اللہ پر ایمان اور جزائے یوم آخرت کی امیدواری کی وجہ سے یہ لوگ خرچ کرتے ہیں ، عوام الناس کے خوف کی وجہ سے نہیں اور نہ اہل اقتدار کو خوش کرنے کے لیے ۔ نہ ان لوگوں کے پیش نظر دنیا کا سود و زیاں ہے۔ بلکہ یہ فریق اللہ اور یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ خرچ کرتا ہے محض رضائے الہی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اور اس بات کا طلبگار ہے کہ رسول خدا ان کے حق میں دعائے خیر کردیں اور حضور کسی کے لیے تب ہی دعا کرتے ہیں جب وہ کسی سے راضی ہوں اور جب آپ کسی کے لیے دعا کردیں تو یقینی ہے کہ وہ شخص مفہوم دعا کو پا گیا۔ کیونکہ حضور کی دعا ہی ان کے ایمان ، بعد ، ایمان بالآخرت اور طلب رضائے الٰہی اور خلوص کی گارنٹی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فوراً اعلان کردیا جاتا ہے کہ ایسے لوگو کی یہ سعی مشکور ہوئی۔
الا انہا قربۃ لہم " بیشک وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے " اور ساتھ ہی یہ اعلان ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ مقصد کو پا گئے۔
سیدخلھم اللہ فی رحمتہ " اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا " یہاں قرآن کریم اللہ کی رحمت کو بھی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے کہ وہ گویا ایک محل ہوگا جس میں یہ لوگ داخل ہوجائیں گے ، جس طرح اس سے قبل فریق مخالف کے ان منافقین اور کفار کے لیے مصیبت کو ایک دائرے کی شکل میں مجسم کرکے انہیں اس میں گھیرے ہوئے دکھایا تھا ، جو مسلمانوں کے لیے دل میں کینہ رکھتے تھے۔
ان اللہ غفور رحیم " یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے " وہ توبہ بھی قبول کرتا ہے ، نفقہ بھی قبول کرتا ہے ، اور جو تقصیرات اسلام کی راہ میں ہوگئی ہوں ان کو بھی معاف کرتا ہے اور جو رحمت کا طلبگا رہے اسے مایوس نہیں کرتا۔
آیت 99 وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ط یعنی یہ بادیہ نشین لوگ سب کے سب ہی کفر و نفاق پرکار بند اور انفاق فی سبیل اللہ کو تاوان سمجھنے والے نہیں ہیں ‘ بلکہ ان میں سچے مؤمن بھی ہیں ‘ جو نہ صرف اللہ کے راستے میں شوق سے خرچ کرتے ہیں بلکہ اس انفاق کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دین کے لیے مال خرچ کرنے سے اللہ کے رسول ﷺ کی دعائیں بھی ان کے شامل حال ہوجائیں گی۔