الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔
پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔
آیت 35{ نِ الَّذِیْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ } ”جس نے ہمیں ہمیشہ آباد رہنے والے گھر میں لااتارا ہے اپنے خاص فضل سے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خاص فضل اور کرم فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں جنت میں جگہ عطا کی ہے۔ اہل جنت کی اس سے ملتی جلتی دعا اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کی آیت 43 میں بھی پڑھ چکے ہیں : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُج } ”کل ُ تعریف اور کل شکر اس اللہ کا ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچا دیا ‘ اور ہم ہرگز نہ پہنچ پاتے اگر اللہ ہی ہمیں نہ پہنچاتا۔“ { لَا یَمَسُّنَا فِیْہَانَصَبٌ وَّلَا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوْبٌ} ”اب ہمیں اس میں نہ تو کوئی مشقت جھیلنی پڑے گی اور نہ ہی اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہوگی۔“