سورہ توبہ (9): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ توبہ کے بارے میں معلومات

Surah At-Tawba
سُورَةُ التَّوۡبَةِ
صفحہ 206 (آیات 118 سے 122 تک)

وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌ صَٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ۞ وَمَا كَانَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا۟ كَآفَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا۟ فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا۟ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
206

سورہ توبہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ توبہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAala alththalathati allatheena khullifoo hatta itha daqat AAalayhimu alardu bima rahubat wadaqat AAalayhim anfusuhum wathannoo an la maljaa mina Allahi illa ilayhi thumma taba AAalayhim liyatooboo inna Allaha huwa alttawwabu alrraheemu

وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔

عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔

شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس غزوہ پر بھی رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے گئے ‘ میں کسی غزوہ میں حضور (ﷺ) کے ساتھ سے سوائے غزوۂ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوۂ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا (اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مؤاخذہ نہ تھا کیونکہ ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ (ﷺ) قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے (لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈبھیڑ ہوگئی۔ میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا (یعنی تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کی تھی ‘ میں بھی موجود تھا) وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہد و پیمان کیا تھا۔ اگرچہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔

میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوۂ تبوک کے زمانہ میں میں بڑا طاقتور اور فراخ حال تھا ‘ اس سے پہلے کبھی میں اتنا مرفہ الحال اور طاقتور نہ ہوا۔ اس زمانہ میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں ہوئیں ‘ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور توریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے : لڑائی خفیہ تدبیر (کا نام) ہے۔ جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی ‘ سفر طویل تھا ‘ راستہ میں بیابان تھے ‘ دشمنوں کی تعداد بہت تھی ‘ اسلئے رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرما دیا تھا اور اپنے رخ کی صحیح اطلاع دے دی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں ۔ مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بہت تھی۔ بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے۔ حاکم نے اکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی۔ ابو زرعہ نے کہا : کسی کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے۔ زہری نے کہا : کتاب سے مراد رجسٹر ہے۔ جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا ‘ وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ آئے ‘ میرا معاملہ پوشیدہ ہے (کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا) حضور (ﷺ) نے غزوۂ تبوک کا ارادہ ایسے وقت کیا جب پھل اور (درختوں کے) سائے خوشگوار ہوگئے تھے۔ حضور (ﷺ) اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاریاں کرلیں اور جمعرات کے دن روانہ ہوگئے۔ آپ سفر پر خواہ جہاد کا ہو یا کسی اور غرض سے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی پسند فرماتے تھے۔ میں بھی (روزانہ) صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا مگر بغیر کچھ کئے واپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا : مجھ میں استطاعت ہے ‘ جب چاہوں گا فوراً کرلوں گا۔ یونہی وقت ٹلتا رہا ‘ یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں اپنی کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور (ﷺ) کے بعد ایک دو روز میں تیاری مکمل کر کے پیچھے سے جا پہنچوں گا۔ مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کیلئے صبح کو نکلا ‘ مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا۔ پھر دوسرے روز صبح کو نکلا ‘ تب بھی کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح مدت بڑھتی گئی ‘ یہاں تک کہ لوگ دور چلے گئے اور تیزی کے ساتھ جہاد کی طرف بڑھ گئے اور میں ارادہ ہی کرتا رہا کہ (جلد) کوچ کر کے ان کو پیچھے سے جا لوں گا۔ کاش ! میں نے ایسا کرلیا ہوتا ‘ مگر میرے مقدر میں ہی نہیں تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی روانگی کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں کو دیکھتا تھا تو گھومنے کے بعد مجھے یا تو صرف وہ لوگ نظر آتے تھے جو منافق کہے جاتے تھے یا وہ کمزور لوگ دکھائی دیتے تھے جن کو اللہ نے معذور بنا دیا تھا ‘ اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ تبوک پہنچنے تک رسول اللہ (ﷺ) نے میرا تذکرہ نہیں کیا۔ تبوک پہنچ کر ایک روز آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریافت فرمایا : کعب بن مالک کو کیا ہوگیا ؟ بنی سلمہ کے یا میری قوم کے ایک آدمی نے (جس کا نام حسب روایت محمد بن عمر ‘ عبد اللہ بن انیس سلمی تھا) کہا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور (غرور و فخر کے ساتھ) اپنے دونوں پہلوؤں پر دیکھنے نے نہیں آنے دیا (یعنی آجکل وہ مرفہ الحال ہے ‘ ایک چادر باندھتا ہے ‘ ایک اوڑھتا ہے اور دونوں طرف گردن موڑ موڑ کر اپنے مونڈھوں کو دیکھتا ہے ‘ اسی وجہ سے وہ نہ آسکا) حضرت معاذ بن جبل یا ابو قتادہ نے کہا : تم نے بری بات کہی (ایسا نہیں ہے) یا رسول اللہ (ﷺ) ! خدا کی قسم ‘ میں نے اس کے اندر سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں پایا۔ رسول اللہ (ﷺ) خاموش ہوگئے۔

حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : جب مجھے اطلاع ملی کہ رسول اللہ (ﷺ) واپس آنے کیلئے چل پڑے ہیں تو مجھے بڑی فکرہوئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے پیش کرنے کیلئے عذر بنانے لگا اور ایسی بات کی تیاری کرنے لگا کہ کل کو رسول اللہ (ﷺ) کی ناراضگی سے میں کس طرح بچ سکوں گا۔ مختلف اہل الرائے اور گھر والوں سے میں نے اس معاملہ میں مدد بھی لی۔ پھر جب مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ (ﷺ) قریب ہی آپہنچے ہیں تو میرے دل سے تمام غلط خیالات جاتے رہے اور میں سمجھ گیا کہ جس بات میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی ‘ اس کے ذریعہ سے میں ناراضگی سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چناچہ میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یقین کرلیا کہ سچائی ہی مجھے نجات دے سکتی ہے۔ صبح کو حضور (ﷺ) تشریف لے آئے۔

ابن سعد نے کہا : رمضان میں (واپس پہنچے) کعب نے کہا : کہ رسول اللہ (ﷺ) جب (سفر سے واپس) آتے تھے تو دن چڑھے مدینہ میں پہنچتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے ‘ پھر وہیں بیٹھ جاتے تھے ‘ پھر وہاں سے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ اس کے بعد امہات المؤمنین کے ہاں جاتے تھے۔ حسب دستور آپ نے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی ‘ پھر وہیں لوگوں کے (معاملات سننے کے) لئے بیٹھ گئے۔ اب تبوک کی شرکت سے رہنے والے لوگ آنے لگے اور (اپنے اپنے) عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ سب لوگ کچھ اوپر اسی تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرلیا ‘ ان سے بیعت لے لی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ جب میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ مسکرا دئیے ‘ مگر مسکراہٹ غصہ آلود تھی اور فرمایا : آؤ۔ میں چلتا چلتا سامنے پہنچ کر بیٹھ گیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ کعب نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ نے میری طرف سے کیوں منہ پھیرلیا ؟ وا اللہ ! میں منافق نہیں ہوں ‘ نہ مجھے (اسلام کی صداقت میں) کوئی شک ہے ‘ نہ میں (عقیدۂ اسلام سے) بدل گیا ہوں۔ فرمایا : پھر تم (ساتھ جانے سے) کیوں رہ گئے ‘ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟ میں نے عرض کیا : بیشک (میں نے سواری بھی خرید لی تھی) یا رسول اللہ (ﷺ) ! اگر میں کسی اور دنیا دار کے پاس اس وقت بیٹھا ہوتا تو خدا کی قسم ! کوئی عذر معذرت کر کے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھ میں قوت کلامیہ (اور دلیل کی طاقت) موجود ہے ‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر میں آپ کے سامنے جھوٹ بنا بھی دوں گا اور آپ راضی بھی ہوجائیں گے تب بھی عنقریب اللہ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر سچ سچ کہہ دوں گا تو گو آپ ناراض ہوجائیں گے مگر امید ہے کہ اللہ مجھے معاف فرما دے گا۔ بخدا ! مجھے کوئی عذر نہ تھا ‘ نہ اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور فراخ حال (کبھی ہوا) تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اس نے سچی بات کہہ دی۔ اب تم اٹھ جاؤ اور اللہ جو کچھ چاہے گا ‘ تمہارے متعلق فیصلہ کر دے گا۔

میرے سچ بولنے کی وجہ سے بنی سلمہ کے کچھ لوگ برانگیختہ ہوگئے اور کہنے لگے : تو نے اس سے پہلے تو کوئی جرم کیا نہ تھا ‘ نہ اتنا کمزور تھا کہ جس طرح دوسرے شرکت نہ کرنے والوں نے اپنی عدم شرکت کے عذر کئے (اور عتاب سے بچ گئے) تو کوئی عذر نہ پیش کرسکتا (آئندہ) رسول اللہ (ﷺ) کی دعائے مغفرت تیرے (اس) گناہ کے معاف ہونے کیلئے کافی تھی۔ غرض وہ برابر مجھے ڈانٹتے اور سرزنش کرتے رہے اور اتنی سرزنش کی کہ میرا ارادہ ہوگیا کہ دوبارہ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کر دوں ‘ لیکن میں نے کہہ دیا : مجھ سے دو جرم یکجا نہیں ہو سکتے کہ جہاد میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بھی نہیں گیا اور اب حضور (ﷺ) سے جھوٹ بھی بولوں۔

پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا : کیا میرے ساتھ ایسا کوئی اور بھی ہے جو تبوک کو نہیں گیا ہو (اور اس نے کوئی عذر تراشی بھی نہ کی ہو) لوگوں نے کہا : ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی بات کہی تھی جیسی تو نے کی تھی اور ان کو بھی وہی ہدایت کی گئی جو تجھے کی گئی۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقضی۔

ابن ابی حاتم نے حسن تابعی کی مرسل روایت سے بیان کیا ہے کہ اوّل الذکر کے نہ جانے کی وجہ تو یہ ہوئی کہ ان کا ایک باغ تھا جو کھل چکا تھا (یعنی اس میں خوشے لٹک رہے تھے) انہوں نے اپنے دل میں کہا : اس سے پہلے میں (بہت) جہاد کرچکا ہوں ‘ اگر اس سال اپنے گھر ٹھہرا رہوں تو کیا حرج ہے۔ لیکن جب ان کو اپنے اس جرم کا احساس ہوا تو کہنے لگے : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اس کو تیری راہ میں خیرات کرتا ہوں (اسی نے مجھے جانے سے روکا ہے) اور دوسرے صاحب کا واقعہ یہ ہوا کہ ان کے گھر والے کہیں (سفر میں) منتشر تھے ‘ لوٹ کر آئے تو کہنے لگے : اس سال (جہاد کو) نہ جاؤ ‘ ہمارے پاس رہو (تو کوئی حرج نہیں) ان کو بھی اپنے جرم کا احساس ہوا تو انہوں نے (ا اللہ سے عہد کیا اور) کہا : اے اللہ ! مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنے گھر والوں کے اور مال کے پاس لوٹ کر نہ جاؤں گا (تاوقتیکہ تیرا جدید حکم نہ ہو)

حضرت کعب کا بیان ہے : لوگوں نے میرے سامنے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور جن کی پیروی کی جاسکتی تھی۔ ان کا نام سن کر میں اپنی سابق بات پر قائم رہا۔ جو لوگ تبوک کو نہیں گئے تھے ‘ ان میں سے صرف ہم تینوں سے ہی رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو کلام کرنے کی ممانعت فرما دی۔ لوگ اس فرمان کے بعد ہمارے لئے بالکل بدل گئے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں آیا ہے : ہم صبح کو لوگوں میں نکلتے تھے مگر کوئی ہم سے سلام کلام نہیں کرتا تھا ‘ نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ عبدالرزاق کی روایت ہے : لوگ ایسے بدل گئے کہ گویا وہ ہم کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ درو دیوار اجنبی ہوگئے ‘ وہ در و دیوار ہی نہ رہے جن کو ہم پہچانتے تھے۔ میرے لئے سب سے زیادہ رنج آفریں یہ خیال تھا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو رسول اللہ (ﷺ) میرے جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھیں گے اور اگر اسی دوران میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوگئی تو میری یہی حالت قائم رہے گی کہ نہ کوئی مجھ سے کلام کرے گا نہ میرے جنازے کی نماز پڑھے گا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ وہ سرزمین ہی میرے لئے اجنبی ہوگئی ‘ وہ بستی وہ نہ رہی جو میری شناسا تھی۔ یہ حالت پچاس رات قائم رہی۔ میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے ‘ وہ گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں طاقتور اور جوان تھا ‘ گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا مگر کوئی مجھ سے کلام سلام نہیں کرتا تھا۔ نماز کے بعد جب رسول اللہ (ﷺ) صحابہ کے جلسہ میں بیٹھے ہوتے تو میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور دل میں کہتا : کیا حضور (ﷺ) نے سلام کا جواب دینے کیلئے لب مبارک ہلائے یا نہیں ‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ کے پاس پہنچ کر (دانستہ) نماز پڑھتا اور کن انکھیوں سے دیکھتا رہتا (کہ حضور (ﷺ) کی توجہ میری طرف ہوئی یا نہیں ( جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو حضور (ﷺ) میری طرف منہ کرلیتے ‘ لیکن جب میں التفات نظر کرتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔ جب مدت تک لوگ مجھ سے یونہی دور دور رہے تو ایک روز دیوار پھلانک کر میں ابوقتادہ کے پاس ان کے باغ میں پہنچ گیا۔ ابو قتادہ میرے چچا زاد تھے ‘ یعنی قبیلۂ بنی سلمہ سے تھے ‘ میرے باپ کے بھائی کے بیٹے نہ تھے۔ مجھے ان سے بڑی محبت تھی۔ میں نے ان کو سلام کیا مگر خدا کی قسم ! انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : ابو قتادہ ! یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ابو قتادہ خاموش رہے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے ‘ کوئی بات نہیں کی۔ تیسری یا چوتھی بار کہنے کے بعد انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب معلوم ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور لوٹ کر دیوار پھلانگ کر میں آگیا۔ ایک روز میں بازار میں جا رہا تھا کہ علاقۂ شام کا رہنے والا ایک دیہاتی نظر پڑا ‘ یہ شخص غلہ لے کر مدینہ میں بیچنے آیا تھا۔ کسی سے اس نے پوچھا : مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیا۔ وہ میرے پاس آیا اور ایک خط مجھے دیا جو شاہ غسان کی طرف سے تھا (یعنی بادشاہ شام کی طرف سے) ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ میرے قبیلہ کا کوئی آدمی شام میں تھا ‘ اس نے بھیجا تھا۔ خط ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس میں لکھا تھا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم کو دور کردیا ہے اور پرے پھینک دیا ہے اور اللہ نے تم کو ایسا نہیں بنایا کہ ذلت کے مقام میں رہو اور تمہارا حق ضائع کیا جاتا رہے ‘ اسلئے اگر تم سکونت منتقل کرنا چاہتے ہو تو ہم سے آ ملو ‘ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ خط پڑھ کر میں نے کہا : یہ بھی (ا اللہ کی طرف سے) آزمائش ہے کہ کافر بھی میرا لالچ کرنے لگے (میری ذات کافروں کے لالچ کی جولان گاہ بن گئی) پھر میں نے تحریر کو تنور میں جھونک دیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت کعب نے رسول اللہ (ﷺ) سے اپنی حالت کا شکوہ کیا اور عرض کیا : آپ کی مجھ سے روگردانی اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مشرک میرا لالچ کرنے لگے۔

جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گذر گئیں تو اچانک رسول اللہ (ﷺ) کا ایک قاصد میرے پاس پہنچا۔ محمد بن عمر نے اس قاصد کا نام خزیمہ بن ثابت بتایا ہے ‘ یہی قاصد مرارہ اور ہلال کے پاس بھی گیا۔ قاصد نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے تم کو حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔ میں نے کہا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور ؟ اس نے کہا : طلاق کا حکم نہیں ہے۔ اس سے الگ رہو ‘ قربت نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی حکم پہنچا۔ حسب الحکم میں نے اپنی بیوی سے کہا : اپنے گھر چلی جا اور فیصلہ قطعی ہونے تک وہیں رہ۔ ہلال بن امیہ کی بیوی یعنی خولہ بنت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے ‘ اپنا کام خود نہیں کرسکتا اور اس کا کوئی خادم بھی نہیں ہے۔ کیا اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو آپ کی ناگواری کا باعث ہوگا ؟ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بوڑھا ہے ‘ نظر بہت کمزور ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : نہیں (کام کردینے کی ممانعت نہیں ہے) مگر وہ تجھ سے قربت نہ کرے۔ عورت نے کہا : خدا کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی حس ہی نہیں ہے۔ جب سے اس کا یہ واقعہ ہوا ہے ‘ برابر آج تک رونے میں مشغول ہے۔ حضرت کعب کا بیان ہے : مجھ سے بھی میرے کسی گھر والے نے کہا : اگر ہلال بن امیہ کی بیوی کی طرح تم بھی اپنی بیوی کیلئے رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت لے لو کہ وہ تمہاری خدمت کردیا کرے تو مناسب ہے۔ میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ کیا معلوم حضور (ﷺ) کیا فرمائیں اور میں تو جوان آدمی ہوں (مجھے دوسرے سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے) اسی حالت میں دس راتیں اور گذر گئیں اور پچاس راتیں پوری ہوگئیں۔

عبدالرزاق کی روایت میں حضرت کعب کا قول آیا ہے : ایک تہائی رات کے وقت ہماری توبہ قبول ہونے کی آیت رسول اللہ (ﷺ) پر نازل ہوئی۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا کعب بن مالک کو ہم بشارت دے دیں۔ فرمایا : (اس وقت قبول توبہ کی اطلاع دو گی) تو لوگ تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور باقی رات میں سونے نہ دیں گے (فجر کو اطلاع دے دینا) ۔

کعب کا بیان ہے : پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر (بیٹھا) تھا اور میری حالت وہ تھی جو اللہ نے بیان فرمائی ہے (ضاقت علیھم الارض بما رحبت) زمین باوجود فراخ ہونے کے میرے لئے تنگ ہوگئی تھی۔ یکدم ایک چیخنے والے کی آواز سنائی دی جو کوہ سلع پر چڑھ کر انتہائی اونچی آواز سے چیخا تھا : اے کعب بن مالک ! تجھے خوش خبری ہو۔ محمد بن عمر کی روایت ہے کہ کوہ سلع پر چڑھنے والے حضرت ابوبکر تھے ‘ آپ نے ہی پکار کر کہا تھا : اللہ نے کعب پر رحم فرما دیا۔ اے کعب ! خوش ہوجا۔ عقبہ کی روایت ہے کہ دو آدمی دوڑے ہوئے حضرت کعب کو بشارت دینے کیلئے گئے ‘ ایک آگے بڑھ گیا۔ جو پیچھے رہ گیا تھا ‘ وہ کوہ سلع پر چڑھ گیا اور وہیں سے اس نے ندا کی : اے کعب ! توبہ قبول ہونے کی تجھے بشارت ہو۔ اللہ نے تم لوگوں کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا۔

اہل تاریخ کا خیال ہے کہ بشارت دینے کیلئے دوڑنے والے یہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر و حضرت عمر تھے۔

حضرت کعب کا بیان ہے : آواز سنتے ہی میں سجدہ میں گر پڑا اور خوشی سے رونے لگا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا۔ لوگ ہم کو بشارت دینے کیلئے آگئے۔ کچھ اور لوگ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے کیلئے پہنچے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا۔ محمد بن عمر نے کہا : یہ حضرت زبیر بن عوام تھے۔ قبیلۂ اسلم کا ایک اور شخص بھی دوڑ پڑا مگر گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے مجھے آواز پہنچ گئی تھی ‘ اسلئے جب وہ شخص آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی ‘ یعنی حمزہ اسلمی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دئیے۔ خدا کی قسم ! میرے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کپڑے ہی نہ تھے۔ ابو قتادہ (بروایت محمد بن عمر) سے دو کپڑے عاریتہ لے کر میں نے پہنے۔ ہلال بن امیہ کو قبول توبہ کی خوشخبری دینے سعید بن زید گئے تھے۔ ہلال نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ‘ مسلسل روزے رکھ رہے تھے اور برابر رونے میں مشغول تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتے ‘ ان کی جان نکل جائے گی۔ مرارہ بن ربیع کو بشارت سلکان بن سلامہ نے دی۔ یہ سلامہ بن وقش کے باپ تھے۔

حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے روانہ ہوا۔ راستہ میں لوگوں کے گروہ در گروہ مبارک باد دینے کیلئے مجھ سے ملتے رہے۔ آخر میں مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ (ﷺ) بیٹھے ہوئے تھے ‘ گرداگرد لوگ بھی موجود تھے۔ مجھے دیکھ کر طلحہ بن عبیدا اللہ اٹھے اور لپک کر میری طرف بڑھے ‘ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے طلحہ کے اور کوئی نہیں اٹھا۔ میں طلحہ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔ رسول اللہ (ﷺ) کا چہرۂ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ میں نے سلام کیا ۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : جب سے تو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ‘ اس وقت سے آج تک ہر دن سے بہتر دن کی تجھے بشارت ہو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے ‘ یا اللہ کی طرف سے ؟ فرمایا : نہیں ‘ اللہ کی طرف سے ہے۔ تم لوگوں نے اللہ سے سچا معاملہ کیا ‘ اللہ نے بھی تم کو سچا قرار دیا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی عادت تھی کہ خوشی کے وقت آپ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ‘ معلوم ہوتا تھا چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم دیکھ کر پہچان لیتے تھے (کہ حضور (ﷺ) اس وقت خوش ہیں) جب میں سامنے بیٹھا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میری توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنے کل مال سے دستبردار ہوجاؤں اور بطور صدقہ اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں پیش کر دوں۔ فرمایا : کچھ مال اپنے لئے بھی روک رکھو ‘ تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : اچھا ! نصف مال (سے دستبردار ہوتا ہوں) فرمایا : نہیں۔ میں نے عرض کیا : تو ایک تہائی (قبول کرلیجئے) فرمایا : اچھا۔ میں نے عرض کیا : تو خیبر میں جو میرا حصہ ہے ‘ میں اس کو روکے رکھتا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھے نجات دی ہے ‘ لہٰذا میری توبہ کا تتمہ یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ سچ ہی بولوں گا۔ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے جو کرم اللہ نے مجھ پر کیا ہے ‘ کسی اور پر اس سے بہتر احسان کیا ہوگا۔ چناچہ اس عہد کے بعد آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور امید ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ اللہ جھوٹ بولنے سے مجھے محفوظ رکھے گا۔

اللہ نے توبہ قبول فرمانے کیلئے سلسلہ میں لَقَدْ تَاب اللّٰہُ علَی النَّبِیِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ ..... سے ..... وَکُوْنَوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ تک آیات نازل فرمائیں۔ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی ‘ اس کے بعد سے کوئی اس نعمت سے بڑی نہیں عنایت کی جو رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے سچ کہنے سے مجھے ملی۔ اگر میں جھوٹ بول دیتا تو میں بھی ان لوگوں کی طرح تباہ ہوجاتا جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اور اللہ نے بدترین الفاظ میں ان کا ذکر کیا۔ فرمایا : سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ ...... فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ ۔

کعب نے فرمایا : جن لوگوں نے قسمیں کھالی تھیں اور رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے عذر کو قبول فرما لیا تھا اور ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کردی تھی ‘ ہم تینوں کا معاملہ ان کے معاملہ سے پیچھے رکھا گیا تھا۔ ہمارے معاملہ کو اللہ کے فیصلہ تک رسول اللہ (ﷺ) نے ملتوی رکھا تھا۔ آیت وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا میں پیچھے چھوڑ دینے سے مراد جہاد سے پیچھے چھوڑ دینا نہیں ہے بلکہ ان معذرت کرنے والوں کے معاملہ سے ہمارے معاملہ کو پیچھے چھوڑ دینا اور ہمارے فیصلہ کو ملتوی رکھنا مراد ہے۔

حتی اذا ضاقت علیھم الاض بما رحبت یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخ اور لمبی چوڑی ہونے کے (ساتھیوں کی بےرخی کرنے کی وجہ سے) ان پر تنگ ہوگئی۔ کسی پر زمین تنگ ہوجانا ایک محاورہ ہے جو شدت حیرت کی تصویرکشی کرتا ہے یعنی وہ لوگ اپنے معاملہ میں اتنے حیران و پریشان تھے کہ ان کو اپنی بےچینی اور پریشانی دور کرنے کا کوئی مقام ہی اتنی لمبی چوڑی زمین میں میسر نہ تھا۔

وضاقت علیھم انفسھم اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے۔ یعنی ان کے دل انتہائی وحشت اور غم کی وجہ سے اتنے تنگ ہوگئے کہ انس و مسرت کی ان میں گنجائش ہی نہیں رہی۔

وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ (کی ناراضگی و غضب) سے بچنے کا کوئی ٹھکانا سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ اسی سے مغفرت کی دعاء کی جائے۔

ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

لیتوبوا تاکہ توبہ پر قائم رہیں۔ اس جگہ توبہ سے مراد ہے توبہ پر قائم رہنا ‘ کیونکہ توبہ تو وہ پہلے کرچکے تھے (توبہ کے بعد توبہ کے کوئی معنی نہیں) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی تاکہ توبہ کرنے والوں کے گروہ میں وہ شامل ہوجائیں۔

ابوبکر وراق نے کہا : خالص اور سچی توبہ یہ ہے کہ اگر گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر یہ لمبی چوڑی زمین تنگ ہوجائے اور دل میں سخت بےچینی اور گھبراہٹ پیدا ہوجائے ‘ جیسے ان تینوں حضرات کی توبہ تھی۔

ان اللہ ھو التواب الرحیم۔ بیشک اللہ بہت توجہ فرمانے والا اور بڑا مہربان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ رات میں (توبہ قبول فرمانے کیلئے) اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا (دن میں) توبہ کرلے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب سورج مغرب سے برآمد ہوگا (یعنی قیامت تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا ‘ جب سورج مغرب سے نکلے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا) رواہ مسلم۔

حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر کسی بیابان صحراء میں (سفر کی حالت میں) تم میں سے کسی کی سواری کی اونٹنی گم ہوجائے اور اونٹنی پر ہی اس مسافر کے کھانے پینے کا سب سامان ہو اور ڈھونڈ کر ناامید ہو کر یہ شخص کسی درخت کے سایہ میں لیٹ کر سو جائے ‘ پھر اچانک اس کی آنکھ کھل جائے تو اونٹنی کو اپنے پاس کھڑا پائے اور فوراً اونٹنی کی نکیل پکڑ لے اور انتہائی خوشی کی وجہ سے (زبان بےقابو ہوجائے) اور بول اٹھے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ اس مسافر کو اونٹنی کے دستیاب ہونے سے جتنی خوشی ہوتی ہے ‘ اس سے زیادہ خوشی اللہ کو بندہ کے توبہ کرنے سے ہوتی ہے ‘ جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے۔ رواہ مسلم۔ توبہ اور قبول توبہ کی احادیث بہت آئی ہیں۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo ittaqoo Allaha wakoonoo maAAa alssadiqeena

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔ اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور رہو سچوں کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بےلوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب تبوک کو نکلے ہیں۔ منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرت سعید بن جبیر نے الصادقین کی تفسیر ابوبکر وعمر سے کی ‘ یعنی ابوبکر و عمر کے ساتھ رہو۔ ضحاک نے کہا : حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور ان حضرات کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ رہو۔ سفیان ثوری نے فرمایا : یہ (اپنی طرف سے) تفسیری اختلاف ہے ‘ آیت ان سب تفسیروں کو شامل ہے۔ یہ بھی مراد ہے ‘ وہ بھی مراد ہے (کسی ایک کی تعیین نہیں) ۔

ابن جریج نے کہا : الصادقین سے مہاجرین مراد ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : لِلْفُقَرَاء الْمُھَاجِرِیْنَ ......... اُولٰٓءِکَ ھُمُ الصَّدِقُوْنَ (اس آیت میں مہاجرین کو ہی صادقین فرمایا ہے) ۔

بعض نے کہا : الصادقین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے گناہ کا سچے دل سے اعتراف کرلیا ‘ جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جھوٹ بولنا کسی طرح درست نہیں ‘ نہ مذاق میں نہ سنجیدہ کلام میں۔ کوئی شخص اپنے بچہ (کو بہلانے کیلئے اس) سے ایسا وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرے۔ اگر تم (اس قول کی) تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو۔ پھر آپ نے آیت مندرجۂ بالا پڑھی :

اردو ترجمہ

مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma kana liahli almadeenati waman hawlahum mina alaAArabi an yatakhallafoo AAan rasooli Allahi wala yarghaboo bianfusihim AAan nafsihi thalika biannahum la yuseebuhum thamaon wala nasabun wala makhmasatun fee sabeeli Allahi wala yataoona mawtian yagheethu alkuffara wala yanaloona min AAaduwwin naylan illa kutiba lahum bihi AAamalun salihun inna Allaha la yudeeAAu ajra almuhsineena

ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ‘ ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو ان کی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھیں۔

بظاہر الفاظ یہ کلام خبری ہے لیکن حقیقت میں نہی اور ممانعت ہے ‘ جیسے دوسری آیت آئی ہے : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْل اللّٰہِ اَلْاَعْرَاب یعنی قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم ‘ غفار جو صحراء میں رہتے تھے (مدینہ کے اندر نہیں رہتے تھے) ۔

عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ جب خود رسول اللہ (ﷺ) بنفس نفیس جہاد پر تشریف لے جائیں تو آپ کا ساتھ چھوڑ دینا اور ہمراہ نہ جانا جائز نہیں۔ وَلاَ یَرْغَبُوْا کا یہ مطلب ہے کہ جس جہاد سے رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے نفس کو الگ نہیں رکھا اس سے لوگ بھی اپنی جانوں کو الگ نہ رکھیں۔

ذلک بانھم لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ ولا یطؤن موطءًا یغیظ

الکفار ولا ینالون من عدو نیلاً الا کتب لھم بہ عمل صالح ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین یہ (ساتھ جانے کی ضرورت) اس سبب سے ہے کہ اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کیلئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی ‘ ان کے نام اس کی وجہ سے ایک ایک نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ مخلصوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

ذٰلِکَ سے اشارہ حکم ممانعت کی طرف ہے جو اوپر کے کلام سے سمجھا جا رہا ہے۔ بِاَنَّھُمْ میں باء سببی ہے بسبب اس کے۔ ظمأ پیاس کی حقیر مقدار۔ نصبٌ تھکان۔ مَخْصَمَۃٌ بھوک۔ مَوْطِءًا مصدر ہے (تاکید فعل کیلئے) یا ظرف ہے ‘ یعنی وہ نہیں جائیں گے کسی زمین پر۔ نیلاً تاکہ کسی قسم کا قابو پائیں خواہ قتل کریں ‘ یا قید کریں ‘ یا لوٹیں ‘ یا مال غنیمت حاصل کریں۔ اِلاَّ کُتِبَیعنی وہ اس کی وجہ سے ثواب کے مستحق ہوجاتے ہیں اور یہ وعدہ چاہتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جائیں ‘ ہمراہ جانے سے منہ نہ موڑیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَیہ جملہ گزشتہ حکم کی علت ہے اور اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاد ایک بھلائی ہے (سب انسانوں کے حق میں) کافروں کے حق میں جہاد کا بھلائی ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ کافروں کو دوزخ سے رہا کرانے اور ان کی انسانیت کو مکمل کرنے کی یہ انتہائی کوشش ہے ‘ جیسے پاگل کو مارنا (کبھی اس کیلئے علاج ہوتا ہے) اور بچہ کو ادب سکھانے کیلئے مارنا (اس کے حق میں بھلائی ہوتا ہے) مؤمنوں کے حق میں جہاد کی بھلائی یہ ہے کہ جہاد ہی کے ذریعے سے اہل ایمان کافروں کی چیرہ دستی ‘ اقتدار اور تسلط سے محفوظ رہتے ہیں۔ حضرت ابو عبس کی روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ کی راہ میں جس کے قدم گرد آلود ہوں گے ‘ اللہ نے اس کیلئے دوزخ حرام کردی ہے۔ رواہ البخاری فی الصحیح واحمد فی المسند والترمذی والنسائی۔

حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا جب تک جہاد سے واپس نہیں آتا ‘ اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے (ہر روز) روزہ رکھنے والا ‘ (رات) کو نماز پڑھنے والا ‘ اللہ کی آیات کی تلاوت کرنے والا جو روزہ نماز سے سست نہیں پڑتا ہو (چستی کے ساتھ برابر مشغول رہتا ہو) بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کے حکم (کے عام یا خاص ‘ ہنگامی یا دوامی ہونے) میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔

قتادہ کا قول ہے : یہ حکم رسول اللہ (ﷺ) کے ہمراہ جانے کی صورت سے تعلق رکھتا ہے (عمومی نہیں ہے) جب رسول اللہ (ﷺ) خود جہاد پر تشریف لے جائیں تو کسی کیلئے بغیر (شرعی) عذر کے ساتھ نہ جانا جائز نہ تھا۔ دوسرے خلفاء اور حکام کے ساتھ جانے کا وجوبی حکم اس آیت میں نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کو جہاد کرنے کی ضرورت نہ ہو تو خلیفہ یا حاکم کے ساتھ جہاد کو نہ جانا مسلمانوں کیلئے جائز ہے۔

ولید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اوزاعی ‘ عبد اللہ بن مبارک ‘ ابن جابر اور سعد بن عبدالعزیز سے سنا کہ اس آیت کا حکم اس امت کے آغاز کے وقت بھی تھا اور آخری دور کیلئے بھی ہے (یعنی حکم دوامی ہے ‘ ہر خلیفہ کا ساتھ دینا ہر زمانہ میں لازم ہے) ۔

ابن زید نے کہا : یہ حکم اس وقت تھا جب مسلمان کم تھے ‘ جب زیادہ ہوگئے تو اللہ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور جو جہاد پر نہ جانا چاہے ‘ اس کیلئے نہ جانا جائز کردیا اور فرما دیا : وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ۔ میں کہتا ہوں : تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر بقدر ضرورت مسلمانوں کی جماعت جہاد کرے گی تو باقی مسلمانوں کے سروں سے فرض اتر جائے گا۔

حضرت سعید بن مسیب کے نزدیک جہاد فرض عین ہے کیونکہ جہاد کے احکام عمومی ہیں اور جو لوگ تبوک کے جہاد کو نہیں گئے تھے ‘ ان کے معاملہ میں سخت احکام نازل کئے گئے۔ ہم کہتے ہیں : جب جہاد کا اعلان عام ہو تو باتفاق علماء ہر شخص پر جہاد کرنا فرض ہوجاتا ہے جیسے غزوۂ تبوک کے موقع پر ہوا ورنہ فرض کفایہ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَالخ اس آیت کے آخر میں ہے : وَکُلاّْ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰیہر فریق سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کرلیا ہے (لیکن بھلائی کے مراتب میں تفاوت ہے ‘ سب برابر نہیں) دوسری آیت ہے : وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ۔

اردو ترجمہ

اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ (راہ خدا میں) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala yunfiqoona nafaqatan sagheeratan wala kabeeratan wala yaqtaAAoona wadiyan illa kutiba lahum liyajziyahumu Allahu ahsana ma kanoo yaAAmaloona

ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔

ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔

لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔

یعنی ان کے اچھے اعمال کی جزاء اچھے عمل سے ‘ مراد ہے جہاد۔ یا ان کے اعمال کی اچھی جزاء۔ حضرت ابو مسعود انصاری کی روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اس کے عوض تجھے سات سو نکیل پڑی اونٹنیاں ملیں گی۔ رواہ مسلم

حضرت زید بن خالد راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کیلئے سامان تیار کر کے دیا ‘ اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے بیوی بچوں کی اس کے بعد خبرگیری کی ‘ اس نے بھی جہاد کیا۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہما۔ وا اللہ اعلم

کلبی نے ذکر کیا ہے کہ قبائل بنی اسد بن خزیمہ قحط سالی میں مبتلا ہو کر (گھروں کو چھوڑ کر) بچوں کو لے کر مدینہ میں آپڑے۔ ان کی وجہ سے مدینہ کے راستے گندے ہوگئے اور چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :

اردو ترجمہ

اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana almuminoona liyanfiroo kaffatan falawla nafara min kulli firqatin minhum taifatun liyatafaqqahoo fee alddeeni waliyunthiroo qawmahum itha rajaAAoo ilayhim laAAallahum yahtharoona

وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔

فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین کے مسائل سمجھتا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اس کا اشتقاق ‘ شق اور فتح (کے مفہوم سے) ہے۔ ” فرقۃ “ سے مراد بڑی جماعت ہے۔ ” طائفۃ “ چھوٹی جماعت۔ قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے ‘ اسلئے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کیلئے مخصوص کرلیا گیا۔ بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کیلئے یہ لفظ خاص ہے ‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے) ۔

امام ابوحنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی) ۔

ظاہر یہ ہے کہ لفظ فقہ کے اندر مقلد کا علم بھی داخل ہے ‘ مجتہد سے یامجتہد کی کتاب سے علم حاصل کرنے سے اس فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے جس کا حکم آیت مندرجہ میں دیا گیا ہے۔

ولینذروا قومھم اذا رجعوآ الیھم لعلھم یحذرون۔ اور (جانے والے) لوگ جب واپس آئیں تو یہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سیکھ کر) برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔

یعنی جب وہ لوگ اپنے وطن کو لوٹ کر آئیں تو جو لوگ تحصیل علم کیلئے نہیں گئے تھے اور وطن ہی میں مقیم رہے ‘ ان کو واپس آ کر (ا اللہ کے دئیے ہوئے احکام کی مخالفت سے) ڈرائیں (اور ان کو احکام بتائیں) مجاہد نے کہا : کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت ہدایت دینے کیلئے دیہات اور صحراء کی طرف گئے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس (تو تبلیغ کیلئے) آگئے اور اپنے ساتھی (یعنی رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر آگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ احساس ہوا ‘ وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر آیت مذکورۂ بالا نازل ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے : سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح انسانوں کی بھی تم کانیں پاؤ گے (خیر و شر کے مختلف معاون ہیں اور مختلف انسان ‘ مختلف معاون کی پیداوار ہیں) پس جو لوگ (طبعاً ) جاہلیت (کے دور) میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے بشرطیکہ سمجھ پیدا کرلیں۔ رواہ الشافعی وکذا روی الشیخان فی الصحیحین واحمد عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدمی (بس) دو ہیں : عالم اور متعلم ‘ ان کے سوا باقی (آدمیوں) میں کوئی خیر نہیں۔

آیت دلالت کر رہی ہے کہ خبر آحاد (شرعی) حجت ہے (یعنی کسی مسئلہ کو جاننے کیلئے خبر آحاد کو بشرطیکہ وہ قابل وثوق روایت سے پہنچی ہو ‘ ماننا ضروری ہے) کیونکہ آیت میں ” کل فرقۃ “ کا لفظ عام ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر کسی بستی میں تین ہی آدمی ہوں تو ان میں سے بھی کسی ایک کو علم حاصل کرنے کیلئے جانا اور سیکھ کر واپس آ کر دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔ اگر تواتر کے بغیر کوئی خبر قابل تسلیم نہ ہو تو کلِّ فرقۃٍکے لفظ کا کوئی معنی نہیں ہوگا۔

فقہ کا کچھ حصہ تو فرض عین ہے کچھ فرض کفایہ۔ صحیح عقائد اور ضروری اعمال جیسے طہارت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج اور تمام فرائض کا علم فرض عین ہے۔ عبادات کے علاوہ وہ معاملات جو سامنے آتے رہتے ہیں اور جن سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ‘ ان کو جاننا بھی فرض عین ہے مثلاً تاجروں کیلئے بیع صحیح ‘ بیع فاسد ‘ سود وغیرہ کے احکام جاننا لازم ہے۔ جو ٹھیکہ یا مزدوری یا نوکری وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کیلئے ان کے احکام کو حاصل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب ہر مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے ابن عدی اور بیہقی نے اور حضرت امام حسن بن علی کی روایت سے خطیب نے اور طبرانی نے صغیر میں ‘ نیز طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے اور الکبیر میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور خطیب نے حضرت علی کی روایت سے اور طبرانی نے الاوسط میں ‘ نیز بیہقی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کی ہے۔ حضرت انس کی روایت میں حسب نقل ابن عبدالبر اتنا زائد بھی آیا ہے کہ طالب علم کیلئے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کے اندر مچھلیاں بھی (دعائے مغفرت کرتی ہیں) ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : اور اللہ مصیبت زدوں کی فریاد رسی کو پسند فرماتا ہے۔

فرض کفایہ یہ ہے کہ ہر موضوع کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے یہاں تک کہ فتویٰ دینے کے مقام پر پہنچ جائے۔ اگر کسی شہر کا کوئی آدمی ایسا عالم نہ ہوگا اور ایک شخص بھی اس درجہ پر فائز نہ ہوگا اور سب بیٹھ رہیں گے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر ایک بھی تکمیل علمی کیلئے تیار ہوجائے گا تو سب کے سر سے فرض ساقط ہوجائے گا اور سب پر اس کی تقلید لازم ہوگی۔ جو واقعات پیش آئیں ‘ ان کے فیصلے کیلئے اس عالم کی طرف سب بسعی والے رجوع کریں۔

تحصیل علم ہر نفلی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے مؤلف سند الفردوس نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب اللہ کے نزدیک نماز ‘ روزہ ‘ حج اور راہ خدا میں جہاد کرنے سے افضل ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ ایک گھڑی علم کی تحصیل ایک رات کے قیام (نماز) سے اور ایک دن علم کی طلب تین دن کے روزے رکھنے سے افضل ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔ بلاشبہ اللہ (رحمت کرتا ہے) اور اللہ کے فرشتے اور آسمانوں والے اور زمینوں والے یہاں تک کہ سوراخوں کے اندر چیونٹیاں اور پانی کے اندر مچھلیاں اس شخص کیلئے دعائے رحمت کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ رواہ الترمذی بسند صحیح عن ابی امامۃ۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہزار عابدوں سے ایک عالم ‘ شیطان پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ یہ بھی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین اعمال (کا فائدہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ ‘ یا وہ عمل جس سے لوگ نفع حاصل کریں ‘ یا نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے۔

علم لدنی جس کے حامل صوفیہ کرام ہوتے ہیں ‘ فرض عین ہے کیونکہ اس باطنی علم کے دو مقصد ہوتے ہیں :

(1) اللہ کے سوا ہر چیز کی رغبت کو دل سے نکال دینا ‘ ہر دم اللہ کے سامنے اپنے کو حاضر سمجھنا۔ خود پسندی ‘ غرور ‘ حسد ‘ دنیا کی محبت ‘ عبادات میں سستی ‘ خواہشات نفس ‘ ریاکاری ‘ شہرت طلبی اور دوسرے اخلاقی باطنی عیوب سے نفس کو پاک رکھنا۔

(2) گناہوں سے توبہ ‘ رضا بالقضاء ‘ مصائب پر صبر ‘ نعمتوں کا شکر اور دوسرے اچھے خصائل و مکارم اخلاق سے اپنے نفس کو آراستہ کرنا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کیلئے ان ممنوعات سے پرہیز اور فرائض کی پابندی سے زیادہ اہم اور ضروری ہے جن کا تعلق اعضاء جسمانی سے ہے۔ اگر اخلاص اور نیت کی صحت نہ ہو تو نماز ‘ روزہ اور دوسری عبادتیں ناقابل اعتبار ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور محض خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہو۔ رواہ النسائی عن ابی امامۃ۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں پر نظر نہیں کرتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔

اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز پر فرض عین کا مدار ہو وہ خود فرض عین ہوگی ‘ لہٰذا علم لدنی جس کے حامل صوفیۂ کرام ہیں ‘ فرض عین ہے۔

آیت کے نزول کا ایک اور سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت عکرمہ و عبد اللہ بن عمیر حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ تبوک کے سلسلہ میں منافقوں کے عیوب اللہ نے بیان فرمائے اور آیت اِنْ لاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اِلْیْمًانازل ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) جہادی دستے (مختلف اطراف میں) بھیجنے لگے تو سب مسلمان جہاد کو نکلنے لگے اور رسول اللہ (ﷺ) کو تنہا چھوڑ کر جانے لگے۔ عکرمہ کی روایت میں آیا ہے کہ کچھ دیہاتی صحراء نشین جہاد کو نہیں گئے۔ منافق کہنے لگے : یہ بدوی تباہ ہوگئے (انہوں نے حکم جہاد کی پابندی نہیں کی) اس پر آیت مَا کَانَ الْمُوؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا (یعنی الی الغزر) کَآفَّۃً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ (یعنی عظیمۃ) طَاءِفَۃٌ (یعنی الی الغزر وبقی طائفۃ مع النبی) لِیَتَفَقُّھُوْا (ای القَْاعِدُوْنَ ) فِی الدِّیْنِ (ای القراٰن والسنن والفرائض والاحکام) نازل ہوئی۔ مطلب یہ کہ تمام مسلمانوں کو جہاد پر نہ چلا جانا چاہئے بلکہ بڑے گروہ میں سے ایک چھوٹی جماعت کو جہاد پر جانا لازم ہے اور ایک جماعت کو رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں قرآن ‘ سنت ‘ فرائض اور احکام سیکھنے کیلئے رہنا چاہئے تاکہ فوجی دستے جب واپس آئیں تو ان کو یہ لوگ بتا سکیں کہ ان کے جانے کے بعد کیا احکام نازل ہوئے۔ چناچہ (اس آیت کے نزول کے بعد) ایسا ہی ہونے لگا۔ کچھ جماعتیں رسول اللہ (ﷺ) کے پاس رکی رہتیں اور کچھ دستے چلے جاتے ‘ اس طرح دینی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے پاتا۔ دینی تفقہ جہاد اکبر ہے۔ بعثت کی اصل غرض ہی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اسلامی احکام کو پیش کیا جائے (تلوار سے جہاد کا درجہ تو دفاعی ہے ‘ تبلیغی جہاد کا درجہ اعلیٰ ہے) اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے جانشین ہیں۔ اس شان نزول اور اس مطلب کی صورت میں لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان لوگوں کی طرف راجع ہوں گی جو جہادی دستوں کی روانگی کے بعد تحصیل علم کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور رَجْعُوْا کی ضمیر جہاد پر جانے والے دستوں کی طرف راجع ہوگی۔

سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا حکم اس صورت کیلئے مخصوص ہوگا جب (بغیر رسول اللہ (ﷺ) کے) جہاد پر مسلمانوں کے دستے گئے ہوں اور ترک جہاد کی ممانعت کا حکم اس صورت میں ہوگا جب رسول اللہ (ﷺ) خود تشریف لے جائیں۔

حسن کا قول ہے کہ لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان مسلمانوں کے دستوں کی طرف راجع ہیں جو جہاد پر گئے ہوں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک فرقہ (ہر گروہ میں سے) جہاد پر چلا جائے اور دین کی نصرت اور مشرکوں پر غالب ہونے کا خود مشاہدہ کرے اور سمجھے اور پھر جہاد سے واپس آنے کے بعد اپنی قوم کے کافروں کو بتائے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اور مؤمنوں کو فتح عنایت فرمائی اور اس اطلاع دینے کا مقصد یہ ہو کہ ان کی قوم کے کافر رسول اللہ (ﷺ) کا مقابلہ کرنے سے باز رہیں اور ڈرتے رہیں کہ جو دوسرے کافروں کا حال ہوا ‘ رسول اللہ (ﷺ) سے جنگ کر کے ہمارا بھی وہی حال ہوگا۔

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر ایک جماعت اس فرض کو ادا کر دے گی تو سب کے سروں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ ہاں اگر جہاد کی عام نداء کردی جائے اور سب کو جہاد کیلئے آجانے کا حکم دے دیا گیا ہو تو پھر ہر شخص پر جہاد عینی فرض ہوجاتا ہے۔

206