آیت نمبر 57
یہ استدلال بادی النظر میں غلط ہے۔ فرصت کی گھڑی موجود ہے ، ہدایت کے ذرئع موجود ہیں ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور
تمہیں آزادی دی گئی ہے۔
آیت 57 { اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰٹنِیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ } ”یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہوجاتا !“ اگر کوئی شخص ایسے کہے گا تو گویا وہ اپنے اس اختیار کی نفی کرے گا جو اسے انسان کی حیثیت سے دنیا میں عطا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنایا تھا اور اختیار دیا تھا : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا } الدھر کہ چاہو تو میرے شکر گزار بندے بن کر رہو اور چاہو تو نافرمان اور ناشکرے بن جائو۔