سورہ زمر: آیت 55 - واتبعوا أحسن ما أنزل إليكم... - اردو

آیت 55 کی تفسیر, سورہ زمر

وَٱتَّبِعُوٓا۟ أَحْسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

اردو ترجمہ

اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaittabiAAoo ahsana ma onzila ilaykum min rabbikum min qabli an yatiyakumu alAAathabu baghtatan waantum la tashAAuroona

آیت 55 کی تفسیر

آیت 55 { وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ”اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے“ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 18 میں بھی آچکا ہے ‘ وہاں پر { فَـیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط } کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا قرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورة التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ } آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ سورة النساء کی آیت 69 میں بھی چار مدارج کا ذکر ہے۔ ان میں پہلا درجہ انبیاء کرام علیہ السلام کا ہے ‘ دوسرے درجے پر صدیقین ہیں ‘ تیسرے درجے پر شہداء اور چوتھے پر صالحین۔ سورة الحدید میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے اتباع میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ { مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آدھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو۔“

آیت 55 - سورہ زمر: (واتبعوا أحسن ما أنزل إليكم من ربكم من قبل أن يأتيكم العذاب بغتة وأنتم لا تشعرون...) - اردو