سورہ زمر (39): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ زمر کے بارے میں معلومات

Surah Az-Zumar
سُورَةُ الزُّمَرِ
صفحہ 460 (آیات 11 سے 21 تک)

قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ ٱلدِّينَ وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلْمُسْلِمِينَ قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ قُلِ ٱللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُۥ دِينِى فَٱعْبُدُوا۟ مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥ ۚ يَٰعِبَادِ فَٱتَّقُونِ وَٱلَّذِينَ ٱجْتَنَبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِى ٱلنَّارِ لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ ٱلْمِيعَادَ أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَٰمًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ
460

سورہ زمر کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ زمر کی تفسیر (تفسیر ابن کثیر: حافظ ابن کثیر)

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اِن سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی بندگی کروں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innee omirtu an aAAbuda Allaha mukhlisan lahu alddeena

اردو ترجمہ

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waomirtu lian akoona awwala almuslimeena

اردو ترجمہ

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innee akhafu in AAasaytu rabbee AAathaba yawmin AAatheemin

حکم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن عذاب الٰہی سے بےخوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کردو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہوجائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہوگا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہوگی۔ جیسے فرمایا (لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 41؀) 7۔ الاعراف :41) یعنی ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہوگا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے اور آیت میں ہے قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہوگا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔ یہ اس لئے ظاہر و باہر کردیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقینا آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہوجائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔

اردو ترجمہ

کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli Allaha aAAbudu mukhlisan lahu deenee

اردو ترجمہ

تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

FaoAAbudoo ma shitum min doonihi qul inna alkhasireena allatheena khasiroo anfusahum waahleehim yawma alqiyamati ala thalika huwa alkhusranu almubeenu

اردو ترجمہ

اُن پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو، میرے غضب سے بچو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lahum min fawqihim thulalun mina alnnari wamin tahtihim thulalun thalika yukhawwifu Allahu bihi AAibadahu ya AAibadi faittaqooni

اردو ترجمہ

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena ijtanaboo alttaghoota an yaAAbudooha waanaboo ila Allahi lahumu albushra fabashshir AAibadi

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی ؓ کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena yastamiAAoona alqawla fayattabiAAoona ahsanahu olaika allatheena hadahumu Allahu waolaika hum oloo alalbabi

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaman haqqa AAalayhi kalimatu alAAathabi afaanta tunqithu man fee alnnari

نیک اعمال کے حامل لوگوں کے لئے محلات۔ فرماتا ہے کہ جس کی بدبختی لکھی جا چکی ہے تو اسے کوئی بھی راہ راست نہیں دکھا سکتا کون ہے جو اللہ کے گمراہ کئے ہوئے کو راہ راست دکھا سکے ؟ تجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تو ان کی رہبری کر کے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ہاں نیک بخت نیک اعمال نیک عقدہ لوگ قیامت کے دن جنت کے محلات میں مزے کریں گے، ان بالا خانوں میں جو کئی کئی منزلوں کے ہیں، تمام سامان آرائش سے آراستہ ہیں وسیع اور بلند خوبصورت اور جگمگ کرتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے محل ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کن کے لئے ہیں ؟ فرمایا ان کے لئے جو نرم کلامی کریں کھانا کھلائیں اور راتوں کو جب لوگ میٹھی نیند میں ہوں یہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر گڑ گڑائیں۔ نمازیں پڑھیں (ترمذی وغیرہ) مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنایا ہے جو کھانا کھلائیں کلام کو نرم رکھیں پے درپے نفل روزے بکثرت رکھیں اور پچھلی راتوں کو تہد پڑھیں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے جنتی جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو اور روایت میں ہے مشرقی مغربی کناروں کے ستارے جس طرح تمہیں دکھائی دیتے ہیں اسی طرح جنت کے وہ محلات تمہیں نظر آئیں گے اور حدیث میں ہے کہ ان محلات کی یہ تعریفیں سن کر لوگوں نے کہا حضور ﷺ یہ تو نبیوں کے لئے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور صحابہ ؓ نے کہ یا رسول اللہ ﷺ جب تک ہم آپ کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور آپ کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں اس وقت تک تو ہمارے دل نرم رہتے ہیں اور ہم آخرت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر دنیوی کاروبار میں پھنس جاتے ہیں بال بچوں میں مشغول ہوجاتے ہیں تو اس وقت ہماری وہ حالت نہیں رہتی۔ تو آپ نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی حالت پر رہتے جو حالت تمہاری میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہارے گھروں میں آ کر تم سے ملاقاتیں کرتے۔ سنو اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں بخشے۔ ہم نے کہا حضور ﷺ جنت کی بنا کس چیز کی ہے ؟ فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی۔ اس کا چونا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں لولو اور یاقوت ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے۔ اس میں جو داخل ہوگیا وہ مالا مال ہوگیا۔ جس کے بعد بےمال ہونے کا خطرہ ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں ہی رہے گا وہاں سے نکالے جانے کا امکان ہی نہیں۔ نہ موت کا کھٹکا ہے، ان کے کپڑے گلتے سڑتے نہیں، ان کی جوانی دوامی ہے۔ سنو تین شخصوں کی دعا مردود نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روزے دار اور مظلوم۔ ان کی دعا ابر پر اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ رب العزت فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہو۔ (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) ان محلات کے درمیان چشمے بہ رہے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جہاں چاہیں پانی پہنچائیں جب اور جتنا چاہیں بہاؤ رہے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ اپنے مومن بندوں سے یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے۔

اردو ترجمہ

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lakini allatheena ittaqaw rabbahum lahum ghurafun min fawqiha ghurafun mabniyyatun tajree min tahtiha alanharu waAAda Allahi la yukhlifu Allahu almeeAAada

اردو ترجمہ

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam tara anna Allaha anzala mina alssamai maan fasalakahu yanabeeAAa fee alardi thumma yukhriju bihi zarAAan mukhtalifan alwanuhu thumma yaheeju fatarahu musfarran thumma yajAAaluhu hutaman inna fee thalika lathikra liolee alalbabi

زندگی کی بہترین مثال۔زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہوجاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت میں ان کی جوانی بڑھاپے سے اور سبزی زردے سے بدل جاتی ہے۔ پھر خشک ہوجاتی ہے اور کاٹ لی جاتی ہے۔ کیا اس میں عقل مندوں کے لئے بصیرت و نصیحت نہیں ؟ کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اسی طرح دنیا ہے۔ آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بد صورت ہوجاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔ اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے (وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘاِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ 13ۚ) 36۔ يس :13) میں۔ پھر فرماتا ہے جس کا سینہ اسلام کے لئے کھل گیا، ذرا سوچو ! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہوسکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام :122) ، وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کردیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لئے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لئے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لئے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں۔

460