یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ”
رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔
شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔
لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔
ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14)
یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔
لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔
ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔
ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔
ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔
ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔
مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے
نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔
آیت 13 { یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ لا } ”وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں“ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَز } ”اور اس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو۔“ { کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”ہرچیز چل رہی ہے ایک معین ّوقت تک۔“ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ } ”یہ اللہ ہے تمہارا ربّ ! ُ کل بادشاہی اسی کی ہے۔“ { وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ } ”اور جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا ‘ وہ ایک ذرّہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔“ عرب میں کھجور عام پائی جاتی تھی بلکہ یہ ان کی بنیادی غذائی جنس تھی ‘ اس لیے اس کے حوالے سے مختلف مثالیں بھی دی جاتیں۔ چناچہ کسی حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے قرآن میں کھجور سے متعلق دو الفاظ قِطمِیر اور فَتِیلاستعمال ہوئے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو باریک سی جھلی ہوتی ہے اسے قِطمِیر کہا جاتا ہے ‘ جبکہ فَتِیل وہ باریک سا دھاگا ہے جو کھجور کی گٹھلی کی ناف کے اندر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے رات کو اندھیرے والی اور دن کو روشنی والا بنایا ہے۔ کبھی کی راتیں بڑی کبھی کے دن بڑے۔ کبھی دونوں یکساں۔ کبھی جاڑے ہیں کبھی گرمیاں ہیں۔ اسی نے سورج اور چاند کو تھمے ہوئے اور چلتے پھرتے ستاروں کو مطیع کر رکھا ہے۔ مقدار معین پر اللہ کی طرف سے مقرر شدہ چال پر چلتے رہتے ہیں۔ پوری قدرتوں والے اور کامل علم والے اللہ نے یہ نظام قائم کر رکھا ہے جو برابر چل رہا ہے اور وقت مقررہ یعنی قیامت تک یونہی جاری رہے گا۔ جس اللہ نے یہ سب کیا ہے وہی دراصل لائق عبادت ہے اور وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں۔ جن بتوں کو اور اللہ کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں خواہ وہ فرشتے ہی کیوں نہ ہوں اور اللہ کے پاس بڑے درجے رکھنے والے ہی کیوں نہ ہوں لیکن سب کے سب اس کے سامنے محض مجبور اور بالکل بےبس ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کے باریک چھلکے جیسی چیز کا بھی انہیں اختیار نہیں۔ آسمان و زمین کی حقیر سے حقیر چیز کے بھی وہ مالک نہیں، جن جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری آواز سنتے ہی نہیں۔ تمہارے یہ بت وغیرہ بےجان چیزیں کان والی نہیں جو سن سکیں۔ بےجان چیزیں بھی کہیں کسی کی سن سکتی ہیں اور بالفرض تمہاری پکار سن بھی لیں تو چونکہ ان کے قبضے میں کوئی چیز نہیں اسلئے وہ تمہاری حاجت برآری کر نہیں سکتے۔ قیامت کے دن تمہارے اس شرک سے وہ انکاری ہوجائیں گے۔ تم سے بیزار نظر آئیں گے۔ جیسے فرمایا (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کو نہ قبول کرسکیں بلکہ ان کی دعا سے وہ محض بیخبر اور غافل ہیں اور میدان محشر میں وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادتوں سے منکر ہوجائیں گے اور آیت میں ہے (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا 81ۙ) 19۔ مریم :81) یعنی اللہ کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزت بنیں لیکن ایسا نہیں ہو سکے گا بلکہ وہ ان کی عبادتوں سے بھی منکر ہوجائیں گے اور ان کے مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ بھلا بتاؤ تو اللہ جیسی سچی خبریں اور کون دے سکتا ہے ؟ جو اس نے فرمایا وہ یقینا ہو کر ہی رہے گا۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس سے اللہ تعالیٰ پورا خبردار ہے اسی جیسی خبر کوئی اور نہیں دے سکتا۔