سورہ توبہ: آیت 122 - ۞ وما كان المؤمنون لينفروا... - اردو

آیت 122 کی تفسیر, سورہ توبہ

۞ وَمَا كَانَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا۟ كَآفَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا۟ فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا۟ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ

اردو ترجمہ

اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana almuminoona liyanfiroo kaffatan falawla nafara min kulli firqatin minhum taifatun liyatafaqqahoo fee alddeeni waliyunthiroo qawmahum itha rajaAAoo ilayhim laAAallahum yahtharoona

آیت 122 کی تفسیر

وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔

فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین کے مسائل سمجھتا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اس کا اشتقاق ‘ شق اور فتح (کے مفہوم سے) ہے۔ ” فرقۃ “ سے مراد بڑی جماعت ہے۔ ” طائفۃ “ چھوٹی جماعت۔ قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے ‘ اسلئے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کیلئے مخصوص کرلیا گیا۔ بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کیلئے یہ لفظ خاص ہے ‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے) ۔

امام ابوحنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی) ۔

ظاہر یہ ہے کہ لفظ فقہ کے اندر مقلد کا علم بھی داخل ہے ‘ مجتہد سے یامجتہد کی کتاب سے علم حاصل کرنے سے اس فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے جس کا حکم آیت مندرجہ میں دیا گیا ہے۔

ولینذروا قومھم اذا رجعوآ الیھم لعلھم یحذرون۔ اور (جانے والے) لوگ جب واپس آئیں تو یہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سیکھ کر) برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔

یعنی جب وہ لوگ اپنے وطن کو لوٹ کر آئیں تو جو لوگ تحصیل علم کیلئے نہیں گئے تھے اور وطن ہی میں مقیم رہے ‘ ان کو واپس آ کر (ا اللہ کے دئیے ہوئے احکام کی مخالفت سے) ڈرائیں (اور ان کو احکام بتائیں) مجاہد نے کہا : کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت ہدایت دینے کیلئے دیہات اور صحراء کی طرف گئے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس (تو تبلیغ کیلئے) آگئے اور اپنے ساتھی (یعنی رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر آگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ احساس ہوا ‘ وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر آیت مذکورۂ بالا نازل ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے : سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح انسانوں کی بھی تم کانیں پاؤ گے (خیر و شر کے مختلف معاون ہیں اور مختلف انسان ‘ مختلف معاون کی پیداوار ہیں) پس جو لوگ (طبعاً ) جاہلیت (کے دور) میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے بشرطیکہ سمجھ پیدا کرلیں۔ رواہ الشافعی وکذا روی الشیخان فی الصحیحین واحمد عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدمی (بس) دو ہیں : عالم اور متعلم ‘ ان کے سوا باقی (آدمیوں) میں کوئی خیر نہیں۔

آیت دلالت کر رہی ہے کہ خبر آحاد (شرعی) حجت ہے (یعنی کسی مسئلہ کو جاننے کیلئے خبر آحاد کو بشرطیکہ وہ قابل وثوق روایت سے پہنچی ہو ‘ ماننا ضروری ہے) کیونکہ آیت میں ” کل فرقۃ “ کا لفظ عام ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر کسی بستی میں تین ہی آدمی ہوں تو ان میں سے بھی کسی ایک کو علم حاصل کرنے کیلئے جانا اور سیکھ کر واپس آ کر دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔ اگر تواتر کے بغیر کوئی خبر قابل تسلیم نہ ہو تو کلِّ فرقۃٍکے لفظ کا کوئی معنی نہیں ہوگا۔

فقہ کا کچھ حصہ تو فرض عین ہے کچھ فرض کفایہ۔ صحیح عقائد اور ضروری اعمال جیسے طہارت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج اور تمام فرائض کا علم فرض عین ہے۔ عبادات کے علاوہ وہ معاملات جو سامنے آتے رہتے ہیں اور جن سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ‘ ان کو جاننا بھی فرض عین ہے مثلاً تاجروں کیلئے بیع صحیح ‘ بیع فاسد ‘ سود وغیرہ کے احکام جاننا لازم ہے۔ جو ٹھیکہ یا مزدوری یا نوکری وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کیلئے ان کے احکام کو حاصل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب ہر مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے ابن عدی اور بیہقی نے اور حضرت امام حسن بن علی کی روایت سے خطیب نے اور طبرانی نے صغیر میں ‘ نیز طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے اور الکبیر میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور خطیب نے حضرت علی کی روایت سے اور طبرانی نے الاوسط میں ‘ نیز بیہقی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کی ہے۔ حضرت انس کی روایت میں حسب نقل ابن عبدالبر اتنا زائد بھی آیا ہے کہ طالب علم کیلئے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کے اندر مچھلیاں بھی (دعائے مغفرت کرتی ہیں) ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : اور اللہ مصیبت زدوں کی فریاد رسی کو پسند فرماتا ہے۔

فرض کفایہ یہ ہے کہ ہر موضوع کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے یہاں تک کہ فتویٰ دینے کے مقام پر پہنچ جائے۔ اگر کسی شہر کا کوئی آدمی ایسا عالم نہ ہوگا اور ایک شخص بھی اس درجہ پر فائز نہ ہوگا اور سب بیٹھ رہیں گے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر ایک بھی تکمیل علمی کیلئے تیار ہوجائے گا تو سب کے سر سے فرض ساقط ہوجائے گا اور سب پر اس کی تقلید لازم ہوگی۔ جو واقعات پیش آئیں ‘ ان کے فیصلے کیلئے اس عالم کی طرف سب بسعی والے رجوع کریں۔

تحصیل علم ہر نفلی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے مؤلف سند الفردوس نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب اللہ کے نزدیک نماز ‘ روزہ ‘ حج اور راہ خدا میں جہاد کرنے سے افضل ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ ایک گھڑی علم کی تحصیل ایک رات کے قیام (نماز) سے اور ایک دن علم کی طلب تین دن کے روزے رکھنے سے افضل ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔ بلاشبہ اللہ (رحمت کرتا ہے) اور اللہ کے فرشتے اور آسمانوں والے اور زمینوں والے یہاں تک کہ سوراخوں کے اندر چیونٹیاں اور پانی کے اندر مچھلیاں اس شخص کیلئے دعائے رحمت کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ رواہ الترمذی بسند صحیح عن ابی امامۃ۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہزار عابدوں سے ایک عالم ‘ شیطان پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ یہ بھی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین اعمال (کا فائدہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ ‘ یا وہ عمل جس سے لوگ نفع حاصل کریں ‘ یا نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے۔

علم لدنی جس کے حامل صوفیہ کرام ہوتے ہیں ‘ فرض عین ہے کیونکہ اس باطنی علم کے دو مقصد ہوتے ہیں :

(1) اللہ کے سوا ہر چیز کی رغبت کو دل سے نکال دینا ‘ ہر دم اللہ کے سامنے اپنے کو حاضر سمجھنا۔ خود پسندی ‘ غرور ‘ حسد ‘ دنیا کی محبت ‘ عبادات میں سستی ‘ خواہشات نفس ‘ ریاکاری ‘ شہرت طلبی اور دوسرے اخلاقی باطنی عیوب سے نفس کو پاک رکھنا۔

(2) گناہوں سے توبہ ‘ رضا بالقضاء ‘ مصائب پر صبر ‘ نعمتوں کا شکر اور دوسرے اچھے خصائل و مکارم اخلاق سے اپنے نفس کو آراستہ کرنا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کیلئے ان ممنوعات سے پرہیز اور فرائض کی پابندی سے زیادہ اہم اور ضروری ہے جن کا تعلق اعضاء جسمانی سے ہے۔ اگر اخلاص اور نیت کی صحت نہ ہو تو نماز ‘ روزہ اور دوسری عبادتیں ناقابل اعتبار ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور محض خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہو۔ رواہ النسائی عن ابی امامۃ۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں پر نظر نہیں کرتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔

اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز پر فرض عین کا مدار ہو وہ خود فرض عین ہوگی ‘ لہٰذا علم لدنی جس کے حامل صوفیۂ کرام ہیں ‘ فرض عین ہے۔

آیت کے نزول کا ایک اور سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت عکرمہ و عبد اللہ بن عمیر حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ تبوک کے سلسلہ میں منافقوں کے عیوب اللہ نے بیان فرمائے اور آیت اِنْ لاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اِلْیْمًانازل ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) جہادی دستے (مختلف اطراف میں) بھیجنے لگے تو سب مسلمان جہاد کو نکلنے لگے اور رسول اللہ (ﷺ) کو تنہا چھوڑ کر جانے لگے۔ عکرمہ کی روایت میں آیا ہے کہ کچھ دیہاتی صحراء نشین جہاد کو نہیں گئے۔ منافق کہنے لگے : یہ بدوی تباہ ہوگئے (انہوں نے حکم جہاد کی پابندی نہیں کی) اس پر آیت مَا کَانَ الْمُوؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا (یعنی الی الغزر) کَآفَّۃً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ (یعنی عظیمۃ) طَاءِفَۃٌ (یعنی الی الغزر وبقی طائفۃ مع النبی) لِیَتَفَقُّھُوْا (ای القَْاعِدُوْنَ ) فِی الدِّیْنِ (ای القراٰن والسنن والفرائض والاحکام) نازل ہوئی۔ مطلب یہ کہ تمام مسلمانوں کو جہاد پر نہ چلا جانا چاہئے بلکہ بڑے گروہ میں سے ایک چھوٹی جماعت کو جہاد پر جانا لازم ہے اور ایک جماعت کو رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں قرآن ‘ سنت ‘ فرائض اور احکام سیکھنے کیلئے رہنا چاہئے تاکہ فوجی دستے جب واپس آئیں تو ان کو یہ لوگ بتا سکیں کہ ان کے جانے کے بعد کیا احکام نازل ہوئے۔ چناچہ (اس آیت کے نزول کے بعد) ایسا ہی ہونے لگا۔ کچھ جماعتیں رسول اللہ (ﷺ) کے پاس رکی رہتیں اور کچھ دستے چلے جاتے ‘ اس طرح دینی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے پاتا۔ دینی تفقہ جہاد اکبر ہے۔ بعثت کی اصل غرض ہی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اسلامی احکام کو پیش کیا جائے (تلوار سے جہاد کا درجہ تو دفاعی ہے ‘ تبلیغی جہاد کا درجہ اعلیٰ ہے) اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے جانشین ہیں۔ اس شان نزول اور اس مطلب کی صورت میں لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان لوگوں کی طرف راجع ہوں گی جو جہادی دستوں کی روانگی کے بعد تحصیل علم کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور رَجْعُوْا کی ضمیر جہاد پر جانے والے دستوں کی طرف راجع ہوگی۔

سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا حکم اس صورت کیلئے مخصوص ہوگا جب (بغیر رسول اللہ (ﷺ) کے) جہاد پر مسلمانوں کے دستے گئے ہوں اور ترک جہاد کی ممانعت کا حکم اس صورت میں ہوگا جب رسول اللہ (ﷺ) خود تشریف لے جائیں۔

حسن کا قول ہے کہ لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان مسلمانوں کے دستوں کی طرف راجع ہیں جو جہاد پر گئے ہوں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک فرقہ (ہر گروہ میں سے) جہاد پر چلا جائے اور دین کی نصرت اور مشرکوں پر غالب ہونے کا خود مشاہدہ کرے اور سمجھے اور پھر جہاد سے واپس آنے کے بعد اپنی قوم کے کافروں کو بتائے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اور مؤمنوں کو فتح عنایت فرمائی اور اس اطلاع دینے کا مقصد یہ ہو کہ ان کی قوم کے کافر رسول اللہ (ﷺ) کا مقابلہ کرنے سے باز رہیں اور ڈرتے رہیں کہ جو دوسرے کافروں کا حال ہوا ‘ رسول اللہ (ﷺ) سے جنگ کر کے ہمارا بھی وہی حال ہوگا۔

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر ایک جماعت اس فرض کو ادا کر دے گی تو سب کے سروں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ ہاں اگر جہاد کی عام نداء کردی جائے اور سب کو جہاد کیلئے آجانے کا حکم دے دیا گیا ہو تو پھر ہر شخص پر جہاد عینی فرض ہوجاتا ہے۔

آیت 122 وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط مدینہ کے مضافات میں بسنے والے بدو قبائل کا تذکرہ پچھلی آیات میں ہوچکا ہے : اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا۔۔ یہ بدو لوگ کفر اور نفاق میں بہت زیادہ سخت تھے اور اس کا سبب علم دین سے ان کی نا واقفیت تھی۔ اس لیے کہ انہیں حضور ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اب اس کے لیے یہ تو ممکن نہیں تھا کہ سارے بادیہ نشین لوگ اپنی اپنی آبادیاں چھوڑتے اور مدینہ میں آکر آباد ہوجاتے۔ چناچہ یہاں اس مسئلہ کا حل بتایا جا رہا ہے۔ فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ یہاں اس مشکل کا حل یہ بتایا گیا کہ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے چند لوگ آئیں اور صحبت نبوی ﷺ سے فیض یاب ہوں۔وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ یہاں اس سلسلے میں باقاعدہ ایک نظام و ضع کرنے کی ہدایت کردی گئی کہ مختلف علاقوں سے قبائل کے نمائندے آئیں ‘ مدینہ میں قیام کریں ‘ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہیں ‘ اکابر صحابہ رض کی تربیت سے استفادہ کریں ‘ احکام دین کو سمجھیں اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر اس تعلیم کو عام کریں۔

نبی اکرم ﷺ کو تنہا نہ چھوڑو اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ ﷺ جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر ملسمان پر واجب ہے جیسے فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41؀) 9۔ التوبہ :41) اور فرمایا ہے (آیت ماکان لا ھل المدینہ) یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہوجاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آکر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہیں دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہوجائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہوگی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں، سمجھیں۔ جب یہ آجائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ مجاہد فرماتے ہیں۔ یہ ان صحابیوں کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔ اور لوگوں کو انہوں نے ہدایات بھی کیں۔ لیکن بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم لوگ اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے والے ہو۔ وہ میدان جہاد میں گئے اور تم آرام سے یہاں ہم میں ہو۔ ان کے بھی دل میں یہ بات بیٹھ گئی وہاں سے واپس آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آئے۔ پس یہ آیت اتر اور انہیں معذور سمجھا گیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں ضحاک فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت بغیر جائے۔ یہ لوگ جو حضور ﷺ کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو متنبہ کیا کہ دراصل یہ مومن نہیں۔ آپ نے انہیں ان کی جماعتوں کی طرف واپس کیا اور ان کی قوم کو ایسا کرنے سے ڈرایا۔ کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں آتے، دین اسلام سیکھتے واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کرلے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ آنحضرت ﷺ انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کردیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے، عکرمہ فرماتے ہیں جب (اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39؀) 9۔ التوبہ :39) اور آیت (مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ01200ۙ) 9۔ التوبہ :120) اتریں تو منافقوں نے کہا پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہوگئے کہ وہ حضرت ﷺ کے ساتھ نہیں جاتے۔ بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَهٗ حُجَّــتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 16؀) 42۔ الشوری:16) بھی اتری۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آن کر اپنی قوم کو ڈرا دیں۔

آیت 122 - سورہ توبہ: (۞ وما كان المؤمنون لينفروا كافة ۚ فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم إذا...) - اردو