سورہ فاطر (35): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Faatir کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فاطر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ فاطر کے بارے میں معلومات

Surah Faatir
سُورَةُ فَاطِرٍ
صفحہ 436 (آیات 12 سے 18 تک)

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْبَحْرَانِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهُۥ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ۖ وَمِن كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا ۖ وَتَرَى ٱلْفُلْكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ ٱلْمُلْكُ ۚ وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا۟ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا۟ مَا ٱسْتَجَابُوا۟ لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلْفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰٓ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِۦ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ
436

سورہ فاطر کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ فاطر کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے مگر دونوں سے تم تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکر گزار بنو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama yastawee albahrani hatha AAathbun furatun saighun sharabuhu wahatha milhun ojajun wamin kullin takuloona lahman tariyyan watastakhrijoona hilyatan talbasoonaha watara alfulka feehi mawakhira litabtaghoo min fadlihi walaAAallakum tashkuroona

وما یستوی البحرن۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (12) پانی کی تخلیق میں انواع و اقسام واضح ہیں۔ اور اس تقسیم کے پیچھے جو خدمت ہے وہ بھی واضح ہے۔ میٹھے پانی کا استعمال تو واضح ہے۔ رات اور ان ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہر قسم کی زندگی تو پانی پر موقوف ہے اور پانی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ رہا کڑوا پانی مثلاً سمندر اور بڑے سمندر تو اس کے بارے میں بعض سائنس دانوں نے عجیب معلومات دی ہیں اور بتایا ہے کہ اس کی تخلیق میں کس قدر گہری انجینئرنگ کار فرما ہے۔

اور اب رات اور دن کے منظر پر یہ کائناتی سفر ختم ہوتا ہے ۔ شمس و قمر کی تسخیر جو اللہ کے وسیع کائناتی نظام کا ایک حصہ ہے

” لاکھوں سالوں سے زمین مختلف قسم کے گیس چھوڑتی ہے اور ان میں سے اکثر گیسیں زہریلی ہوتی ہیں۔ لیکن قدرت الہیہ کی منصوبہ بندی دیکھئے کہ زمین کے اوپر جو ہوا ہے ، اس کے اندر پائے جانے والی نسبت متاثر نہیں ہوتی۔ جو انسان کے وجود کے لیے ضروری ہے۔ اس عظیم توازن کی گاڑی پانی کی وہ عظیم مقدار ہے یعنی گہرا سمندر جس سے زندگی ، غذا ، بارش ، معتدل مقسم اور نباتات اور پھر خود انسانی زندگی حاصل کرتے ہیں “۔

پانی کی تخلیق کے بارے میں آج تک جو راز معلوم ہوئے ہیں ، ان میں بالا رادہ رکھی ہوئی حکمت بالکل واضح ہے۔ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تخلیق میں خالق نے بالارادہ توازن اور ہم آہنگی رکھی ہے۔ اور ان ہم آہنگیوں اور توازنوں پر اس کائنات کی مختلف چیزوں کی زندگی قائم ہے اور حیات کا پورا نظام ایستادہ ہے۔ اور یہ پیچیدہ نظام اللہ جل شانہ نے بالارادہ وضع کیا ہے۔ یہ توازن اس قدر پیچیدہ ہے اور اس قدر بارک انجینئرنگ پر مبنی ہے کہ کوئی عقلمند انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ یہ اتفاقاً ایسا ہوگیا ہے۔ یہاں دو قسم کے سمندری پانی کی طرف اشارے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پانی ایک دوسرے کے ساتھ مکس نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان واضح فرق ہے۔ اس قسم کا امتیازی افتراق انسانی جذبات ، انسانی شعور ، انسان رجحانات اور انسانی قدروں میں بھی ہوتا ہے ۔ پھر دونوں قسم کے پانی انسانوں کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔

ومن کل تاکلون ۔۔۔۔۔ فیہ مواخر (35: 12) ” مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو ، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کا سینہ چیرتی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔ تروتازہ گوشت سے مراد مچھلیاں اور سمندر کے دوسرے جانور ہیں جو مختلف قسم کے ہیں اور زیب وزینت کے لیے سیپ اور مرجان اور دوسرے موتی جو سمندر سے نکالے جاتے ہیں۔ یہ موتی سمندر کی سیپیوں میں پائے جاتے ہیں۔ سیپیوں کے اندر جب پانی اور ریت کے ذرات داخل ہوتے ہیں تو اس کے اندر کیمیاوی عمل سے یہ موتی تیار ہوتے ہیں ۔ مرجان ایک حیوانی پورا ہے جو سمندر میں میلوں تک پھیل جاتا ہے اور یہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ بعض اوقات سمندری سفر کے لیے خطرہ بن جاتا ہے ۔ بعض اوقات اس کی شاخوں میں زندہ مخلوق بھی پھنس جاتی ہے۔ یہ مرجان بھی ایک خاص طریقے سے کاٹ کر اس سے زیورات بنائے جاتے تھے۔

کشتی سمندروں اور دریاؤں کو چیرتی چلی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ نے پانی اور کشتی دونوں میں بعض خواص رکھ دئیے ہیں۔ جن چیزوں سے کشتی بنائی جاتی ہے ، ان کی کثافت اور ساخت اور سمندر کے پانی کی اپنی کثافت ہے۔ یوں سمندر کی سطح پر کشتی تیرتی ہے۔ ہواؤں کے اندر بھی یہی خصوصیات رکھ دی گئی ہیں۔ پھر اللہ نے ان قوتوں کو انسان کے لیے مسخر کردیا اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

لتبتغوا من فضلہ (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ سفر اور تجارت کے ذریعہ سے تم اللہ کا فضل تلاش کرو ۔ سمندر سے مفاد کی چیزیں نکالو اور پانی اور کشتیوں کو نقل و حمل کے مقاصد کے لیے استعمال کرو۔

ولعلکم تشکرون (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو “۔ اللہ نے تمہارے لیے شکر کے اسباب فراہم کر دئیے ہیں۔ یہ اسباب تمہارے ہاتھ میں ہیں اور یوں اللہ تمہاری جانب سے ادائے شکر میں بھی تمہارا مددگار ہے۔

اردو ترجمہ

وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے چاند اور سورج کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yooliju allayla fee alnnahari wayooliju alnnahara fee allayli wasakhkhara alshshamsa waalqamara kullun yajree liajalin musamman thalikumu Allahu rabbukum lahu almulku waallatheena tadAAoona min doonihi ma yamlikoona min qitmeerin

یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ”

رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔

شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔

لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔

ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14)

یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔

لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔

ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔

ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔

ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔

ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔

مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے

نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔

اردو ترجمہ

انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In tadAAoohum la yasmaAAoo duAAaakum walaw samiAAoo ma istajaboo lakum wayawma alqiyamati yakfuroona bishirkikum wala yunabbioka mithlu khabeerin

اردو ترجمہ

لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu antumu alfuqarao ila Allahi waAllahu huwa alghaniyyu alhameedu

درس نمبر 202 ایک نظر میں

ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔

درس نمبر 202 تشریح آیات

15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26

یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔

لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔

اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔

انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔

انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔

اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔

یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے

لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔

اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔

اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا

بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی ﷺ کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

اردو ترجمہ

وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In yasha yuthhibkum wayati bikhalqin jadeedin

اردو ترجمہ

ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama thalika AAala Allahi biAAazeezin

اردو ترجمہ

کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala taziru waziratun wizra okhra wain tadAAu muthqalatun ila himliha la yuhmal minhu shayon walaw kana tha qurba innama tunthiru allatheena yakhshawna rabbahum bialghaybi waaqamoo alssalata waman tazakka fainnama yatazakka linafsihi waila Allahi almaseeru

ولا تزر وازرۃ وزرا اخری ۔۔۔۔۔۔۔ والی اللہ المصیر (18)

انفرادی ذمہ داری کے اصول کا انسانی اخلاقیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور اسی طرح انسانی طرز عمل پر بھی اس کا فیصلہ کن اثر پوتا ہے۔ کسی انسان میں یہ شعور پیدا ہونا ضروری ہے کہ اسے سزا و جزاء صرف اس کے اعمال پر ہوگی اور اس سے مواخذہ صرف اس کے اعمال پر ہوگا۔ کسی دوسرے کی بدعملی پر اسے سزا نہ ہوگی اور اپنے اعمال بد سے بھی وہ کسی طرح بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے جو انسان کو ہر وقت بیدار رکھتا ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان جھوٹی امیدوں پر تکیہ نہیں کرتا کہ کوئی اسے فائدہ دے گا یا اس کی جگہ کوئی ذمہ داری برداشت کرلے گا۔ یہ اصول انسانوں کے لیے باعث اطمینان بھی ہے۔ اس میں ایک فرد اس بات سے مطمئن ہوجاتا ہے کہ پوری جماعت کی بداعمالیوں کا مواخذہ اس سے نہ ہوگا۔ یوں وہ خود اپنے اچھے اعمال سے مایوس نہ ہوگا بشرطیکہ اس نے جماعت اور سوسائٹی میں تبلیغ و نصیحت اور معروف کو جاری کرنے اور منکر کو روکنے کی سعی کی ہو اور اپنی طاقت اس کام کے لیے استعمال کی ہو۔

اللہ تعالیٰ لوگوں کا محاسبہ بحیثیت جماعت نہیں کرے گا۔ بلکہ ہر ایک مرد کا محاسبہ ہوگا ۔ اور یہ محاسبہ اس کے پورے اعمال کا ہوگا۔ ان حدود کے اندر ہوگا جو اس پر فرض کیے گئے ہیں اور ہر فرد پر یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ دوسروں کو نصیحت کرے اور اپنی طاقت کی حد تک ان کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دے۔ اگر اس نے اپنی یہ اجتماعی ذمہ داری ادا کردی تو پھر سوسائٹی جو کچھ بھی کرتی ہے وہ اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وہ صرف اپنے اچھے اعمال کی جزاء پائے گا۔ نیز اگر جماعت اور سوسائٹی اچھی ہو اور یہ شخص اس کے اندر گمراہ اور بدکار ہو تو بھی سوسائٹی کی اچھائی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کیونکہ اللہ لوگوں کا محاسبہ فہرستوں کے مطابق نہ کرے گا

قرآن کریم نے اس اصول کو قرآن کے مخصوص انداز تعبیر کے مطابق بیان کیا ہے۔ اس انداز کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ یوں بتایا جاتا ہے کہ بیشمار لوگ ہیں اور انہوں نے اپنا اپنا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ کوئی شخص جس کا بوجھ ہلکا ہو وہ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا رہا ۔ اگر کسی کا بار گنا زیادہ ہے اور وہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بلاتا ہے تو کوئی شخص اس کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہتا اور کوئی اس کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔

یہ ایک ایسے قافلے کا منظر ہے جس میں ہر شخص اپنا اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اپنے راستے پر جا رہا ہے یہاں تک کہ لوگ ترازو کے سامنے پہنچ جاتے ہیں اور وزن کرنے والا وزن کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اس منظر کو دیکھ کر نظر آتا ہے کہ ہر شخص بوجھ کے نیچے ہے۔ کوئی تھکا ماندہ ہے اور کوئی ہلکا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے نتیجے کا منتظر ہے اور اپنے آپ میں مشغول ہے۔

اس منظر کو دیکھتے ہوئے جس میں اہل قافلہ تھکے ماندے ہیں روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔

انما تنذر۔۔۔۔۔ الصلوۃ (35: 18) ” تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ڈرانا مفید ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ہے اور وہ نماز قائم کرکے اپنے رب کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ذات پیغمبر سے استفادہ کرسکتے تھے۔ تمہاری بات سن سکتے تھے۔ لہٰذا آپ پر ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو نماز قائم نہیں کرتے۔

ومن تذ کی فانما یتزکی لمنفسہ (35: 18) ” اور جو شخص پاکیزگی کی راہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی کے لیے کرتا ہے “۔ نہ آپ کسی کے ذمہ دار ہیں اور نہ کوئی اور کسی کا ٹھیکہ دار ہے۔ جو شخص نیکی اختیار کرتا ہے اور پاکیزگی کرتا ہے وہ خود اس سے نفع اندوز ہوتا ہے۔ (تزکی) کے اندر نہایت ہی لطیف اور گہرا مفہوم ہے۔ جس کے اندر ظاہری صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر قلب و شعور کی صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر طرز عمل اور رویہ کی صفائی بھی شامل ہے۔ (تزکی) کے اندر گہرا اشاراتی مفہوم پایا جاتا ہے۔

والی اللہ المصیر (35: 18) ” اور پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے “۔ اللہ ہی محاسب ہے۔ وہی جزاء و سزا دینے والا ہے۔ اس کے ہاں نہ اچھا عمل ضائع ہوتا ہے ، نہ برا عمل شمار سے رہ سکتا ہے اور نہ جزاء و سزا کے احکام ایسے لوگوں کے حوالے کیے جاتے ہیں جو فیصلے میں رعایت کرتے ہیں ، یا بھولتے ہیں یا ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

اللہ کے نزدیک ایمان و کفر برابر نہیں ہیں۔ خیر و شر کی برابر قیمت نہیں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاں برابر نہیں ہوتے۔ اندھا اور آنکھوں والا بھی اس کے ہاں ایک نہیں ہوتے۔ روشنی اور تاریکی کی قدر وہاں ایک نہیں ہے۔ چھاؤں اور گرمی کی افادیت بھی برابر نہیں ہے اور نہ اللہ کے ہاں زندہ اور مردہ برابر ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں واضح طور پر قدر و قیمت کے اعتبار سے جدا ہیں۔

436