سورہ زمر: آیت 21 - ألم تر أن الله أنزل... - اردو

آیت 21 کی تفسیر, سورہ زمر

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَٰمًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ

اردو ترجمہ

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam tara anna Allaha anzala mina alssamai maan fasalakahu yanabeeAAa fee alardi thumma yukhriju bihi zarAAan mukhtalifan alwanuhu thumma yaheeju fatarahu musfarran thumma yajAAaluhu hutaman inna fee thalika lathikra liolee alalbabi

آیت 21 کی تفسیر

درس نمبر 218 ایک نظر میں

یہ سبق عالم نباتات کی ایک جھلک دکھاتا ہے کہ کس طرح اللہ پانی آسمانوں سے اتارتا ہے اور پھر زمین سرسبز ہو کر فصلیں اگتی ہیں اور یہ فصلیں اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ مثال قرآن میں زمین کی بےثباتی اور حیات دنیا کے اختصار کے لیے دی جاتی ہے۔ اور اہل فکر ونظر کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔ پھر آسمانوں سے پانی کے نزول کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ کتاب بھی ایک قسم کا باران رحمت ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے خشک دل سرسبز ہوجاتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر ایک نہایت ہی اشاراتی تصویر بھی پیش کی جاتی ہے کہ کھلے دل اس کتاب سے کس طرح استفادہ کرتے ہیں۔ وہ اس سے ڈرتے ہیں ، ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور نرم ہوکر ان کے اندر قبولیت پیدا ہوتی ہے اور پھر ہدایت قبول کرکے وہ خوب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کی تصویر جو ذکر الہٰی کی طرف لبیک کہتے ہیں اور ان کی تصویر جنکے دل پتھر ہوگئے ہیں۔ آخر میں توحید کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ایک مثال دی جاتی ہے کہ الٰہ واحد کی بندگی کرنے والوں اور متعدد الہوں کی بندگی کرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے۔ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ دونوں کا ایک حال نہیں

ہوسکتا ، مثلاً ایک غلام جسکے مختلف اور باہم لڑنے جھگڑنے والے مالک ہوں اور دوسرا غلام جو صرف ایک ہی سنجیدہ مالک کا غلام ہو۔

درس نمبر 218 تشریح آیات

آیت نمبر 21

یہ منظر جس کی طرف یہاں قرآن کریم ہماری توجہ مبذول کراتا ہے ، ایک ایسا منظر ہے جو اس کرۂ ارض پر ہر جگہ دہرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس منظر میں جو عبائبات ہیں ان کی تعجب خیزی بوجہ بار وہرائے جانے کے ، ختم ہوجاتی ہے اور انسان ان سے مانوس ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم انہی مناظر کو دوبارہ گہرے غوروفکر کے لیے پیش کرتا ہے کہ انسان اس منظر کی ترقی پر مرحلہ وار غور کرے۔ دیکھو ، آسمانوں سے پانی نازل ہورہا ہے۔ یہ پانی کیا ہے اور کس طرح یہ آرہا ہے۔ یہ چونکہ نازل ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر سے یوں ہی گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی اور اس کی تخلیق بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اگرچہ ہمیں اس قدر معلوم ہوگیا ہے کہ یہ ایک متعین انداز میں ہائیڈروجن کے دو ذروں کا آکسیجن کے ایک ذرے کے ملاپ کا نام ہے۔ لیکن ہمارا یہی علم ہے کہ اللہ نے کائنات کے اندر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو پیدا کیا اور پھر ایسے حالات پیدا کیے۔ کہ یہ ذرے آپس میں مل گئے اور اس اتحاد کے نتیجے میں پانی وجود میں آگیا۔ اور اس کے بعد اس زمین پر حیات کا پیدا کیا جانا ممکن بنا دیا گیا اور اللہ کا دست قدرت ان تمام امور کے پیچھے ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی صنعت کاریاں ہیں۔ پھر اسمانوں سے اس پانی کا نازل کرنا ، اس مخصوص انداز میں ایک دوسرا معجزہ ہے کہ اس زمین اور اس کائنات کو اس انداز میں بنایا کہ پانیوں کا برسنا ممکن ہوگیا۔ پھر اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے وہ یہ کہ

فسلکه ینابیع فی الارض (39: 21) ” پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا “۔ اس میں وہ دریا بھی شامل ہیں جو زمین پر بہتے ہیں۔ اس میں وہ ذخیرے بھی شامل ہیں جو سطح زمین کے نیچے ادھر ادھر چلتے ہیں۔ اور سورتوں اور چشموں کی شکل میں نکلتے ہیں۔ یا اس سطح زمین کے اندر کنویں نکال کر جاری کیے جاتے ہیں اس طرح کہ اللہ اس پانی کو سطح کے قریب رکھتا ہے اور یہ پانی دور تک نہیں جاتے کہ کبھی واپس ہی نہ ہوسکیں۔

ثم یخرج به زرعا مختلفا الوانه (39: 21) ” پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جس کی قسمیں مختلف ہیں “۔ نباتاتی زندگی جو بارش کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہیں اور بارش سے پیدا ہوتی ہے ایک ایسا معجزہ ہے جس کا مقابلہ انسانی جدوجہد نہیں کرسکتی ۔ ایک چھوٹی سی کونپل جو زمین سے سر نکالتی ہے ، زمین کے بھاری بوجھ کو پھاڑ کر اور سر نکال کو کھلی فضا مٰن سانس لیتی ہے اور روشنی اور ہوا سے لطف اندوز ہوتی ہے اور آزاد فضا میں آزادی سے لہلہاتی ہے اور پھر یہ فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھتی ہے۔ صرف اس کو نپل کا ملاحظہ ہی انسان کے دل و دماغ کو ذکر الہٰی سے بھر دیتا ہے۔ اور اللہ خالق کائنات کے احساس کی ایک لہر انسان کے ذہین میں اٹھا دیتا ہے وہ اللہ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر اسے ہدایت دی پھر ایک ہی قطعہ زمین میں مختلف قسم کے پھل ، مختلف پھل نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا پودا بلکہ ایک چھوٹا سا پھول بھی قدرت باری تعالیٰ کی ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ انسان صرف ایک پھول کا تجزیہ کرکے ہی اپنے عجز کا اظہار کردیتا ہے۔ اور پھر یہ سرسبز فصل اپنی سر سبزی ختم کرکے پک جاتی ہے اور اپنے دن پورے کرکے۔

ثم یھیج فترہ مصفرا (39: 21) ” پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئیں “۔ اور اس کائنات کے ناموس فطرت میں اس کے لیے جو انجام مقرر ہے اس تک وہ پہنچ جاتی ہے اور مراحل حیات طے کرکے پک جاتی ہے۔

ثم یجعله حطاما (39: 21) ” پھر آخر کار اللہ ان کو ان کو بھس بنا دیتا ہے “۔ اس کا وقت مقرر آپہنچتا ہے۔ وہ اپنا کردار ادا کردیتی ہے۔ اور اس کا دور ختم ہوتا ہے جو زندگی بخشنے والے اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا تھا۔

ان فی ذٰلک لذکرٰی لاولی الالباب (39: 21) ” درحقیقت اس میں سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے “۔ وہ عقل رکھنے والے جو غور کرتے ہیں ، سبق لیتے ہیں اور اللہ ان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اور جو عقل وخرد دی ہے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

آیت 21 { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی ‘ پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں“ { ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ } ”پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں“ { ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے ‘ پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے“ { ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًاط } ”پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔“ کچھ عرصہ پہلے جس کھیت میں فصل لہلہا رہی تھی اب وہاں خاک اڑ رہی ہے اور خشک بھوسے کے کچھ تنکے ہیں جو ادھر ادھر بکھرے نظر آ رہے ہیں۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”یقینا اس میں یاد دہانی اور سبق ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔“ یعنی اگر غور سے دیکھا جائے تو فصل کے اگنے ‘ نشوونما پا کر پوری طرح تیار ہونے ‘ پک کر سوکھ جانے اور پھر کٹ کر چورا چورا ہوجانے میں انسانی زندگی ہی کے مختلف مراحل کا نقشہ نظر آتا ہے۔ جس طرح فصل کے اپچنے پر کسان خوش ہوتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ بچہ پرورش پا کر جوان ہوتا ہے ‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے۔ جوانی کی طاقت گھٹنا شروع ہوجاتی ہے ‘ قویٰ کمزور پڑنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن اسے قبر میں اتار دیا جاتا ہے ‘ جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ چناچہ موسمی فصلوں اور انسانوں کا life cycle ایک سا ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ فصل کے اگنے سے لے کر کٹنے تک چند ماہ کا عرصہ درکار ہے جبکہ انسانی زندگی میں یہ دورانیہ پچاس ساٹھ سال کا ہے۔ بہر حال ”زندگی“ دونوں جگہ مشترک ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو نباتاتی زندگی Botany اور حیوانی زندگی Zoology دونوں حیاتیات Biology ہی کی شاخیں ہیں۔

زندگی کی بہترین مثال۔زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہوجاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت میں ان کی جوانی بڑھاپے سے اور سبزی زردے سے بدل جاتی ہے۔ پھر خشک ہوجاتی ہے اور کاٹ لی جاتی ہے۔ کیا اس میں عقل مندوں کے لئے بصیرت و نصیحت نہیں ؟ کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اسی طرح دنیا ہے۔ آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بد صورت ہوجاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔ اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے (وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘاِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ 13ۚ) 36۔ يس :13) میں۔ پھر فرماتا ہے جس کا سینہ اسلام کے لئے کھل گیا، ذرا سوچو ! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہوسکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام :122) ، وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کردیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لئے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لئے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لئے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں۔

آیت 21 - سورہ زمر: (ألم تر أن الله أنزل من السماء ماء فسلكه ينابيع في الأرض ثم يخرج به زرعا مختلفا ألوانه ثم يهيج...) - اردو