آیت نمبر 41 تا 44
انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔
فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے
اندر تصرف فرماتا ہے۔
اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔
ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔
ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔
اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا
ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔
له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔
آیت 41 { اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کردی ہے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ۔“ { فَمَنِ اہْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ } ”تو جو کوئی ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔“ { وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا } ”اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ”اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔“ آپ ﷺ ان لوگوں کے انجام کے بارے میں جوابدہ نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور قیامت کے دن اسی کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا جائے گا۔
نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا۔اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں، ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی ہے ہمارے ہی قبضے میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے الخ، یعنی وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کردیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے۔ پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو۔ پھر یہ دعا پڑھے۔ یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، بعض سلف کا قول ہے کہ مردوں کی روحیں جب وہ مریں اور زندوں کی روحیں جب وہ سوئیں قبض کرلی جاتی ہیں اور ان میں آپس میں تعارف ہوتا ہے۔ جب تک اللہ چاہے پھر مردوں کی روحیں تو روک لی جاتی ہیں اور دوسری روحیں مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یعنی مرنے کے وقت تک۔ حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں۔ مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پالیتے ہیں۔