آیت نمبر 74
یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔
آیت 74 { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ } ”اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا“ { وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ } ”اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔“ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ } ”تو بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !“ گواہوں نے گواہیاں دے دیں ‘ آخری فیصلے صادر کردیے گئے ‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا ‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ اب آخری آیت میں گویا عدالت ِمحشر کا اختتامی منظر ڈراپ سین دکھایا جا رہا ہے :