درس نمبر 200 ایک نظر میں
پہلا سبق کائنات کے نہایت ہی بنیادی تین حقائق پر تھا ۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا خالق اور موجد اللہ وحدہ ہے ۔ رحمت کا حزانہ اسی کے پاس ہے اور رازق بھی وہی وحدہ ہے ۔ اس دوسرے سبق میں نبی ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ان لوگوں کی تکذیب اور انکار سے پر یشان نہ ہوں ۔ ان کا اور ان کے ردعمل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور لوگوں سے زوردار اور بلند آواز کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدۂ قیامت بر حق ہے اور شیطان سے خبردار رہیں کیو ن کہ اس کا مشن ہی یہ ہے کہ تمہیں ان عظیم حقائق سے بدراہ کرے۔ تمام لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو ایمان لائیں گے ان کا صلہ کیا ہوگا اور جو شیطان کے دھوکے میں آجائیں گے ان کا انجام کیا ہوگا۔ آخر میں دوبارہ حضور اکرم ؐ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو پریشان کرکے اپنی جان نہ کھلائیں ۔ ہدایت وضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ لوگوں کی صنعت کا ریوں کے بدلے ان کو ملتی ہو اور اللہ ان کے کارناموں سے واقف ہے ۔
درس نمبر 200 تشریح آیات
4 ۔۔۔ تا۔۔۔ 8
وان یکذبول ۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور (4) “۔
یہ عظیم حقائق بالکل واضح ہیں ۔ اگر پھر بھی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کیا آپ سے پہلے رسول نہیں آتے رہے ۔
فقد کذبت رسل من قبلک (35: 4) ” تم سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں “۔ تمام امور اللہ کے لیے ہیں اور تمام معاملات کے فیصلے اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ تبلیغ وتکذیب تو ایک روٹین کام ہے ۔ یہ اللہ نے اسباب مقرر کیے ہیں ۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انجام کی تدبیر وہ جس طرح چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ لوگوں کو دوسری آواز یہ دی جاتی ہے کہ خبر دار !
آیت 4 { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا گیا ہے۔“ { وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ } ”اور بالآخر تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“
مایوسی کی ممانعت۔ اے نبی ﷺ اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہوجایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجمع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہوگی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اللہ رسول کے حق کلام کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ سورة لقمان کے آخر میں بھی یہی فرمایا ہے۔ پس غرور یعنی دھوکے باز یہاں شیطان کو کہا گیا ہے۔ جب مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان قیامت کے دن دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا۔ جس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور ظاہری حصے میں عذاب ہوگا اس وقت منافقین مومنین سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہ تھے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ساتھ تو تھے لیکن تم نے تو اپنے تئیں فتنے میں ڈال دیا تھا اور سوچتے ہی رہے شک شبہ دور ہی نہ کیا خواہشوں کو پورا کرنے میں ڈوبے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور دھوکے باز شیطان نے تمہیں بہلا وے میں ہی رکھا۔ اس آیت میں بھی شیطان کو غرور کہا گیا ہے، پھر شیطانی دشمنی کو بیان کیا کہ وہ تو تمہیں مطلع کر کے تمہاری دشمنی اور بربادی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ پھر تم کیوں اس کی باتوں میں آجاتے ہو ؟ اور اس کے دھوکے میں پھنس جاتے ہو ؟ اس کی اور اس کی فوج کی تو عین تمنا ہے کہ وہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے۔ اللہ تعالیٰ قوی و عزیز سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں شیطان کا دشمن ہی رکھے اور اس کے مکر سے ہمیں محفوظ رکھے اور اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنتوں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور دعاؤں کا قبول فرمانے والا ہے۔ جسطرح اس آیت میں شیطان کی دشمنی کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورة کہف کی آیت (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا 50) 18۔ الكهف :50) میں بھی اس کی دشمنی کا ذکر ہے۔