اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ
وَأَشْرَقَتِ ٱلْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلْكِتَٰبُ وَجِا۟ىٓءَ بِٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
قِيلَ ٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ إِلَى ٱلْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَٱدْخُلُوهَا خَٰلِدِينَ
وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى صَدَقَنَا وَعْدَهُۥ وَأَوْرَثَنَا ٱلْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ
آیت 68 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ } ”اور صور میں پھونکا جائے گا تو بےہوش ہوجائیں گے جو کوئی بھی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا۔“ یہ منظر بہت دہشت ناک ہوگا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ فرشتوں کے علاوہ باقی تمام فرشتے بھی صور کی اس آواز سے بےہوش ہو کر گرپڑیں گے۔ دراصل یہ تین نفخے ہوں گے۔ پہلا نفخہ وہ ہوگا جسے قرآن میں ”السَّاعۃ“ بھی کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید زلزلے ‘ ہلچل اور طوفان کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ سورج اور چاند آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ ہوگا جس کے نتیجے میں تمام جانداروں پر موت طاری ہوجائے گی۔ اس آیت میں اسی دوسرے نفخہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد نفخہ ثالثہ کی کیفیت یوں ہوگی : { ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ } ”پھر اس صور میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کے سب کھڑے ہوجائیں گے دیکھتے ہوئے۔“ اس تیسرے نفخے کے نتیجے میں تمام انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ یہ گویا بعث بعد الموت کا نفخہ ہوگا اور اسی کا نام قیامت کھڑے ہونا ہے۔
آیت 69 { وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا } ”اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے“ اس وقت کی کیفیت کو سورة الفرقان میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا } ”اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا بادلوں کی مانند اور فرشتے نازل کیے جائیں گے لگاتار“۔ پھر اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائیں گے اور فرشتے صفیں باندھے نیچے اتریں گے : { وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } الفجر۔ { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ } ”اور اعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا“ لوگوں کے اعمال نامے کا سر محشر لا کر رکھے جانے کی صورت حال کا نقشہ سورة الکہف کی آیت 49 میں یوں کھینچا گیا ہے : { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ وہ لرزاں و ترساں ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ تو کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے“۔ اس کے بعد کی کیفیت کا نقشہ آگے دکھایا جا رہا ہے : { وَجِایْٓئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّہَدَآئِ } ”اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید“ یہاں ”شہید“ سے مراد اوّلاً تو رسول ہیں کہ وہ اپنی اپنی امتوں پر سب سے پہلے گواہی دیں گے۔ سورة الحج کی آخری آیت میں حضور ﷺ کی اپنی امت پر گواہی کے بارے میں فرمایا گیا : { لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ } ”تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو“۔ لیکن یہاں انبیاء کے ذکر کے بعد شہید کا لفظ خصوصی طور پر اس لیے لایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں کو بھی گواہ کے طور پر بلایا جائے گا جو انبیاء و رسل علیہ السلام کی طرف سے تبلیغ کرتے رہے ہوں گے۔ جیسے عشرہ مبشرہ میں سے چھ چوٹی کے صحابہ وہ ہیں جو حضرت ابوبکرصدیق رض کی تبلیغ کے نتیجے میں ایمان لائے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بہت سے علاقوں اور قبیلوں کی خواہش پر اپنے بعض صحابہ رض کو قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے بھیجا۔ ایسے مبلغ اور معلم ّصحابہ رض زیادہ تر اصحابِ ُ صفہّ رض میں سے تھے۔ ان صحابہ رض نے حضور ﷺ کی طرف سے جن لوگوں کو دعوت دی تھی ‘ قیامت کے دن ان پر وہ گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! تیرے نبی ﷺ نے تیرے دین کا جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا ہم نے وہ ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر حضور ﷺ کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کی یہ ذمہ داری آپ ﷺ کی امت کی طرف منتقل ہوگئی اور اس لحاظ سے آج ہم سب اس ذمہ داری کے مکلف ہیں۔ چناچہ ہمیں وہاں بطور گواہ بلایا جائے گا کہ محمد ﷺ کی طرف سے اللہ کا جو دین تم تک وراثتاً پہنچا تھا کیا تم لوگوں نے اسے آگے نوع انسانی تک پہنچا دیا تھا ؟ اگر خدانخواستہ ہم یہ گواہی دینے میں ناکام رہے تو ان تمام لوگوں کی گمراہی اور ضلالت کا وبال بھی ہماری گردن پر آئے گا جو ہمارے حلقہ اثر اور دائرئہ اختیار میں تھے اور ہم انہیں دعوت نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اگر ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق یہ حق ادا کردیا ہوگا تو ہم اس گواہی سے سرخرو ہوں گے اور وہ لوگ اپنے اعمال کے لیے اللہ کے ہاں خود جوابدہ ہوں گے۔ بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا منظر دکھایا گیا ہے جو سر محشر سجائی جائے گی۔ تمام بنی نوع انسان کا اعمال نامہ بھی لا کر اس عدالت کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر انبیاء و رسل علیہ السلام اور دوسرے گواہوں کو بھی لا یا جائے گا۔ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
آیت 70 { وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور پورا پورا دے دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ کہ اس نے عمل کیا ہوگا ‘ اور اللہ خوب جانتا ہے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں۔“ اس موضوع سے متعلق قرآن کے مختلف مقامات پر جو اشارے ملتے ہیں ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میدانِ حشر اسی زمین پر ہوگا۔ اس کے لیے زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا ‘ جیسا کہ سورة الانشقاق کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : { وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ }۔ پھر اسے بالکل ہموار اور چٹیل میدان کی شکل دے دی جائے گی ‘ اس طرح کہ : { لَا تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا } طٰہٰ ”تم نہیں دیکھو گے اس میں کوئی ٹیڑھ اور نہ کوئی ٹیلا“۔ پھر یہیں پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوگا اور یہیں پر فرشتے اتریں گے : { وَجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } الفجر اور یہیں پر حساب کتاب ہوگا۔ گویا قصہ زمین برسرزمین چکایا جائے گا۔ فیصلوں کے بعد اہل جنت کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور اہل ِجہنم کو جہنم کی طرف۔ یہ میدانِ حشر کا آخری منظر ہوگا جس کا نقشہ اگلے رکوع میں بڑے ُ پر جلال انداز میں کھینچا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ قرآن کا خاص مقام ہے۔
آیت 71 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا } ”اور ہانک کرلے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ۔“ اس طرح کہ ایک امت کے بعد دوسری امت اور پھر تیسری اُمت۔ غرض تمام امتوں کے مجرم لوگ اپنے اپنے لیڈروں کی قیادت میں جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سورة ہود میں فرعون اور اس کی قوم کے حوالے سے ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَط وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۔ } ”قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے ‘ پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے“۔ تو یوں اہل جہنم کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے“ جیسے جیل کے دروازے صرف نئے قیدیوں کے داخلے کے لیے ہی کھولے جاتے ہیں ‘ اسی طرح جہنم کے بند دروازے بھی مجرموں کی آمد پر ہی کھولے جائیں گے۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَآ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے“ ان مجرمین کی آمد پر جہنم پر مامور فرشتے ان سے پوچھیں گے : { اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ”کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول علیہ السلام نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے !“ { قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”وہ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا۔“ یعنی پیغمبروں نے تو دعوت و تبلیغ کا حق ادا کردیا ‘ لیکن یہ لوگ انکار اور کفر پر اڑے رہے اور یوں انہوں نے خود کو عذاب کا مستحق ثابت کر دکھایا۔
آیت 72 { قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”کہہ دیا جائے گا ان سے کہ داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا۔“ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں جو اکڑفوں تم لوگ دکھاتے رہے تھے اس کی وجہ سے آج تم اس انجام سے دو چار ہوئے ہو۔
آیت 73 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا } ”اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ۔“ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے“ یہاں پر ”و“ بہت معنی خیز ہے۔ اس ”و“ کی وجہ سے فقرے میں یہ مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ یعنی اہل جنت کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ ہو رہا ہوگا۔ اس حوالے سے سورة ص کی آیت 50 میں { مُفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ۔ } کے الفاظ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے : آپ پر سلام ہو ‘ آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں !“ { فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ } ”اب داخل ہوجائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے۔“
آیت 74 { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ } ”اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا“ { وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ } ”اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔“ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ } ”تو بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !“ گواہوں نے گواہیاں دے دیں ‘ آخری فیصلے صادر کردیے گئے ‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا ‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ اب آخری آیت میں گویا عدالت ِمحشر کا اختتامی منظر ڈراپ سین دکھایا جا رہا ہے :