اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَبَدَا لَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
فَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلْمٍۭ ۚ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
قَدْ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ هَٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ وَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ
أَوَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
۞ قُلْ يَٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسْرَفُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا۟ مِن رَّحْمَةِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
وَأَنِيبُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا۟ لَهُۥ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
وَٱتَّبِعُوٓا۟ أَحْسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَٰحَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِى جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّٰخِرِينَ
آیت 48 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کی کمائی کے سارے ُ برے نتائج اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔“
آیت 49 { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَاز } ”تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے“ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا } ”پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں“ { قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ } ”تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر۔“ وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری سمجھ ‘ ذہانت و فطانت اور منصوبہ بندی کا کمال ہے۔ میں نے بہت پہلے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ عنقریب اس چیز کی ڈیمانڈ آنے والی ہے ‘ چناچہ میں نے بر وقت فیکٹری لگا لی اور یوں میرے وارے نیارے ہوگئے۔ یہ مضمون سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ آچکا ہے۔ اس نے بھی اپنی دولت کے بارے میں کہا تھا : { اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ } آیت 78 کہ یہ سب کچھ تو مجھے میری ذہانت و فطانت کی وجہ سے ملا ہے۔ { بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے ‘ لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“
آیت 50 { قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی“ مثلاً قارون بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتا تھا۔ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی۔“ جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اپنی اس دولت کے بل پر وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ پایا۔
آیت 51 { فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا } ”پس انہیں اس کے بدنتائج پہنچ گئے جو وہ کماتے تھے۔“ { وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ہٰٓؤُلَآئِ } ”اور ان میں سے بھی جو لوگ ظلم شرک کی روش اختیار کریں گے“ { سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْالا وَمَا ہُمْ بِمُعْجِزِیْنَ } ”ان کو پہنچ کر رہیں گے ان کے کرتوتوں کے برے نتائج ‘ اور وہ اللہ کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں۔“
آیت 52 { اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”کیا یہ جانتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو کشادہ کردیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ماننے والے ہیں۔“
آیت 53 { قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے !“ قُلْ یٰعِبَادِیْکا اندازِ تخاطب اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 10 میں ارشاد ہوا : { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو“۔ اب یہاں گویا پھر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اب تک کی زندگی اگر تم لوگوں نے غفلت میں گزار دی ہے تو اب بھی وقت ہے ‘ اب بھی ہوش میں آ جائو ! اور اگر تم نے اب تک اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو : { لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا } ”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ‘ یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا۔“ ٭ لیکن اس معافی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے حضور خلوص دل سے توبہ کرو ‘ حرام خوری چھوڑ دو ‘ معصیت کی روش ترک کر دو اور آئندہ کے لیے اپنے اعمال کو درست کرلو۔ ایسی توبہ کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملے گا کہ تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔ سورة الفرقان میں اس بارے میں بہت واضح حکم موجود ہے : { اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًارَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ ”سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے ‘ تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ‘ اور اللہ غفور ہے ‘ رحیم ہے۔ اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو یہی شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق ہے“۔ چناچہ سابقہ گناہوں کی معافی توبہ سے ممکن ہے ‘ لیکن توبہ وہی قبول ہوگی جس کے بعد انسان کے اعمال درست ہوجائیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو رسمی اور زبانی توبہ بےمعنی ہے۔ { اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ } ”یقینا وہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
آیت 54 { وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ } ”اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو ‘ اور اس کے فرمانبردار بن جائو“ { مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے ‘ پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔“
آیت 55 { وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ”اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے“ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 18 میں بھی آچکا ہے ‘ وہاں پر { فَـیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط } کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا قرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورة التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ } آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ سورة النساء کی آیت 69 میں بھی چار مدارج کا ذکر ہے۔ ان میں پہلا درجہ انبیاء کرام علیہ السلام کا ہے ‘ دوسرے درجے پر صدیقین ہیں ‘ تیسرے درجے پر شہداء اور چوتھے پر صالحین۔ سورة الحدید میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے اتباع میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ { مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آدھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو۔“
آیت 56 { اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ } ”مبادا کہ اس وقت کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو مجھ سے اللہ کی جناب میں ہوئی“ م ہائے میری بدقسمتی کہ میں زندگی بھر اپنے دھندوں میں اس طرح مگن رہا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پہچان ہی نہ سکا۔ میرے سامنے اللہ کا دین مغلوب تھا مگر میں اس کی سربلندی کے لیے جدو جہد کرنے کے بجائے اپنی عیش و عشرت کے مواقع ڈھونڈنے اور اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دنیا کے مال و متاع کو ہی اپنا معبود سمجھ لیا اور عمر بھر اسی کے لیے اپنا تن من دھن کھپاتا رہا۔ { وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِیْنَ } ”اور میں تو مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔“ میں نے اللہ تعالیٰ ‘ اس کے دین اور آخرت کی باتوں کو نہ کبھی دھیان سے سنا اور نہ ہی کبھی سنجیدگی سے ان پر غور کیا ‘ بلکہ میں تو ہمیشہ ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتا رہا۔