اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ ٱلدِّينَ
وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلْمُسْلِمِينَ
قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
قُلِ ٱللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُۥ دِينِى
فَٱعْبُدُوا۟ مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ
لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥ ۚ يَٰعِبَادِ فَٱتَّقُونِ
وَٱلَّذِينَ ٱجْتَنَبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ
ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِى ٱلنَّارِ
لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ ٱلْمِيعَادَ
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَٰمًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ
آیت 11 { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ یہ مضمون اس سورت کا عمود ہے اور اس میں بار بار آئے گا۔ چناچہ اس مضمون کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ہرچیز کی طرح عبادت کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک اس کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت کا ظاہر اس کی رسومات ہیں۔ ”رسم“ کسی شے کی ظاہری شکل کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لکھائی میں جو حروف اور الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کی ظاہری اشکال کو ”رسم“ رسم الخ ط کہتے ہیں۔ جیسے قرآن کا موجودہ رسم الخط ”رسم عثمانی“ کہلاتا ہے۔ اب اگر نماز کی مثال لیں تو نماز میں کھڑے ہونا ‘ اللہ کی حمد و تسبیح کرنا ‘ رکوع و سجدہ کرنا مراسم عبادت ہیں۔ بعض دوسرے مذاہب میں اپنے معبود کے سامنے مودب کھڑے ہونا ‘ سلیوٹ کرنا اور ہاتھ جو ڑناوغیرہ ان کی عبادت کے مراسم ہیں۔ چناچہ عرف عام میں مراسم ِعبودیت عبادت کی ظاہری شکل و صورت کو ہی ”عبادت“ سمجھا جاتا ہے جبکہ عبادت کی اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ اب عبادت کی اصل حقیقت کو یوں سمجھیں کہ یہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک جسد ہے اور ایک اس کی روح۔ اصل عبادت کا جسد ”اطاعت“ ہے۔ لیکن عبادت کے حوالے سے اطاعت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے لفظ ”عبادت“ کے لغوی معنی کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ عبادت کا لفظ ”عبد“ سے مشتق ہے اور عبد کے معنی غلام کے ہیں۔ عبد یا غلام اپنے آقا کی ہمہ تن اور ہمہ وقت اطاعت غلامی کا پابند ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں اس سے پہلے ہم یہ لفظ دو مرتبہ غلامی اور کلی اطاعت کے معنی میں پڑھ چکے ہیں۔ سورة المومنون میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ﷺ کے بارے میں فرعون کا یہ قول نقل ہوا ہے : { وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ۔ } کہ ان کی قوم تو ہماری غلام ہے۔ اسی طرح سورة الشعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس مکالمے کا حوالہ آچکا ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : { وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔ ”اور یہ احسان جو تو مجھے جتلا رہا ہے کیا یہ اس کا بدلہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ؟“ اب ظاہر ہے بنی اسرائیل فرعون یا قبطیوں کی پرستش یا پوجا تو نہیں کرتے تھے ‘ وہ ان کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور انہیں سجدہ بھی نہیں کرتے تھے۔ البتہ وہ ان کے غلام تھے اور اس حیثیت میں ان کی ”اطاعت“ کے پابند تھے۔ لہٰذا متذکرہ بالا دونوں آیات میں عبد کا لفظ کلی اطاعت یا غلامی کے مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے۔ چناچہ اطاعت یا غلامی دراصل عبادت کا جسد ہے جبکہ اس کی روح ”محبت“ ہے۔ یعنی اگر کسی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی اطاعت کی جائے تو وہ اس کی عبادت ہوگی ‘ جبکہ جبری اطاعت عبادت نہیں ہوسکتی۔ مثلاً 1947 ء سے پہلے برصغیر میں ہم لوگ انگریز کی اطاعت کرتے تھے ‘ لیکن ہماری اس اطاعت کو عبادت نہیں کہا جاسکتا ‘ اس لیے کہ یہ جبری اطاعت تھی۔ امام ابن تیمیہ رح اور ان کے شاگرد حافظ ابن قیم رح نے عبادت کی تعریف یوں کی ہے : العبادۃ تجمع اََصْلَین : غایۃَ الحُبِّ مع غایۃ الذُّلِّ والخُضوع یعنی اللہ کی عبادت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے : اس کے ساتھ غایت درجے کی محبت اور اس کے سامنے غایت درجے کا تذلل اور عاجزی کا اظہار۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حد درجے کی محبت کے ساتھ خود کو اللہ کے سامنے بچھا دے اور اس کا مطیع و منقاد ہوجائے۔ چناچہ اللہ کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی کلی اطاعت کرنا اصل عبادت ہے ‘ جبکہ مراسم عبادت کی حیثیت عبادت کے ”ظاہر“ کی ہے۔ آیت زیر مطالعہ کا مضمون گویا اس سورت کا عمود ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اللہ کی اطاعت سے آزاد کسی دوسرے کی مستقل بالذات اطاعت تو شرک ہے ہی ‘ لیکن اگر کسی نے اللہ کی اطاعت کے ساتھ کسی اور کی اطاعت کو بھی شریک کرلیا تو ایسی جزوی یا مشترکہ اطاعت اللہ کو قبول نہیں۔ ایسی اطاعت اللہ کی طرف سے ایسے اطاعت گزار کے منہ پردے ماری جائے گی۔ اس حوالے سے سورة البقرۃ کی آیت 208 کا یہ حکم بہت واضح ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } ”اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو !“ یعنی اللہ کو ُ کلی اطاعت مطلوب ہے۔ کسی کی پچیس فی صد ‘ پچاس فی صد یا پچھتر ّ 75 فی صد اطاعت اسے قبول نہیں۔ یہ تو ہے عبادت کی اصل روح اور اطاعت کی اصل کیفیت جو اللہ کو مطلوب ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم پانچ یا دس فیصد اطاعت پر ہی اللہ کو نعوذ باللہ ٹرخا دیں گے اور وہ اسی معیار کی اطاعت پر ہمیں جنت اور اس کی نعمتوں سے نواز دے گا۔ دراصل ہماری اسی ٹیڑھی سوچ کی وجہ سے آج ہمارے ذہنوں سے زندگی کے تمام گوشوں میں اللہ کی کلی اطاعت اور کلی بندگی کا تصور نکل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے اسی تصور کو زیر مطالعہ سورتوں میں ایک خاص ترتیب سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ اس مضمون کی جڑیں اس پہلی سورت میں ملیں گی اور اس کی چوٹی چوتھی سورت یعنی سورة الشوریٰ میں جا کر نظر آئے گی۔
آیت 12{ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرماں بردار میں خود بنوں۔“ ایسا ممکن نہیں کہ میں تم لوگوں کو تو اللہ کی فرماں برداری کی دعوت دوں اور خود مجھے اس کی پروا نہ ہو۔
آیت 13 { قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔“ میں خود بھی تو اللہ کا بندہ ہوں ‘ اور اس حیثیت سے اس کی ُ کلی اطاعت کا پابند ہوں۔ اس ضمن میں میرے لیے کوئی استثناء نہیں ‘ اور اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہوگا۔ یہ شرطیہ فقرہ ہے اور یوں سمجھیں کہ اس کے درمیان کا ”اگر“ گویا ایک پہاڑ ہے جسے پھلانگنا ناممکنات میں سے ہے۔ دراصل یہ انداز مخالفین کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلانے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے ‘ ورنہ حضور ﷺ کے لیے اس کا ہرگز کوئی امکان نہیں تھا۔
آیت 14 { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ } ”کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ نوٹ کیجیے ! اس مضمون کو یہاں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اور ہر بار پڑھنے سے اس میں ایک نیا حسن نظر آتا ہے اور ایک نئی تاثیر کا احساس ہوتا ہے۔ جب کہ ہم انسانوں کی دنیا میں کسی عبارت کے اندر الفاظ یا مضمون کی تکرار ‘ اس تحریر یا تصنیف کا بہت بڑا عیب بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے کہ اس کے ہاں تکرار سے کلام کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کی غیر معمولی تکرار کی غرض وغایت کو سمجھنے اور اس اسلوبِ خاص میں تاکید emphasis کی شدت کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سورت کے آغاز سے لے کر آیت زیر مطالعہ تک مذکورہ مضمون سے متعلقہ آیات کو ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ آغاز میں فرمایا گیا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ۔ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُط } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ ‘ پس بندگی کرو اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے“۔ اس کے بعد آیت 11 ملاحظہ کیجیے : { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ۔ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ اور اب زیرمطالعہ آیت کا مضمون دیکھئے : { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ۔ ”کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ گویا تکرار پر تکرار ہے ‘ اصرار پر اصرار ہے اور تاکید پر تاکید ہے۔
آیت 15 { فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ } ”تو تم جس کو چاہو پوجو اس کے سوا !“ { قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن۔“ یہاں پر تو وہ حرام خوری کے ذریعے خود بھی مزے میں ہیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن اس روش کو اپنا کر وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوئی بھلائی یا خیر خواہی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت میں وہ خود کو اور ان کو جہنم کا ایندھن بنانے کے اسباب پیدا کر رہے ہیں۔ سورة التحریم ‘ آیت 6 میں اہل ایمان کو اس حوالے سے خصوصی طور پر حکم دیا گیا ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا…} ”اے اہل ایمان ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے…“ لیکن اس کے برعکس جو شخص خود کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ کا مستحق بنا لے اس سے بڑھ کر اور کون گھاٹے میں ہوگا ! { اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ } ”آگاہ ہو جائو یہی تو کھلا خسارا ہے۔“
آیت 16 { لَہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} ”ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے بادل ہوں گے تہہ بر تہہ اور نیچے سے بھی آگ کے بھب کے ہوں گے تہہ بر تہہ۔“ { ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗط } ”یہ وہ شے ہے جس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو۔“ { یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ } ”اے میرے بندو ! پس تم مجھ سے ڈرو۔“ میری ان وعیدوں سے ڈر کر تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔
آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْہَا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی اس طرح کہ اس کی بندگی نہ کی“ طاغوت کا لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے یہ لفظ سورة البقرۃ کی اس آیت میں پڑھا تھا : { فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق } آیت 257 ”تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا“۔ لفظ طاغوت کا مادہ ”طغی“ ہے اور اس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ اسی مادہ سے اردو لفظ ”طغیانی“ مشتق ہے۔ دریا اپنے کناروں کے اندر بہہ رہا ہو تو بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے لیکن جب وہ اپنی ”حدود“ سے باہر نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ دریا میں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح انسان اگر اللہ کی بندگی کی حد میں رہے تو وہ اللہ کا بندہ ہے ‘ اس کا خلیفہ ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن اگر بندگی کی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ ”طاغوت“ ہے۔ پھر چاہے ان حدود کو پھلانگنے کے بعد وہ اپنے نفس کا بندہ بن جائے یا کسی اور کو اپنا مطاع بنا لے ‘ خود حاکم بن بیٹھے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی حاکمیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے ‘ اللہ کی نظر میں وہ طاغوت ہی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے کنارہ کشی کرلی اس سے کہ وہ طاغوت کی اطاعت یا بندگی کریں : { وَاَنَابُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰیج فَبَشِّرْ عِبَادِ } ”اور انہوں نے رجوع کرلیا اللہ کی طرف ‘ ان کے لیے بشارت ہے ‘ تو اے نبی ﷺ ! میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اب اگلی آیت بہت اہم ہے ‘ اس میں ان بندوں کی صفت بیان کی گئی ہے جنہیں بشارت دی جا رہی ہے۔
آیت 18 { الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ } ”جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ‘ پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔“ یعنی یہ دین جس کی طرف اللہ تمہیں بلا رہا ہے اس کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ پہلاد رجہ اسلام ہے ‘ اس سے اونچا درجہ ایمان اور پھر سب سے اونچا درجہ احسان ہے۔ درجہ احسان پر فائز لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے { وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ } المائدۃ کی بشارت سنائی ہے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور ہر لمحہ بہتر سے بہتر درجے پر پہنچنے کی فکر میں رہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا طرز عمل اس کے برعکس ہے۔ دُنیوی معاملات میں تو ہمارا ماٹو بقول حالیؔ یہ ہے کہ ـ: ؎ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں !جبکہ دین کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ ہم کم سے کم پر گزارا کرنا چاہتے ہیں بلکہ پسپائی اختیار کرنے کی فکر میں ہر وقت کسی گنجائش اور رعایت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک بندہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کے معاملے میں تو کم سے کم پر گزارا کرے اور دین کے معاملے میں ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کرنے کی فکر میں رہے۔ { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدٰٹہُمُ اللّٰہُ وَاُولٰٓئِکَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل مند ہیں۔“
آیت 19{ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ } ”تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ !“ اس کے بعد یہ جملہ گویا محذوف ہے : کَمَنْ ھُوَ فِی الْجَنَّۃِ ؟ یعنی جو شخص عذاب کا مستحق ہوچکا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو کہ جنت میں جانے والا ہے ؟ { اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟“ یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب سے متعلق اللہ کے قانون کی زد میں آ چکے ہیں۔ اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔ وہ گمراہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ایمان کی طرف ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ چناچہ اب وہ آگ کا ایندھن بننے والے ہیں اور اس مرحلے پر آپ ﷺ ان کو اس بھیانک انجام سے نہیں بچا سکتے۔
آیت 20 { لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ} ”لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوں پر بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ُ چنے ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں کئی کئی منزلہ رہائش گاہیں skyscrapers عطا فرمائے گا۔ { تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُط } ”ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔“ { وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ } ”یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“
آیت 21 { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی ‘ پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں“ { ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ } ”پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں“ { ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے ‘ پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے“ { ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًاط } ”پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔“ کچھ عرصہ پہلے جس کھیت میں فصل لہلہا رہی تھی اب وہاں خاک اڑ رہی ہے اور خشک بھوسے کے کچھ تنکے ہیں جو ادھر ادھر بکھرے نظر آ رہے ہیں۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”یقینا اس میں یاد دہانی اور سبق ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔“ یعنی اگر غور سے دیکھا جائے تو فصل کے اگنے ‘ نشوونما پا کر پوری طرح تیار ہونے ‘ پک کر سوکھ جانے اور پھر کٹ کر چورا چورا ہوجانے میں انسانی زندگی ہی کے مختلف مراحل کا نقشہ نظر آتا ہے۔ جس طرح فصل کے اپچنے پر کسان خوش ہوتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ بچہ پرورش پا کر جوان ہوتا ہے ‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے۔ جوانی کی طاقت گھٹنا شروع ہوجاتی ہے ‘ قویٰ کمزور پڑنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن اسے قبر میں اتار دیا جاتا ہے ‘ جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ چناچہ موسمی فصلوں اور انسانوں کا life cycle ایک سا ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ فصل کے اگنے سے لے کر کٹنے تک چند ماہ کا عرصہ درکار ہے جبکہ انسانی زندگی میں یہ دورانیہ پچاس ساٹھ سال کا ہے۔ بہر حال ”زندگی“ دونوں جگہ مشترک ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو نباتاتی زندگی Botany اور حیوانی زندگی Zoology دونوں حیاتیات Biology ہی کی شاخیں ہیں۔