سورہ توبہ (9): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ توبہ کے بارے میں معلومات

Surah At-Tawba
سُورَةُ التَّوۡبَةِ
صفحہ 207 (آیات 123 سے 129 تک)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنًا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَزَادَتْهُمْ إِيمَٰنًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كَٰفِرُونَ أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِى كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَىٰكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ ٱنصَرَفُوا۟ ۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ
207

سورہ توبہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ توبہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جنگ کرو اُن منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo qatiloo allatheena yaloonakum mina alkuffari walyajidoo feekum ghilthatan waiAAlamoo anna Allaha maAAa almuttaqeena

یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔

اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں رومیوں سے جہاد کرنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رومی شام میں رہتے تھے (اور ایرانی عراق میں) اور عراق کی بہ نسبت شام مدینہ سے قریب تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے تبوک کی طرف رومیوں سے جہاد کرنے کیلئے خروج کیا ‘ جیسا کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد کے قول سے اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

اس آیت کے مقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے علماء فقہ نے صراحت کی ہے کہ کفار کی سرحد کے قریب جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوں اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہو یا وہ سستی کریں اور حکم جہاد کی پرواہ نہ کریں تو ان سرحدی مسلمانوں کے متصل جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے اور ان میں بھی اگر بقدر ضرورت طاقت نہ ہو یا سستی کی وجہ سے وہ جہاد ترک کر بیٹھیں تو ان سے پیچھے والے مسلمانوں کا وہی فریضہ ہوجاتا ہے جو سستی کرنے والوں کا تھا۔ اسی ترتیب کے ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت ہوجاتی ہے۔ میّت کی تجہیز و تکفین کا سامان مہیا کرنا اور میّت کی نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔

ولیْجدوا فیکم غلظۃ اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔

غلطۃًکا معنی ہے شدت اور اسلام کی حمیت۔ حسن کے نزدیک غلظت سے مراد ہے جہاد پر صبر۔ بظاہر لیجدوا کا صیغہ امر کا ہے جس کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور کفار مامور ہیں ‘ لیکن حقیقت میں امر کا رجوع مسلمانوں کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کافروں کے مقابلہ میں سختی اور شدت اختیار کرو (ان کو تمہارے اندر کوئی نرمی اور بزدلی محسوس نہ ہو) ۔

واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ کی مدد اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے۔ کافروں کے ساتھ نہیں ہے ‘ اسلئے تم ان کی جنگ کی پرواہ نہ کرو (خوف زدہ نہ ہو) ۔

اردو ترجمہ

جب کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے) پوچھتے ہیں کہ "کہو، تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا؟" (اس کا جواب یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں تو فی الواقع (ہر نازل ہونے والی سورت نے) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha ma onzilat sooratun faminhum man yaqoolu ayyukum zadathu hathihi eemanan faamma allatheena amanoo fazadathum eemanan wahum yastabshiroona

واذا مآ انزلت سورق فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذٓہ ایمانًا فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانًا اور جب کوئی (جدید) سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافق (غرباء مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو (سنو ! ) جو لوگ ایماندار ہیں ‘ اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے۔

یعنی جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے کچھ لوگ اپنے بھائی بندوں سے بطور مذاق کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان و یقین میں اضافہ کیا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا : ایمانداروں کے ایمان کو نازل شدہ سورت بڑھاتی ہے۔ سورت کے اندر جو اعجاز بیان ہوتا ہے ‘ اس سے مؤمنوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نازل شدہ سورت پر ان کو یقین ہوجاتا ہے ‘ اسلئے سابق ایمان کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے (پہلے اسی حصہ پر ان کا ایمان تھا جو نازل ہوچکا تھا ‘ پھر سورت جدیدہ پر بھی ان کا ایمان ہوجاتا ہے اور جو کچھ سورت میں علمی اور اعجازی حصہ ہوتا ہے ‘ وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایمان بڑھ جاتا ہے) ۔

وھم یستبشرون۔ اور وہ (سورت کے نزول سے) خوش ہو رہے ہیں کیونکہ سورت کی وجہ سے ان کے علم و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے درجات اونچے ہوجاتے ہیں۔

اردو ترجمہ

البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا اُن کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجاست کا اضافہ کر دیا اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waamma allatheena fee quloobihim maradun fazadathum rijsan ila rijsihim wamatoo wahum kafiroona

واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسًا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون۔ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے ‘ اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور نئی گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر میں مر گئے۔

مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ رجس گندگی ‘ مراد کفر۔ یعنی پہلے وہ سابق میں نازل شدہ آیات دسور کے منکر تھے ‘ اب اس جدید سورت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کفر بالائے کفر ہوجاتا ہے۔

کفر کی حالت پر مرنے کی صراحت اسلئے فرمائی کہ ایمان ایک خداداد چیز ہے۔ آیات کا کام ایمان بخشی نہیں۔ اللہ ایمان نہ دے تو آیات غیر مفید ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے (یعنی ایمان مرکب ہے ‘ اس کے اجزاء میں کمی بیشی ہوتی ہے) حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے تھے : آؤ ‘ ہم اپنا ایمان بڑھائیں (یعنی اگر کوئی جدید آیت یا سورت نازل ہوئی ہو تو اس کو چل کر سنیں تاکہ ہماے ایمان میں اضافہ ہو) حضرت علی نے فرمایا : دل کے اندر ایمان ایک سفید نقطہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ‘ جتنا ایمان بڑھتا ہے ‘ اتنی ہی سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں سیاہ نقطہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ پھر جتنا نفاق بڑھتا ہے ‘ سیاہی بھی بڑھتی ہے یہاں تک کہ پورا دل کالا ہوجاتا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم مؤمن کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سفید پاؤ گے اور اگر منافق کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اِس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awala yarawna annahum yuftanoona fee kulli AAamin marratan aw marratayni thumma la yatooboona wala hum yaththakkaroona

اولایرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون۔ اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں (کہ آئندہ باز آنے کی امید ہو) ۔

یعنی طرح طرح کے امراض اور مصائب بھیج کر ان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قحط اور شدت میں مبتلا کر کے آزمائش کی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی میں جہاد کو جاتے ہیں اور جو صداقت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں ‘ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مقاتل بن جان نے کہا : ان کے نفاق کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : منافقت کرتے ہیں ‘ پھر ایمان لے آتے ہیں ‘ پھر منافق ہوجاتے ہیں۔ یمان نے کہا : عہد شکنی کرتے ہیں۔

پھر توبہ نہیں کرتے یعنی عہد شکنی سے ‘ گناہوں سے اور نفاق سے جو مصائب کے آنے اور رسوائیاں ہونے کا سبب ہے۔

اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں اس بات سے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر سے نصرت کا اور مسلمانوں سے فتح کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو کس طرح پورا کیا۔

اردو ترجمہ

جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha ma onzilat sooratun nathara baAAduhum ila baAAdin hal yarakum min ahadin thumma insarafoo sarafa Allahu quloobahum biannahum qawmun la yafqahoona

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔

ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔

ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔

صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔

بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔

اردو ترجمہ

دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad jaakum rasoolun min anfusikum AAazeezun AAalayhi ma AAanittum hareesun AAalaykum bialmumineena raoofun raheemun

اردو ترجمہ

اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہدو کہ "میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fain tawallaw faqul hasbiya Allahu la ilaha illa huwa AAalayhi tawakkaltu wahuwa rabbu alAAarshi alAAatheemi
207