اس صفحہ میں سورہ Faatir کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فاطر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ هُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيرٌۢ بَصِيرٌ
ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ
جَنَّٰتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ
وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَذْهَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
ٱلَّذِىٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا۟ وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى كُلَّ كَفُورٍ
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَٰلِحًا غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا۟ فَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيْبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
والذی اوحینا۔۔۔۔۔ لخبیر بصیر (31)
سچائی کے دلائل اس کتاب کے مضامین میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ یہ کتاب اس کائنات کے حقائق کی ترجمان ہے۔ بلکہ یہ کتاب اس کائنات کا وہ صفحہ ہے جو پڑھا جاتا ہے اور پوری کائنات وہ صفحہ ہے جو خاموش ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اللہ نے پہلے بھی بھیجی ہیں کیونکہ دونوں کا مصدر اور سرچشمہ ایک ہے۔ اور سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے ۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس کتاب کے نازل کرنے والے نے اسے لوگوں کے لیے بھیجا ہے اور وہ لوگوں کا خالق ہے اور وہ اچھی طرح لوگوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کی مصلحت ہے اور کس چیز کے ذریعہ ان کی اصلاح ممکن ہے۔
ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر (35: 31) ” بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے “۔ یہ تو ہے حقیقت اس کتاب کی۔
یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں :
ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی ہے۔
فمنھم ظالم ۔۔۔۔۔ باذن اللہ “۔ پہلا فریق تعداد میں زیادہ ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے کیا گیا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور ان لوگوں کے اعمال میں سیئات زیادہ ہوں گے اور نیکیاں کم ہوں گی۔ اور دوسرا فریق مقتصد ہوگا۔ یعنی میانہ روی والا۔ اس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ اور تیسرا فریق سابق بالخیرات ہوگا یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔ اس کی نیکیاں برائیوں سے بہت زیادہ ہوں گی لیکن ان تینوں کے ساتھ اللہ کا فضل شامل رہے گا۔ یہ سب لوگ آنے والی آیتوں میں مذکور نعمتوں میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ درجات میں مختلف ہوں گے۔
قرآن کریم نے امت کی کرامت کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس میں کوئی اضافہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اللہ نے اس امت کو برگزیدہ کرلیا ہے اور اس کیلئے جزائے خیر کا اعلان کردیا ہے۔ آیات یہی بتاتی ہیں کہ آخر کار امت کا انجام یہی ہوگا۔ امت سب کی سب اچھے انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کی تفصیلات ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جزاء کو ہم یہاں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کے ان تینوں قسم کے لوگوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے اور وہ اچھی ہی جزاء ہوگی۔
ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)
اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔
یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔
وقالوا الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن (35: 34) ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کیا “۔ اور یہ دنیا جہاں ہر شخص قلق و بےچینی ، اور مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتا ہے آخرت کے مقابلے میں حزن ہے جہاں نعیم مقیم ہوگا۔ حشر کے دن کی پریشانی دنیا کی پریشانیوں سے بھی بڑی ہوگی جس سے ان کو نجات مل چکی ہوگی۔
ان ربنا لغفور شکور (35: 34) ” بیشک ہمارا رب معاف کردینے والا اور قدر فرمانے والا ہے “۔ اس نے ہمیں بخش دیا ، ہمارے معتبر اعمال کی قدر کی اور اس پر بہت بڑا معاوضہ دیا۔
الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔
پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔
اب ذرا دوسری جانب آئیے ! قلق ، اضطراب اور پریشانی اور افراتفری۔
والذین کفروا۔۔ من عذابھا ” “۔ نہ یہ ہے اور نہ وہ۔ ان کے لیے موت بھی نہ ہوگی
کذلک نجزی کل کفور (36) ” “۔ اور اب ہمارے کان ایک کرخت اور سخت آواز سنتے ہیں۔ یہ ایک غوغا ہے جو مختلف آوازوں سے مل کر اٹھ رہا ہے۔ یہ مختلف اطراف سے آنے والی چیخ و پکار ہے۔ ان کی طرف سے جو جہنم میں پھینک دئیے گئے ہیں۔
وھم یصطرخون فیھا ۔۔۔۔۔ من نصیر (37) ” “۔
وھم یصطرخون فیھا (35: 37) ” وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے “۔ لفظ (یصطرخون) کے تلفظ کے اندر ہی اس کے تمام مفہوم ثبت ہیں۔ اس کرخت آواز ہی سے اس کا مفہوم ظاہر ہوجاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں :
ربان اخرجنا ۔۔۔۔ نعمل (35: 37) ” اے ہمارے رب ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے “۔ اب یہ اللہ کی طرف جھک رہے ہیں۔ اعتراف گناہ کر رہے ہیں اور نادم ہیں لیکن جب
چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دیکھئے کس قدر سخت اور دو ٹوک جواب سنتے ہیں ہم جس کے اندر سرزنش بھی ہے۔
اولم نعمر کم ۔۔۔۔ من نصیر (35: 37) ”(انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا ؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے “۔ تمہیں ہم نے ' عمر دی ' تم نے اس سے استفادہ نہ کیا ، حالانکہ یہ عمران لوگوں کے لیے کافی تھی جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پھر تمہاری مزید سہولت کے لیے انبیاء بھی بھیجے گئے۔ انہوں نے تمہیں ڈرایا مگر تم نہ ڈرے۔ ان آیات میں دو باہم متقابل صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک جانب امن و راحت ہے اور دوسری جانب قلق و اضطراب ہے۔ ایک طرف شکر نعمت کا میٹھا نغمہ ہے اور دوسری طرف چیخ و پکار ہے۔ ایک طرف اعزازو اکرام و استقبال ہے اور دوسری جانب نظر انداز کرنا اور سرزنش کرنا ہے۔ ایک طرف نرم و نازک اور فرحت بخش الفاظ اور دوسری جانب کرخت اور سخت جھڑکی ہے۔ یوں کلام کے دونوں اطراف میں مکمل تقابل ہے ، ہر ہر جزء میں۔ اور سب سے آخر میں تمام مناظر پر ایک آخری تبصرہ آتا ہے ، خصوصاً اہل دین اور امت مصطفوی کو چن لینے اور اسے اعزازو اکرام دینے پر۔
ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔