سورہ فاطر: آیت 33 - جنات عدن يدخلونها يحلون فيها... - اردو

آیت 33 کی تفسیر, سورہ فاطر

جَنَّٰتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ

اردو ترجمہ

ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Jannatu AAadnin yadkhuloonaha yuhallawna feeha min asawira min thahabin waluluan walibasuhum feeha hareerun

آیت 33 کی تفسیر

ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)

اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔

یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔

آیت 33{ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا } ”ان کے لیے باغات ہوں گے رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے“ ”جَنّٰتُ عَدْنٍ“ کا ترجمہ ”ہمیشگی کے باغات“ بھی کیا گیا ہے اور ”رہنے کے باغات“ residential gardens بھی۔ { یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاج وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ} ”ان میں انہیں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی ‘ اور ان میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔“ سورة الحج کی آیت 23 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں۔

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ۔ فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہوگا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہوگا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کردیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لئے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لئے آخرت میں ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انہیں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے، وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کردیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کردیا۔ (ابن ابی حاتم) طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی۔ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کردی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔ وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی شفقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔

آیت 33 - سورہ فاطر: (جنات عدن يدخلونها يحلون فيها من أساور من ذهب ولؤلؤا ۖ ولباسهم فيها حرير...) - اردو