اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنًا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَزَادَتْهُمْ إِيمَٰنًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كَٰفِرُونَ
أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِى كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَىٰكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ ٱنصَرَفُوا۟ ۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ
یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں رومیوں سے جہاد کرنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رومی شام میں رہتے تھے (اور ایرانی عراق میں) اور عراق کی بہ نسبت شام مدینہ سے قریب تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے تبوک کی طرف رومیوں سے جہاد کرنے کیلئے خروج کیا ‘ جیسا کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد کے قول سے اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
اس آیت کے مقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے علماء فقہ نے صراحت کی ہے کہ کفار کی سرحد کے قریب جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوں اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہو یا وہ سستی کریں اور حکم جہاد کی پرواہ نہ کریں تو ان سرحدی مسلمانوں کے متصل جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے اور ان میں بھی اگر بقدر ضرورت طاقت نہ ہو یا سستی کی وجہ سے وہ جہاد ترک کر بیٹھیں تو ان سے پیچھے والے مسلمانوں کا وہی فریضہ ہوجاتا ہے جو سستی کرنے والوں کا تھا۔ اسی ترتیب کے ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت ہوجاتی ہے۔ میّت کی تجہیز و تکفین کا سامان مہیا کرنا اور میّت کی نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔
ولیْجدوا فیکم غلظۃ اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔
غلطۃًکا معنی ہے شدت اور اسلام کی حمیت۔ حسن کے نزدیک غلظت سے مراد ہے جہاد پر صبر۔ بظاہر لیجدوا کا صیغہ امر کا ہے جس کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور کفار مامور ہیں ‘ لیکن حقیقت میں امر کا رجوع مسلمانوں کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کافروں کے مقابلہ میں سختی اور شدت اختیار کرو (ان کو تمہارے اندر کوئی نرمی اور بزدلی محسوس نہ ہو) ۔
واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ کی مدد اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے۔ کافروں کے ساتھ نہیں ہے ‘ اسلئے تم ان کی جنگ کی پرواہ نہ کرو (خوف زدہ نہ ہو) ۔
واذا مآ انزلت سورق فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذٓہ ایمانًا فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانًا اور جب کوئی (جدید) سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافق (غرباء مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو (سنو ! ) جو لوگ ایماندار ہیں ‘ اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے۔
یعنی جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے کچھ لوگ اپنے بھائی بندوں سے بطور مذاق کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان و یقین میں اضافہ کیا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا : ایمانداروں کے ایمان کو نازل شدہ سورت بڑھاتی ہے۔ سورت کے اندر جو اعجاز بیان ہوتا ہے ‘ اس سے مؤمنوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نازل شدہ سورت پر ان کو یقین ہوجاتا ہے ‘ اسلئے سابق ایمان کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے (پہلے اسی حصہ پر ان کا ایمان تھا جو نازل ہوچکا تھا ‘ پھر سورت جدیدہ پر بھی ان کا ایمان ہوجاتا ہے اور جو کچھ سورت میں علمی اور اعجازی حصہ ہوتا ہے ‘ وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایمان بڑھ جاتا ہے) ۔
وھم یستبشرون۔ اور وہ (سورت کے نزول سے) خوش ہو رہے ہیں کیونکہ سورت کی وجہ سے ان کے علم و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے درجات اونچے ہوجاتے ہیں۔
واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسًا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون۔ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے ‘ اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور نئی گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر میں مر گئے۔
مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ رجس گندگی ‘ مراد کفر۔ یعنی پہلے وہ سابق میں نازل شدہ آیات دسور کے منکر تھے ‘ اب اس جدید سورت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کفر بالائے کفر ہوجاتا ہے۔
کفر کی حالت پر مرنے کی صراحت اسلئے فرمائی کہ ایمان ایک خداداد چیز ہے۔ آیات کا کام ایمان بخشی نہیں۔ اللہ ایمان نہ دے تو آیات غیر مفید ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے (یعنی ایمان مرکب ہے ‘ اس کے اجزاء میں کمی بیشی ہوتی ہے) حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے تھے : آؤ ‘ ہم اپنا ایمان بڑھائیں (یعنی اگر کوئی جدید آیت یا سورت نازل ہوئی ہو تو اس کو چل کر سنیں تاکہ ہماے ایمان میں اضافہ ہو) حضرت علی نے فرمایا : دل کے اندر ایمان ایک سفید نقطہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ‘ جتنا ایمان بڑھتا ہے ‘ اتنی ہی سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں سیاہ نقطہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ پھر جتنا نفاق بڑھتا ہے ‘ سیاہی بھی بڑھتی ہے یہاں تک کہ پورا دل کالا ہوجاتا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم مؤمن کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سفید پاؤ گے اور اگر منافق کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔
اولایرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون۔ اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں (کہ آئندہ باز آنے کی امید ہو) ۔
یعنی طرح طرح کے امراض اور مصائب بھیج کر ان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قحط اور شدت میں مبتلا کر کے آزمائش کی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی میں جہاد کو جاتے ہیں اور جو صداقت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں ‘ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مقاتل بن جان نے کہا : ان کے نفاق کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : منافقت کرتے ہیں ‘ پھر ایمان لے آتے ہیں ‘ پھر منافق ہوجاتے ہیں۔ یمان نے کہا : عہد شکنی کرتے ہیں۔
پھر توبہ نہیں کرتے یعنی عہد شکنی سے ‘ گناہوں سے اور نفاق سے جو مصائب کے آنے اور رسوائیاں ہونے کا سبب ہے۔
اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں اس بات سے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر سے نصرت کا اور مسلمانوں سے فتح کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو کس طرح پورا کیا۔
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔
صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔
بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔