سورہ فاطر (35): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Faatir کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فاطر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ فاطر کے بارے میں معلومات

Surah Faatir
سُورَةُ فَاطِرٍ
صفحہ 438 (آیات 31 سے 38 تک)

وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ هُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيرٌۢ بَصِيرٌ ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ جَنَّٰتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَذْهَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ ٱلَّذِىٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا۟ وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى كُلَّ كَفُورٍ وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَٰلِحًا غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا۟ فَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيْبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
438

سورہ فاطر کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ فاطر کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallathee awhayna ilayka mina alkitabi huwa alhaqqu musaddiqan lima bayna yadayhi inna Allaha biAAibadihi lakhabeerun baseerun

والذی اوحینا۔۔۔۔۔ لخبیر بصیر (31)

سچائی کے دلائل اس کتاب کے مضامین میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ یہ کتاب اس کائنات کے حقائق کی ترجمان ہے۔ بلکہ یہ کتاب اس کائنات کا وہ صفحہ ہے جو پڑھا جاتا ہے اور پوری کائنات وہ صفحہ ہے جو خاموش ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اللہ نے پہلے بھی بھیجی ہیں کیونکہ دونوں کا مصدر اور سرچشمہ ایک ہے۔ اور سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے ۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس کتاب کے نازل کرنے والے نے اسے لوگوں کے لیے بھیجا ہے اور وہ لوگوں کا خالق ہے اور وہ اچھی طرح لوگوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کی مصلحت ہے اور کس چیز کے ذریعہ ان کی اصلاح ممکن ہے۔

ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر (35: 31) ” بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے “۔ یہ تو ہے حقیقت اس کتاب کی۔

اردو ترجمہ

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma awrathna alkitaba allatheena istafayna min AAibadina faminhum thalimun linafsihi waminhum muqtasidun waminhum sabiqun bialkhayrati biithni Allahi thalika huwa alfadlu alkabeeru

یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں :

ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی ہے۔

فمنھم ظالم ۔۔۔۔۔ باذن اللہ “۔ پہلا فریق تعداد میں زیادہ ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے کیا گیا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور ان لوگوں کے اعمال میں سیئات زیادہ ہوں گے اور نیکیاں کم ہوں گی۔ اور دوسرا فریق مقتصد ہوگا۔ یعنی میانہ روی والا۔ اس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ اور تیسرا فریق سابق بالخیرات ہوگا یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔ اس کی نیکیاں برائیوں سے بہت زیادہ ہوں گی لیکن ان تینوں کے ساتھ اللہ کا فضل شامل رہے گا۔ یہ سب لوگ آنے والی آیتوں میں مذکور نعمتوں میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ درجات میں مختلف ہوں گے۔

قرآن کریم نے امت کی کرامت کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس میں کوئی اضافہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اللہ نے اس امت کو برگزیدہ کرلیا ہے اور اس کیلئے جزائے خیر کا اعلان کردیا ہے۔ آیات یہی بتاتی ہیں کہ آخر کار امت کا انجام یہی ہوگا۔ امت سب کی سب اچھے انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کی تفصیلات ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جزاء کو ہم یہاں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کے ان تینوں قسم کے لوگوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے اور وہ اچھی ہی جزاء ہوگی۔

اردو ترجمہ

ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Jannatu AAadnin yadkhuloonaha yuhallawna feeha min asawira min thahabin waluluan walibasuhum feeha hareerun

ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)

اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔

یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔

اردو ترجمہ

اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo alhamdu lillahi allathee athhaba AAanna alhazana inna rabbana laghafoorun shakoorun

وقالوا الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن (35: 34) ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کیا “۔ اور یہ دنیا جہاں ہر شخص قلق و بےچینی ، اور مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتا ہے آخرت کے مقابلے میں حزن ہے جہاں نعیم مقیم ہوگا۔ حشر کے دن کی پریشانی دنیا کی پریشانیوں سے بھی بڑی ہوگی جس سے ان کو نجات مل چکی ہوگی۔

ان ربنا لغفور شکور (35: 34) ” بیشک ہمارا رب معاف کردینے والا اور قدر فرمانے والا ہے “۔ اس نے ہمیں بخش دیا ، ہمارے معتبر اعمال کی قدر کی اور اس پر بہت بڑا معاوضہ دیا۔

اردو ترجمہ

جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھیرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allathee ahallana dara almuqamati min fadlihi la yamassuna feeha nasabun wala yamassuna feeha lughoobun

الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔

پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔

اردو ترجمہ

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ اُن کا قصہ پاک کر دیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ اُن کے لیے جہنم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی اِس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص کو جو کفر کرنے والا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena kafaroo lahum naru jahannama la yuqda AAalayhim fayamootoo wala yukhaffafu AAanhum min AAathabiha kathalika najzee kulla kafoorin

اب ذرا دوسری جانب آئیے ! قلق ، اضطراب اور پریشانی اور افراتفری۔

والذین کفروا۔۔ من عذابھا ” “۔ نہ یہ ہے اور نہ وہ۔ ان کے لیے موت بھی نہ ہوگی

کذلک نجزی کل کفور (36) ” “۔ اور اب ہمارے کان ایک کرخت اور سخت آواز سنتے ہیں۔ یہ ایک غوغا ہے جو مختلف آوازوں سے مل کر اٹھ رہا ہے۔ یہ مختلف اطراف سے آنے والی چیخ و پکار ہے۔ ان کی طرف سے جو جہنم میں پھینک دئیے گئے ہیں۔

اردو ترجمہ

وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے" (انہیں جواب دیا جائے گا) "کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتاتھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا اب مزا چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahum yastarikhoona feeha rabbana akhrijna naAAmal salihan ghayra allathee kunna naAAmalu awalam nuAAammirkum ma yatathakkaru feehi man tathakkara wajaakumu alnnatheeru fathooqoo fama lilththalimeena min naseerin

وھم یصطرخون فیھا ۔۔۔۔۔ من نصیر (37) ” “۔

وھم یصطرخون فیھا (35: 37) ” وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے “۔ لفظ (یصطرخون) کے تلفظ کے اندر ہی اس کے تمام مفہوم ثبت ہیں۔ اس کرخت آواز ہی سے اس کا مفہوم ظاہر ہوجاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں :

ربان اخرجنا ۔۔۔۔ نعمل (35: 37) ” اے ہمارے رب ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے “۔ اب یہ اللہ کی طرف جھک رہے ہیں۔ اعتراف گناہ کر رہے ہیں اور نادم ہیں لیکن جب

چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دیکھئے کس قدر سخت اور دو ٹوک جواب سنتے ہیں ہم جس کے اندر سرزنش بھی ہے۔

اولم نعمر کم ۔۔۔۔ من نصیر (35: 37) ”(انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا ؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے “۔ تمہیں ہم نے ' عمر دی ' تم نے اس سے استفادہ نہ کیا ، حالانکہ یہ عمران لوگوں کے لیے کافی تھی جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پھر تمہاری مزید سہولت کے لیے انبیاء بھی بھیجے گئے۔ انہوں نے تمہیں ڈرایا مگر تم نہ ڈرے۔ ان آیات میں دو باہم متقابل صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک جانب امن و راحت ہے اور دوسری جانب قلق و اضطراب ہے۔ ایک طرف شکر نعمت کا میٹھا نغمہ ہے اور دوسری طرف چیخ و پکار ہے۔ ایک طرف اعزازو اکرام و استقبال ہے اور دوسری جانب نظر انداز کرنا اور سرزنش کرنا ہے۔ ایک طرف نرم و نازک اور فرحت بخش الفاظ اور دوسری جانب کرخت اور سخت جھڑکی ہے۔ یوں کلام کے دونوں اطراف میں مکمل تقابل ہے ، ہر ہر جزء میں۔ اور سب سے آخر میں تمام مناظر پر ایک آخری تبصرہ آتا ہے ، خصوصاً اہل دین اور امت مصطفوی کو چن لینے اور اسے اعزازو اکرام دینے پر۔

اردو ترجمہ

بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha AAalimu ghaybi alssamawati waalardi innahu AAaleemun bithati alssudoori

ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔

438