۔ اب تبوک کی شرکت سے رہنے والے لوگ آنے لگے اور (اپنے اپنے) عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ سب لوگ کچھ اوپر اسی تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرلیا ‘ ان سے بیعت لے لی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ جب میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ مسکرا دئیے ‘ مگر مسکراہٹ غصہ آلود تھی اور فرمایا : آؤ۔ میں چلتا چلتا سامنے پہنچ کر بیٹھ گیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ کعب نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ نے میری طرف سے کیوں منہ پھیرلیا ؟ وا اللہ ! میں منافق نہیں ہوں ‘ نہ مجھے (اسلام کی صداقت میں) کوئی شک ہے ‘ نہ میں (عقیدۂ اسلام سے) بدل گیا ہوں۔ فرمایا : پھر تم (ساتھ جانے سے) کیوں رہ گئے ‘ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟ میں نے عرض کیا : بیشک (میں نے سواری بھی خرید لی تھی) یا رسول اللہ (ﷺ) ! اگر میں کسی اور دنیا دار کے پاس اس وقت بیٹھا ہوتا تو خدا کی قسم ! کوئی عذر معذرت کر کے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھ میں قوت کلامیہ (اور دلیل کی طاقت) موجود ہے ‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر میں آپ کے سامنے جھوٹ بنا بھی دوں گا اور آپ راضی بھی ہوجائیں گے تب بھی عنقریب اللہ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر سچ سچ کہہ دوں گا تو گو آپ ناراض ہوجائیں گے مگر امید ہے کہ اللہ مجھے معاف فرما دے گا۔ بخدا ! مجھے کوئی عذر نہ تھا ‘ نہ اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور فراخ حال (کبھی ہوا) تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اس نے سچی بات کہہ دی۔ اب تم اٹھ جاؤ اور اللہ جو کچھ چاہے گا ‘ تمہارے متعلق فیصلہ کر دے گا۔

میرے سچ بولنے کی وجہ سے بنی سلمہ کے کچھ لوگ برانگیختہ ہوگئے اور کہنے لگے : تو نے اس سے پہلے تو کوئی جرم کیا نہ تھا ‘ نہ اتنا کمزور تھا کہ جس طرح دوسرے شرکت نہ کرنے والوں نے اپنی عدم شرکت کے عذر کئے (اور عتاب سے بچ گئے) تو کوئی عذر نہ پیش کرسکتا (آئندہ) رسول اللہ (ﷺ) کی دعائے مغفرت تیرے (اس) گناہ کے معاف ہونے کیلئے کافی تھی۔ غرض وہ برابر مجھے ڈانٹتے اور سرزنش کرتے رہے اور اتنی سرزنش کی کہ میرا ارادہ ہوگیا کہ دوبارہ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کر دوں ‘ لیکن میں نے کہہ دیا : مجھ سے دو جرم یکجا نہیں ہو سکتے کہ جہاد میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بھی نہیں گیا اور اب حضور (ﷺ) سے جھوٹ بھی بولوں۔

پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا : کیا میرے ساتھ ایسا کوئی اور بھی ہے جو تبوک کو نہیں گیا ہو (اور اس نے کوئی عذر تراشی بھی نہ کی ہو) لوگوں نے کہا : ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی بات کہی تھی جیسی تو نے کی تھی اور ان کو بھی وہی ہدایت کی گئی جو تجھے کی گئی۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقضی۔

ابن ابی حاتم نے حسن تابعی کی مرسل روایت سے بیان کیا ہے کہ اوّل الذکر کے نہ جانے کی وجہ تو یہ ہوئی کہ ان کا ایک باغ تھا جو کھل چکا تھا (یعنی اس میں خوشے لٹک رہے تھے) انہوں نے اپنے دل میں کہا : اس سے پہلے میں (بہت) جہاد کرچکا ہوں ‘ اگر اس سال اپنے گھر ٹھہرا رہوں تو کیا حرج ہے۔ لیکن جب ان کو اپنے اس جرم کا احساس ہوا تو کہنے لگے : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اس کو تیری راہ میں خیرات کرتا ہوں (اسی نے مجھے جانے سے روکا ہے) اور دوسرے صاحب کا واقعہ یہ ہوا کہ ان کے گھر والے کہیں (سفر میں) منتشر تھے ‘ لوٹ کر آئے تو کہنے لگے : اس سال (جہاد کو) نہ جاؤ ‘ ہمارے پاس رہو (تو کوئی حرج نہیں) ان کو بھی اپنے جرم کا احساس ہوا تو انہوں نے (ا اللہ سے عہد کیا اور) کہا : اے اللہ ! مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنے گھر والوں کے اور مال کے پاس لوٹ کر نہ جاؤں گا (تاوقتیکہ تیرا جدید حکم نہ ہو)

حضرت کعب کا بیان ہے : لوگوں نے میرے سامنے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور جن کی پیروی کی جاسکتی تھی۔ ان کا نام سن کر میں اپنی سابق بات پر قائم رہا۔ جو لوگ تبوک کو نہیں گئے تھے ‘ ان میں سے صرف ہم تینوں سے ہی رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو کلام کرنے کی ممانعت فرما دی۔ لوگ اس فرمان کے بعد ہمارے لئے بالکل بدل گئے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں آیا ہے : ہم صبح کو لوگوں میں نکلتے تھے مگر کوئی ہم سے سلام کلام نہیں کرتا تھا ‘ نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ عبدالرزاق کی روایت ہے : لوگ ایسے بدل گئے کہ گویا وہ ہم کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ درو دیوار اجنبی ہوگئے ‘ وہ در و دیوار ہی نہ رہے جن کو ہم پہچانتے تھے۔ میرے لئے سب سے زیادہ رنج آفریں یہ خیال تھا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو رسول اللہ (ﷺ) میرے جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھیں گے اور اگر اسی دوران میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوگئی تو میری یہی حالت قائم رہے گی کہ نہ کوئی مجھ سے کلام کرے گا نہ میرے جنازے کی نماز پڑھے گا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ وہ سرزمین ہی میرے لئے اجنبی ہوگئی ‘ وہ بستی وہ نہ رہی جو میری شناسا تھی۔ یہ حالت پچاس رات قائم رہی۔ میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے ‘ وہ گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں طاقتور اور جوان تھا ‘ گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا مگر کوئی مجھ سے کلام سلام نہیں کرتا تھا۔ نماز کے بعد جب رسول اللہ (ﷺ) صحابہ کے جلسہ میں بیٹھے ہوتے تو میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور دل میں کہتا : کیا حضور (ﷺ) نے سلام کا جواب دینے کیلئے لب مبارک ہلائے یا نہیں ‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ کے پاس پہنچ کر (دانستہ) نماز پڑھتا اور کن انکھیوں سے دیکھتا رہتا (کہ حضور (ﷺ) کی توجہ میری طرف ہوئی یا نہیں ( جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو حضور (ﷺ) میری طرف منہ کرلیتے ‘ لیکن جب میں التفات نظر کرتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔ جب مدت تک لوگ مجھ سے یونہی دور دور رہے تو ایک روز دیوار پھلانک کر میں ابوقتادہ کے پاس ان کے باغ میں پہنچ گیا۔ ابو قتادہ میرے چچا زاد تھے ‘ یعنی قبیلۂ بنی سلمہ سے تھے ‘ میرے باپ کے بھائی کے بیٹے نہ تھے۔ مجھے ان سے بڑی محبت تھی۔ میں نے ان کو سلام کیا مگر خدا کی قسم ! انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : ابو قتادہ ! یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ابو قتادہ خاموش رہے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے ‘ کوئی بات نہیں کی۔ تیسری یا چوتھی بار کہنے کے بعد انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب معلوم ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور لوٹ کر دیوار پھلانگ کر میں آگیا۔ ایک روز میں بازار میں جا رہا تھا کہ علاقۂ شام کا رہنے والا ایک دیہاتی نظر پڑا ‘ یہ شخص غلہ لے کر مدینہ میں بیچنے آیا تھا۔ کسی سے اس نے پوچھا : مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیا۔ وہ میرے پاس آیا اور ایک خط مجھے دیا جو شاہ غسان کی طرف سے تھا (یعنی بادشاہ شام کی طرف سے) ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ میرے قبیلہ کا کوئی آدمی شام میں تھا ‘ اس نے بھیجا تھا۔ خط ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس میں لکھا تھا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم کو دور کردیا ہے اور پرے پھینک دیا ہے اور اللہ نے تم کو ایسا نہیں بنایا کہ ذلت کے مقام میں رہو اور تمہارا حق ضائع کیا جاتا رہے ‘ اسلئے اگر تم سکونت منتقل کرنا چاہتے ہو تو ہم سے آ ملو ‘ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ خط پڑھ کر میں نے کہا : یہ بھی (ا اللہ کی طرف سے) آزمائش ہے کہ کافر بھی میرا لالچ کرنے لگے (میری ذات کافروں کے لالچ کی جولان گاہ بن گئی) پھر میں نے تحریر کو تنور میں جھونک دیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت کعب نے رسول اللہ (ﷺ) سے اپنی حالت کا شکوہ کیا اور عرض کیا : آپ کی مجھ سے روگردانی اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مشرک میرا لالچ کرنے لگے۔

جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گذر گئیں تو اچانک رسول اللہ (ﷺ) کا ایک قاصد میرے پاس پہنچا۔ محمد بن عمر نے اس قاصد کا نام خزیمہ بن ثابت بتایا ہے ‘ یہی قاصد مرارہ اور ہلال کے پاس بھی گیا۔ قاصد نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے تم کو حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔ میں نے کہا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور ؟ اس نے کہا : طلاق کا حکم نہیں ہے۔ اس سے الگ رہو ‘ قربت نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی حکم پہنچا۔ حسب الحکم میں نے اپنی بیوی سے کہا : اپنے گھر چلی جا اور فیصلہ قطعی ہونے تک وہیں رہ۔ ہلال بن امیہ کی بیوی یعنی خولہ بنت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے ‘ اپنا کام خود نہیں کرسکتا اور اس کا کوئی خادم بھی نہیں ہے۔ کیا اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو آپ کی ناگواری کا باعث ہوگا ؟ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بوڑھا ہے ‘ نظر بہت کمزور ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : نہیں (کام کردینے کی ممانعت نہیں ہے) مگر وہ تجھ سے قربت نہ کرے۔ عورت نے کہا : خدا کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی حس ہی نہیں ہے۔ جب سے اس کا یہ واقعہ ہوا ہے ‘ برابر آج تک رونے میں مشغول ہے۔ حضرت کعب کا بیان ہے : مجھ سے بھی میرے کسی گھر والے نے کہا : اگر ہلال بن امیہ کی بیوی کی طرح تم بھی اپنی بیوی کیلئے رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت لے لو کہ وہ تمہاری خدمت کردیا کرے تو مناسب ہے۔ میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ کیا معلوم حضور (ﷺ) کیا فرمائیں اور میں تو جوان آدمی ہوں (مجھے دوسرے سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے) اسی حالت میں دس راتیں اور گذر گئیں اور پچاس راتیں پوری ہوگئیں۔

عبدالرزاق کی روایت میں حضرت کعب کا قول آیا ہے : ایک تہائی رات کے وقت ہماری توبہ قبول ہونے کی آیت رسول اللہ (ﷺ) پر نازل ہوئی۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا کعب بن مالک کو ہم بشارت دے دیں۔ فرمایا : (اس وقت قبول توبہ کی اطلاع دو گی) تو لوگ تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور باقی رات میں سونے نہ دیں گے (فجر کو اطلاع دے دینا) ۔

کعب کا بیان ہے : پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر (بیٹھا) تھا اور میری حالت وہ تھی جو اللہ نے بیان فرمائی ہے (ضاقت علیھم الارض بما رحبت) زمین باوجود فراخ ہونے کے میرے لئے تنگ ہوگئی تھی۔ یکدم ایک چیخنے والے کی آواز سنائی دی جو کوہ سلع پر چڑھ کر انتہائی اونچی آواز سے چیخا تھا : اے کعب بن مالک ! تجھے خوش خبری ہو۔ محمد بن عمر کی روایت ہے کہ کوہ سلع پر چڑھنے والے حضرت ابوبکر تھے ‘ آپ نے ہی پکار کر کہا تھا : اللہ نے کعب پر رحم فرما دیا۔ اے کعب ! خوش ہوجا۔ عقبہ کی روایت ہے کہ دو آدمی دوڑے ہوئے حضرت کعب کو بشارت دینے کیلئے گئے ‘ ایک آگے بڑھ گیا۔ جو پیچھے رہ گیا تھا ‘ وہ کوہ سلع پر چڑھ گیا اور وہیں سے اس نے ندا کی : اے کعب ! توبہ قبول ہونے کی تجھے بشارت ہو۔ اللہ نے تم لوگوں کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا۔

اہل تاریخ کا خیال ہے کہ بشارت دینے کیلئے دوڑنے والے یہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر و حضرت عمر تھے۔

حضرت کعب کا بیان ہے : آواز سنتے ہی میں سجدہ میں گر پڑا اور خوشی سے رونے لگا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا۔ لوگ ہم کو بشارت دینے کیلئے آگئے۔ کچھ اور لوگ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے کیلئے پہنچے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا۔ محمد بن عمر نے کہا : یہ حضرت زبیر بن عوام تھے۔ قبیلۂ اسلم کا ایک اور شخص بھی دوڑ پڑا مگر گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے مجھے آواز پہنچ گئی تھی ‘ اسلئے جب وہ شخص آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی ‘ یعنی حمزہ اسلمی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دئیے۔ خدا کی قسم ! میرے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کپڑے ہی نہ تھے۔ ابو قتادہ (بروایت محمد بن عمر) سے دو کپڑے عاریتہ لے کر میں نے پہنے۔ ہلال بن امیہ کو قبول توبہ کی خوشخبری دینے سعید بن زید گئے تھے۔ ہلال نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ‘ مسلسل روزے رکھ رہے تھے اور برابر رونے میں مشغول تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتے ‘ ان کی جان نکل جائے گی۔ مرارہ بن ربیع کو بشارت سلکان بن سلامہ نے دی۔ یہ سلامہ بن وقش کے باپ تھے۔

حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے روانہ ہوا۔ راستہ میں لوگوں کے گروہ در گروہ مبارک باد دینے کیلئے مجھ سے ملتے رہے۔ آخر میں مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ (ﷺ) بیٹھے ہوئے تھے ‘ گرداگرد لوگ بھی موجود تھے۔ مجھے دیکھ کر طلحہ بن عبیدا اللہ اٹھے اور لپک کر میری طرف بڑھے ‘ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے طلحہ کے اور کوئی نہیں اٹھا۔ میں طلحہ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔ رسول اللہ (ﷺ) کا چہرۂ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ میں نے سلام کیا ۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : جب سے تو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ‘ اس وقت سے آج تک ہر دن سے بہتر دن کی تجھے بشارت ہو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے ‘ یا اللہ کی طرف سے ؟ فرمایا : نہیں ‘ اللہ کی طرف سے ہے۔ تم لوگوں نے اللہ سے سچا معاملہ کیا ‘ اللہ نے بھی تم کو سچا قرار دیا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی عادت تھی کہ خوشی کے وقت آپ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ‘ معلوم ہوتا تھا چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم دیکھ کر پہچان لیتے تھے (کہ حضور (ﷺ) اس وقت خوش ہیں) جب میں سامنے بیٹھا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میری توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنے کل مال سے دستبردار ہوجاؤں اور بطور صدقہ اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں پیش کر دوں۔ فرمایا : کچھ مال اپنے لئے بھی روک رکھو ‘ تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : اچھا ! نصف مال (سے دستبردار ہوتا ہوں) فرمایا : نہیں۔ میں نے عرض کیا : تو ایک تہائی (قبول کرلیجئے) فرمایا : اچھا۔ میں نے عرض کیا : تو خیبر میں جو میرا حصہ ہے ‘ میں اس کو روکے رکھتا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھے نجات دی ہے ‘ لہٰذا میری توبہ کا تتمہ یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ سچ ہی بولوں گا۔ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے جو کرم اللہ نے مجھ پر کیا ہے ‘ کسی اور پر اس سے بہتر احسان کیا ہوگا۔ چناچہ اس عہد کے بعد آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور امید ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ اللہ جھوٹ بولنے سے مجھے محفوظ رکھے گا۔

اللہ نے توبہ قبول فرمانے کیلئے سلسلہ میں لَقَدْ تَاب اللّٰہُ علَی النَّبِیِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ ..... سے ..... وَکُوْنَوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ تک آیات نازل فرمائیں۔ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی ‘ اس کے بعد سے کوئی اس نعمت سے بڑی نہیں عنایت کی جو رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے سچ کہنے سے مجھے ملی۔ اگر میں جھوٹ بول دیتا تو میں بھی ان لوگوں کی طرح تباہ ہوجاتا جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اور اللہ نے بدترین الفاظ میں ان کا ذکر کیا۔ فرمایا : سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ ...... فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ ۔

کعب نے فرمایا : جن لوگوں نے قسمیں کھالی تھیں اور رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے عذر کو قبول فرما لیا تھا اور ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کردی تھی ‘ ہم تینوں کا معاملہ ان کے معاملہ سے پیچھے رکھا گیا تھا۔ ہمارے معاملہ کو اللہ کے فیصلہ تک رسول اللہ (ﷺ) نے ملتوی رکھا تھا۔ آیت وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا میں پیچھے چھوڑ دینے سے مراد جہاد سے پیچھے چھوڑ دینا نہیں ہے بلکہ ان معذرت کرنے والوں کے معاملہ سے ہمارے معاملہ کو پیچھے چھوڑ دینا اور ہمارے فیصلہ کو ملتوی رکھنا مراد ہے۔

حتی اذا ضاقت علیھم الاض بما رحبت یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخ اور لمبی چوڑی ہونے کے (ساتھیوں کی بےرخی کرنے کی وجہ سے) ان پر تنگ ہوگئی۔ کسی پر زمین تنگ ہوجانا ایک محاورہ ہے جو شدت حیرت کی تصویرکشی کرتا ہے یعنی وہ لوگ اپنے معاملہ میں اتنے حیران و پریشان تھے کہ ان کو اپنی بےچینی اور پریشانی دور کرنے کا کوئی مقام ہی اتنی لمبی چوڑی زمین میں میسر نہ تھا۔

وضاقت علیھم انفسھم اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے۔ یعنی ان کے دل انتہائی وحشت اور غم کی وجہ سے اتنے تنگ ہوگئے کہ انس و مسرت کی ان میں گنجائش ہی نہیں رہی۔

وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ (کی ناراضگی و غضب) سے بچنے کا کوئی ٹھکانا سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ اسی سے مغفرت کی دعاء کی جائے۔

ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

لیتوبوا تاکہ توبہ پر قائم رہیں۔ اس جگہ توبہ سے مراد ہے توبہ پر قائم رہنا ‘ کیونکہ توبہ تو وہ پہلے کرچکے تھے (توبہ کے بعد توبہ کے کوئی معنی نہیں) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی تاکہ توبہ کرنے والوں کے گروہ میں وہ شامل ہوجائیں۔

ابوبکر وراق نے کہا : خالص اور سچی توبہ یہ ہے کہ اگر گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر یہ لمبی چوڑی زمین تنگ ہوجائے اور دل میں سخت بےچینی اور گھبراہٹ پیدا ہوجائے ‘ جیسے ان تینوں حضرات کی توبہ تھی۔

ان اللہ ھو التواب الرحیم۔ بیشک اللہ بہت توجہ فرمانے والا اور بڑا مہربان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ رات میں (توبہ قبول فرمانے کیلئے) اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا (دن میں) توبہ کرلے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب سورج مغرب سے برآمد ہوگا (یعنی قیامت تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا ‘ جب سورج مغرب سے نکلے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا) رواہ مسلم۔

حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر کسی بیابان صحراء میں (سفر کی حالت میں) تم میں سے کسی کی سواری کی اونٹنی گم ہوجائے اور اونٹنی پر ہی اس مسافر کے کھانے پینے کا سب سامان ہو اور ڈھونڈ کر ناامید ہو کر یہ شخص کسی درخت کے سایہ میں لیٹ کر سو جائے ‘ پھر اچانک اس کی آنکھ کھل جائے تو اونٹنی کو اپنے پاس کھڑا پائے اور فوراً اونٹنی کی نکیل پکڑ لے اور انتہائی خوشی کی وجہ سے (زبان بےقابو ہوجائے) اور بول اٹھے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ اس مسافر کو اونٹنی کے دستیاب ہونے سے جتنی خوشی ہوتی ہے ‘ اس سے زیادہ خوشی اللہ کو بندہ کے توبہ کرنے سے ہوتی ہے ‘ جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے۔ رواہ مسلم۔ توبہ اور قبول توبہ کی احادیث بہت آئی ہیں۔

آیت 118 وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ط یہ تین صحابہ کعب رض بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رض کے لیے اعلان معافی ہے۔ ان تین اصحاب رض کا ذکر آیت 106 میں ہوا تھا اور وہاں ان کے معاملے کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ پچاس دن کے معاشرتی مقاطعہ کی سزا کے بعد ان کی معافی کا بھی اعلان کردیا گیا اور انہیں اس حکم کی صورت میں قبولیت توبہ کی سند عطا ہوئی۔حَتّٰیٓ اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ الآَّ اِلَیْہِ ط یہ ایسی کیفیت ہے کہ کوئی بچہ ماں سے پٹتا ہے مگر اس کے بعد اسی سے لپٹتا ہے۔ اللہ کے بندوں پر بھی اگر اللہ کی طرف سے سختی آتی ہے ‘ کوئی سزا ملتی ہے تو نہ صرف وہ اس سختی کو خوش دلی اور صبر سے برداشت کرتے ہیں ‘ بلکہ پناہ کے لیے رجوع بھی اسی کی طرف کرتے ہیں ‘ کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ انہیں پناہ ملے گی تو اسی کے حضور ملے گی ‘ ان کے دکھوں کا مداوا ہوگا تو اسی کی جناب سے ہوگا۔ علامہ اقبال ؔ نے اس حقیقت کو کیسے خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنایا ہے : ؂نہ کہیں جہاں میں اماں ملی ‘ جو اماں ملی تو کہاں ملی مرے جرم خانہ خراب کو ‘ ترے عفو بندہ نواز میں تا کہ وہ اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرلیں اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرلیں۔

جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو دو اونٹنیاں تھیں۔ حضور ﷺ جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کردیا کہ وہ پوری پوری تیاری کرلیں۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آسکے۔ پس کوئی باز پرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور آنحضرت ﷺ پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔ ہاں اللہ کی وحی آجائے یہ تو بات ہی اور ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ اور خود حضور تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کرلوں لیکن ادھر ادھر شام ہوجاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کرلوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آگیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے میں نے کہا خیر دور ہوگئے اور کئی دن ہوگئے تو کیا میں تیز چل کر جا ملوں گا لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ ﷺ نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا آپ یہ درست نہیں فرما رہے یارسول اللہ ﷺ ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔ حضور ﷺ خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر حضور ﷺ کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مدینے شریف کے قریب آگئے تو میں دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہوگیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا۔ صاف صاف سچ سچ بات کہہ دونگا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسب عادت پہلے مسجد میں آئے دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے۔ اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والے آنے لگے اور عذر معذرت حیلے بہانے کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی سے کچھ اوپر اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد اللہ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لیے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ ﷺ نے غصے کے ساتھ تبسم فرمایا اور مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کیسے رک گئے ؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج اگر جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہوگیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج میرے سچ کی بناء پر اگر آپ مجھے سے بگڑے تو ہوسکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔ حضور ﷺ سچ تو یہ ہے کہ واللہ مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرست تھی اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تو سچا ہے۔ اچھا تم جاؤ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہوگا۔ میں کھڑا ہوگیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن عجب ہے کہ تم نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر آنحضرت ﷺ تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور حضور ﷺ کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کردوں۔ پھر میں نے پوچھا کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔ میں نے کہا وہ کون کون ہیں انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہوگیا اور گھر چلا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہوگئے کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دو بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکان میں بیٹھ رہے باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبیعت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ ہاں مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ حضور ﷺ لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب آپ ﷺ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کنکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کردیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں ؟ اس نے خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت غمگین ہو کر پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار میں جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتادیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔ میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ ہم ہر طرح کی خدمت گذاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گذر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آرہا ہے اس نے آکر آپ ﷺ کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کردے ہاں حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کردیا کروں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔ انہوں نے کہا واللہ ان میں تو حرکت کی سکت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کرلو جتنی حضرت ہلال کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں حضور ﷺ سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں ؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔ دس دن اس بات پر بھی گزر گئے اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک خوش ہوجا۔ واللہ میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آگئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آرہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آگئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر حضور ﷺ تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت طلحہ بن عبداللہ ؓ کھڑے ہوگئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ حضرت کعب حضرت طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول ﷺ اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ حضور ﷺ کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے (آیت لقد تاب اللہ) سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہوجاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا (آیت سیحلفون باللہ لکم الخ،) یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کرلو۔ اچھا تم چشم پوشی کرلو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہوگا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہوجاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کرلی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔ اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑگیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ (آیت وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا) ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ موخر کردینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمد اللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے ؓ اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع ؓ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو حضرت کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہوجاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔ مسند احمد میں ہے رسول للہ ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کرلو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو ؟ بقول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سچوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بےرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔

آیت 118 - سورہ توبہ: (وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت وضاقت عليهم أنفسهم وظنوا أن لا ملجأ من الله...) - اردو