آیت نمبر 45
یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم ﷺ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔
آیت 45 { وَاِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ } ”اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں۔“ یہ اصلاً تو کفار کا ذکر ہے ‘ مگر مسلمانوں میں سے بھی جو مشرکانہ ذوق رکھتے ہیں ان کا یہی حال ہے کہ اگر کہیں صرف اللہ ہی کی بات ہو رہی ہو تو انہیں یہ اچھا نہیں لگتا۔ کسی تقریر یا وعظ میں اگر ساری گفتگو توحید پر ہی ہو تو عام طور پر لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں نہ تو اولیاء اللہ کی کرامات کا ذکر کیا جارہا ہے اور نہ ہی شان نبوت بیان ہو رہی ہے ! { وَاِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ } ”اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں۔“