اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَ ۚ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَمْلِكُونَ شَيْـًٔا وَلَا يَعْقِلُونَ
قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعًا ۖ لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحْدَهُ ٱشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ عَٰلِمَ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِى مَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا۟ يَحْتَسِبُونَ
آیت نمبر 41 تا 44
انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔
فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے
اندر تصرف فرماتا ہے۔
اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔
ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔
ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔
اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا
ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔
له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔
آیت نمبر 45
یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم ﷺ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔
آیت نمبر 46
یہ اس فطرت کی پکار ہے جو زمین و آسمان کو دیکھ رہی ہو۔ اور اس کے لیے یہ بات مشکل ہو کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو الہہ مان سکے جو خالق ارض وسما ہے۔ لہٰذا یہ فطرت اس کی طرف اعتراف اور اقرار کے ساتھ متوجہ ہوتی ہے اور اللہ کی تعریف و تمجید ان صفات کے ساتھ کرتی ہے جو اس کے لائق ہیں یعنی ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے “۔
علم الغیب والشھادۃ (39: 46) ” اے حاضر و غائب کو جاننے والے “۔ اے ظاہر و باطن کو جاننے والے۔
انت۔۔۔۔ یختلفون (39: 46) ” تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں “۔ کیونکہ قیامت کے دن تو وہی حاکم ہوگا۔ اور سب نے قیامت میں اسی کے سامنے آنا ہوگا۔ اور کوئی قیامت کی حاضری سے بچ کر نکلنے والا نہیں ہے۔ اور جب اللہ کے بندے قیامت کے روز کے فیصلے کے لیے حاضر کیے جائیں گے تو ان کی حالت پھر کیا ہوگی ذرا اسکرین پر یہ منظر دیکھیں :
آیت نمبر 47 تا 48
ایک ہولناک صورت حال کا جامہ پہنادیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہی کرسکتا ہے ، یہ ظالم جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے ۔ اگر قیامت کے دن ان کے قبضے میں یہ پوری زمین ہو اور اس جیسی ایک اور زمین بھی اور وہ اس کے اور مافیہا کے واحد مالک ہوں تو وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس عذاب سے یہ لوگ رہائی نہ پاسکیں گے۔ ان جامع الفاظ کے اندر ایک دوسری دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔
وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ وہاں ان کے سامنے اللہ کی طرف سے کیا غیر متوقع انکشافات ہوں گے ؟ لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوگا وہ بہت ہی خوفناک ہوگا اور وہ ان کو مدہوش کردے گا۔ اور وہ حواص باختہ پھریں گے۔ ایک طرف اللہ ہے اور دوسری طرف یہ ضعفاء ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے خوفناک انکشافات ہوں گے یہاں ان کو متعین نہیں کیا گیا۔
وبدالھم۔۔۔۔ یستھزءون (39: 48) ” وہاں اپنی کمائی کے سارے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس سے بھی ان کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ جب ان کے سامنے اپنے کرتوتوں کے نتائج بھیانک شکل میں آئیں گے۔ اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ انہیں گھیرلے گا۔ اور وہ نہایت ہی کربناک حالت میں ہوں گے۔ اعاذنا اللہ منھا۔
اب اس موقف کے بعد جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ، اس رب کے سامنے جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے تھے اور جب اللہ وحدہ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے دل سکڑ جاتے اور جب ان کے شرکاء کا ذکر ہوتا تو وہ کھل جاتے تھے۔ ان مضامین کے بعد ان کی عجیب حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی وحدانیت کا تو انکار کرتے ہیں لیکن جب یہ کسی بڑی مصیبت میں پھنستے ہیں تو صرف اللہ وحدہ کو نہایت عاجزی سے پکارتے ہیں۔ لیکن جب ان سے یہ مصیبت ٹل جائے تو پھر تکبر کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔