سورہ فاطر (35): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Faatir کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فاطر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ فاطر کے بارے میں معلومات

Surah Faatir
سُورَةُ فَاطِرٍ
صفحہ 435 (آیات 4 سے 11 تک)

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُوا۟ حِزْبَهُۥ لِيَكُونُوا۟ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنًا ۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَٰتٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ وَٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ ٱلْكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلْعَمَلُ ٱلصَّٰلِحُ يَرْفَعُهُۥ ۚ وَٱلَّذِينَ يَمْكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ أُو۟لَٰٓئِكَ هُوَ يَبُورُ وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَٰجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ
435

سورہ فاطر کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ فاطر کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اب اگر (اے نبیؐ) یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں)، تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، اور سارے معاملات آخرکار اللہ ہی کی طرف رجوع ہونے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain yukaththibooka faqad kuththibat rusulun min qablika waila Allahi turjaAAu alomooru

درس نمبر 200 ایک نظر میں

پہلا سبق کائنات کے نہایت ہی بنیادی تین حقائق پر تھا ۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا خالق اور موجد اللہ وحدہ ہے ۔ رحمت کا حزانہ اسی کے پاس ہے اور رازق بھی وہی وحدہ ہے ۔ اس دوسرے سبق میں نبی ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ان لوگوں کی تکذیب اور انکار سے پر یشان نہ ہوں ۔ ان کا اور ان کے ردعمل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور لوگوں سے زوردار اور بلند آواز کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدۂ قیامت بر حق ہے اور شیطان سے خبردار رہیں کیو ن کہ اس کا مشن ہی یہ ہے کہ تمہیں ان عظیم حقائق سے بدراہ کرے۔ تمام لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو ایمان لائیں گے ان کا صلہ کیا ہوگا اور جو شیطان کے دھوکے میں آجائیں گے ان کا انجام کیا ہوگا۔ آخر میں دوبارہ حضور اکرم ؐ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو پریشان کرکے اپنی جان نہ کھلائیں ۔ ہدایت وضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ لوگوں کی صنعت کا ریوں کے بدلے ان کو ملتی ہو اور اللہ ان کے کارناموں سے واقف ہے ۔

درس نمبر 200 تشریح آیات

4 ۔۔۔ تا۔۔۔ 8

وان یکذبول ۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور (4) “۔

یہ عظیم حقائق بالکل واضح ہیں ۔ اگر پھر بھی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کیا آپ سے پہلے رسول نہیں آتے رہے ۔

فقد کذبت رسل من قبلک (35: 4) ” تم سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں “۔ تمام امور اللہ کے لیے ہیں اور تمام معاملات کے فیصلے اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ تبلیغ وتکذیب تو ایک روٹین کام ہے ۔ یہ اللہ نے اسباب مقرر کیے ہیں ۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انجام کی تدبیر وہ جس طرح چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ لوگوں کو دوسری آواز یہ دی جاتی ہے کہ خبر دار !

اردو ترجمہ

لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً برحق ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu inna waAAda Allahi haqqun fala taghurrannakumu alhayatu alddunya wala yaghurrannakum biAllahi algharooru

یا یھا الناس ۔۔۔۔۔ مناصحٰب السعیر (5 ۔ 6) ” “۔

اللہ کا وعدہ برحق ہے اور وہ واقع ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جب یہ حق ہے تو حق ہوتا ہی وہ ہے جو واقع ہونے والاہو۔ حق نہ ضائع ہوتا ہے ، نہ باطل ہوتا ہے اور نہ کالعدم ہوتا ہے ، نہ اپنا دھارا اور راستہ بدلتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو صرف یہ دنیاوی زندگی دھوکہ دیتی ہے ۔

فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا (35: 5) ” لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ نہ دے “۔ لیکن شیطان تو رات اور دن لگا ہوا ہے دھوکہ دینے میں ، اس لیے تم کو چاہئے کہ اس سے چوکنے رہو۔

ولا یغرنکم باللہ الغرور (35: 5) ” اور نہ کوئی بڑا دھوکہ بار تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے “۔ شیطان نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ تمہارا دشمن ہے اور اسے تمہاری دشمنی پر اصرار بھی ہے ۔

اردو ترجمہ

در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے پیروؤں کو اپنی راہ پر اس لیے بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna alshshaytana lakum AAaduwwun faittakhithoohu AAaduwwan innama yadAAoo hizbahu liyakoonoo min ashabi alssaAAeeri

فاتخذوہ عدوا (35: 6) ” لہٰذا تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو “۔ اس کی طرف نہ جھکو ، اسے اپنا ناصح نہ سمجھو ۔ اس

کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ دشمن ، دشمن کے قدم پر نہیں چلا کرتا۔ اگر وہ عقلمند ہے کیونکہ دشمن انسان کو کبھی بھی بھلائی کی طرف نہیں بلاتا اور نہ دشمن دشمن کی فلاح ونجات چاہتا ہے ۔

انما یدعوا جزبہ لیکوامن اصحب السعیر (35: 6) ” وہ تو اپنے پیردوں کو اپنی راہ پر اس لیے چلا رہا ہوتا ہے کہ وہ دو زخیوں میں شامل ہوجائیں “۔ کیا کوئی عاقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ جہنمیوں میں سے ہوجائے ۔

یہ ایک وجدانی احساس ہے ۔ جب انسان اس بات کو ذہن میں رکھ لے کہ اس کے اور شیطان کے درمیان معرکہ جاری ہے تو وہ اپنی پوری قوت مجتمع کرلیتا ہے ۔ وہ ہر وقت بیدار رہتا ہے اور اپنی ذات اور اپنے خیالات کا دفاع کرتا ہے ۔ وہ دشمن کے دھوکے اور گمراہ کن اقدامات سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور وہ ہر وسوسہ اندازی سے بیدار رہتا ہے ۔ ہر نئی بات کو اللہ اور رسول کے پیمانوں سے پیمائش کرتا ہے تاکہ وہ معلوم کرسکے کہ یہ حقیقت ہے یا دھوکہ ہے۔

یہ ایک وجدانی حالت ہے جسے قرآن ہر ضمیر میں پیدا کرنا چاہتا ہے یعنی ہر وقت شیطانی وساوس سے بچاؤ کے لیے تیار رہتا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ۔ جیسا کہ کوئی شخص یا ملک اپنے دشمن سے ہر وقت چوکنارہتا ہے ۔ اور اس کے شروفسار کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ دشمن کے ذہنی اور جسمانی شر سے بچاؤ کے لیے ۔ اور ہر وقت کسی بھی معر کے میں کو دنے کے لیے تیاری کی حالت کا برقرار رکھنا ، اسی احتیاط ، مدافیچا تیاری اور احتیاطی تدابیر کو مزید متحکمر کرنے کے لیے بتایا جاتا ہے کہ کا فرین کا انجام کیا ہوگا اور اہل اسلام کا کیا ہوگا ۔

اردو ترجمہ

جو لوگ کفر کریں گے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena kafaroo lahum AAathabun shadeedun waallatheena amanoo waAAamiloo alssalihati lahum maghfiratun waajrun kabeerun

الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ واجرکبیر (7) ” “۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کا عمل اور اس کی گمراہ کن چالیں کیسی ہوتی ہیں ۔ وہ کون سا دروازہ کھول دیتا ہے جس سے ہر قسم کا شرورآتا ہے ۔ کس طرح وہ انسان کو راہ ضلالت پر دور تک لے جاتا ہے تاکہ وہاں سے کوئی واپس نہ آسکے ۔

اردو ترجمہ

(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaman zuyyina lahu sooo AAamalihi faraahu hasanan fainna Allaha yudillu man yashao wayahdee man yashao fala tathhab nafsuka AAalayhim hasaratin inna Allaha AAaleemun bima yasnaAAoona

افمن زین ۔۔۔۔۔ بما یصنعون (8 (

شرکا دروازہ اور اس کی کنجی یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال کو اچھا بنادیا جائے ۔ شیطان یہی کام کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال اچھے بنادیئے جاتے ہیں اور وہ برے کاموں کو اچھے کام سمجھتا ہے ۔ وہ جس قدر برے افعال کرتا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کررہا ہے اور وہ کام اسے لگتے بھی اچھے ہیں ۔ ایسا شخص کبھی اپنے اعمال کا جائزہ بھی نہیں لیتا کہ ان میں کیا کیا غلطی کے مقامات ہیں کیونکہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ غلطی نہیں کرتا۔ اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ کہتا اور کرتا ہے ، وہ درست ہے ۔ وہ اپنے قول وعمل پر اتراتا ہے اور اپنے کاموں سے اسے عشق ہوجاتا ہے ۔ اسے یہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ وہ اپنے کسی کام پر نظر ثانی کرے یا اپنا محاسبہ خود کرے ۔ لہٰذا وہ اپنے کسی خیال اور کسی عمل سے رجوع نہیں کرتا ۔ کیونکہ جب کوئی سمجھے کہ وہ اچھا کررہا ہے تو وہ کس طرح اسے چھوڑسکتا ہے کیونکہ اچھے کام کبھی نقصان وہ نہیں ہوتے ۔

افمن زین۔۔۔۔۔۔۔ حسنا (35: 8) ” بھلا ہے کچھ ٹھکانا اس شخص کی گمراہی کا جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنادیاجائے گیا ہو “۔ یہ ہے وہ عظیم مصیبت جو انسان پر شیطان لادتا ہے اور یہ ہے وہ مقام جہاں تک شیطان انسان کی راہنمائی کرکے اسے لے جاتا ہے ۔ پہلے اسے گمراہ کرتا ہے ، پھر اسے ہلاکت کے گڑھے میں گراتا ہے ۔

جس شخص کے لیے اللہ ہدایت اور بھلائی لکھ دیتا ہے اس کے دل میں احساس ، شعور ، احتیاط اور غور وفکر کی عادت ڈال دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی تدبیروں سے غافل نہیں رہتا۔ اور نہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ اللہ انسان کے دل کو کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ نہ وہ انسان کی فطرت کمزوری ، تزلزل اور خطاکاری سے غافل رہتا ہے ۔ نہ وہ انسان کے فطری نقص اور عاجزی کو نظر انداز کرسکتا ہے ۔ ایسا شخص ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے ۔ اپنے بارے میں بہت حساس رہتا ہے ۔ وہ شیطان سے ہر وقت ڈرتا ہے اور ہر وقت اللہ کی مدد اور نصرت کا امید وار ہوتا ہے ۔

یہ ہے مقام امتیاز اور جدائی ہدایت وضلالت اور فلاح اور بربادی کے درمیان ۔۔۔۔ یہ ایک گہری نفسیاتی حقیقت ہے جس کی تصویر کشی قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا ہے ۔

افمن ذین ۔۔۔۔۔ حسنا (35: 8) ” بھلا کچھ ٹھکانا ہے اس شخص کی گمراہی کا جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھ رہاہو “۔

یہ ہے نمونہ اس گمراہ شخص کا جو تباہ وبرباد ہوگیا اور آخر کار وہ ہلاکت کے برے انجام تک پہنچ گیا اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس کے لیے اس کے برے اعمال کو مزین بنا دیا گیا۔ اس خوشنمائی کی وجہ سے وہ مغرور ہوگیا ۔ یوں اس شخص کے دل پر اور آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور وہ صحیح راہ کو دیکھ ہی نہیں سکتا ۔ ایسا شخص کوئی اچھا کام بھی نہیں کرسکتا اس لیے کہ وہ خوداپنے کام کو اچھاسمجھتا ہے ۔ ایسا شخص اپنی غلطی کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے غلطی سرزد ہی نہیں ہوسکتی ۔ وہ کسی فاسد کام کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا کیونکہ بزعم خود اس سے فاسد کام کا صدور ہی نہیں ہوسکتا ۔ ایسا شخص ایک حد پر جا کر رکتا بھی نہیں کیونکہ وہ اپنی ہر قدم کو اصلاح سمجھتا ہے۔ غرض شیطان کا صرف یہی کام تمام فسادوں کا دروازہ ہے اور آخرہی گمراہی کی چابی ہے۔

یہاں اللہ سوال فرماتے ہیں کہ اس شخص کی گمراہی کی کیا حد ہوگی جس کے لیے اس کے برے اعمال خوبصورت بنا دئیے گئے ہیں اور وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے ؟ اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ اس کا کوئی جو جواب بھی دے وہی جواب ہوگا۔ کیا ایسے شخص کی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے ؟ کیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے۔ کیا یہ شخص اللہ سے ڈرنے والوں جیسا ہو سکتا ہے۔ غرض اس سوال کا اب جو جواب بھی دیں وہی جواب ہوگا۔ یہ وہ اسلوب ہے جو قرآن کریم میں بہت آتا ہے۔ لیکن اس میں ان جوابات میں سے ایک جواب کی طرف بالواسطہ اشارہ کردیا گیا ہے۔

فان اللہ یضل ۔۔۔۔۔ علیھم حسرت (35: 8) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، راہ راست دکھاتا ہے “۔ گویا یہ جواب دیا گیا کہ جس شخص کے لئے شیطان اس کے اعمال کو خوشنما بنا دے ایسے شخص پر ضلالت لکھ دی جاتی ہے۔ اس کے لیے اللہ نے ضلالت کا راستہ کھول دیا ہے۔ وہ اس کے اندر چلا گیا ہے ، اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے دے اور جسے چاہے ، ضلالت دے دے۔ یوں کہ جو شخص طالب ضلالت ہوتا ہے اسے ضلالت ملتی ہے اور جو طالب ہدایت ہوتا ہے ، اسے ہدایت مل جاتی ہے۔ ضلالت کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ برے اعمال کو اچھا دکھاتی ہے اور ہدایت کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ ہدایت پانے والا ہر معاملے میں محتاط ہوتا ہے ، ڈرتا ہے ، محاسبہ کرتا ہے اور یہی فرق ہے ہدایت اور ضلالت کا۔ اور جب فیصلہ یہی ہے۔

فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” آپ اپنی جان کو ان لوگوں کے غم میں نہ کھلائیں “۔ یہ معاملہ ہدایت و ضلالتر کا معاملہ ہے جو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگرچہ یہ بشر خود رسول اللہ ﷺ ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ دل اللہ کی انگلیوں کے درمیان رہیں اور اللہ مقلب القلوب ہے۔ اس طرح اللہ حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہیں۔ تاکہ آپ کا رحیم و شفیق دل قرار پکڑے کیونکہ آپ سے ان لوگوں کی گمراہی دیکھی نہ جاتی تھی۔ جبکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ ان بیچاروں کا کس قدر برا انجام ہونے والا ہے اس لیے آپ کا دل جوش مارتا تھا کہ آپ ان کے سامنے جو حق پیش کر رہے ہیں وہ اسے تسلیم کرلیں۔ یہ انسانی حرص ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ اسے قبول کرلیں اور اللہ کو رسول اللہ ﷺ سے ہمدردی ہے کہ ان کے احساسات پر یہ ناحق بوجھ ہے کیونکہ یہ حضور ﷺ کے اختیار اور استطاعت ہی میں نہیں ہے کہ وہ سب کو ہدایت میں لے آئیں ، یہ کام اللہ کا ہے۔

تمام مخلص داعیوں کو اس کیفیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ وہ اپنی دعوت کی اہمیت ، خوبصورتی اور افادیت کو دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب عوام کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ وہ اس خوبصورتی ، افادیت اور حسن کو محسوس نہیں کرسکتے جو داعی محسوس کرتا ہے۔ اس عدم احساس کی وجہ سے یہ اس دعوت سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ لہٰذا ایسے مخلص داعیوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس ہدایت کو پلے باندھ لیں۔ اپنی پوری قوت دعوت میں جھونک دیں اور پھر لوگوں کو اللہ کے سپرد کردیں۔ اگر کسی قوم کے لیے اللہ نے سچائی کو مقدر نہ کیا ہو تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دیں اور مایوس نہ ہوں۔

ان اللہ علیم بما یصنعون (35: 8) ” جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ وہی ہدایت کی تقسیم کرتا ہے اور کسی کے لیے ضلالت مقدر کرتا ہے۔ یہ سب کام اس کے علم اور اس کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ ان باتوں کو اس وقت سے جانتا ہے جب ان کا صدور بھی نہیں ہوا ہوتا۔ اسے پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہوگا۔ یہ تقسیم اس نے علم ازلی سے کرلی ہوئی ہے۔ لیکن اللہ اپنے علم ازلی کی بنیاد پر سزا نہیں دیتا۔ سزا اس وقت دیتا ہے جب ان سے اس معصیت کا صدور ہوتا ہے۔ یہاں دوسرا سبق ختم ہوتا ہے۔ اس سبق اور پہلے سبق کے درمیان گہرا ربط ہے اسی طرح آنے والے سبق سے بھی ربط ہے۔

اردو ترجمہ

وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی زمین کو جِلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAllahu allathee arsala alrriyaha fatutheeru sahaban fasuqnahu ila baladin mayyitin faahyayna bihi alarda baAAda mawtiha kathalika alnnushooru

درس نمبر 201 ایک نظر میں

یہ تیسرا سبق دراصل پے در پے اسفار پر مشتمل ہے۔ یہ سفر انسانی خیال کو ، اس کائنات وسعتوں میں کرائے گئے ہیں اور قرآن نے ان اسفار میں انسان کو دلائل ایمان سے آگاہ کیا ہے۔ ان اسفار کے درمیان انسان کو جو مظاہر دکھائے گئے ہیں ، ان سے قرآن دعوت اسلامی پر دلائل وبراہین فراہم کرتا ہے۔

یہ اسفار اس مضمون کے بعد آئے ہیں کہ ہدایت و ضلالت کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور جس میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ آپ منہ موڑنے والوں کے رویہ کی کوئی پرواہ نہ کریں اور ان کا معاملہ اس اللہ کے سپرد کردیں جو ان کی تمام کارستانیوں سے باخبر ہے۔ اس سبق کا مضمون یہ ہے کہ اگر کوئی ایمان لانا چاہتا ہے تو یہ دیکھو دلائل ایمان اس کائنات میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ جس کے اندر کوئی پیچیدگی نہیں ہے لیکن بہرحال اگر کوئی گمراہ ہونا ہی چاہے تو وہ اس حال میں گمراہ ہوگا کہ دلائل ایمان ہر طرف سے اس کا گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے۔

صرف ایک منظر پر غور کرو ، یہ زمین بالکل مردہ ہونے کے بعد سرسبز ہوجاتی اور زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ کیا اس میں اس بات کے لیے دلیل نہیں ہے کہ موت کے بعد اسی طرح لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ پھر انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور اسے اس کی موجودہ شکل میں ایک نہایت ہی برتر مخلوق بنایا گیا۔ یہ بھی ایک برہان ہے۔ پھر انسانی تخلیق کے مراحل میں سے ہر مرحلہ ایک حجت بے اور انسان اپنے تخلیقی مراحل میں نہایت ہی طے شدہ نقشے کے مطابق آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور یہ نقشہ بھی کتاب مبین میں درج ہے اور ایک برہان ہے۔

پھر دو قسم کے پانی ایک ہی سمندر میں علیحدہ علیحدہ رہتے ہیں ۔ ایک میٹھا ہے دوسرا کھارا ہے۔ یہ بھی ایک حجت ہے۔ اور سمندروں کے اندر مزید اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہر ایک چیز میں اللہ کی کبریائی ہے۔ پھر رات اور دن کا منظر جو ایک دوسرے کے اندر داخل ہوتے ہیں ، بڑھتے گھٹتے ہیں۔ یہ بھی ایک حجت ہے اور اس نظام کو جاری کرنے میں بھی ایک حجت ہے۔ شمس وقمر کو ایک نظام کے اندر مسخر کردیا جانا بھی ایک حجت اور دلیل ہے۔

یہ سب دلائل وبراہین اس کائنات کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور یہ اللہ ہے جو خالق ومالک ہے اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے معبود سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تو ایک گٹھلی کے برابر بھی تخلیق نہیں کرسکتے۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن ان کی عبادت سے براءت کا اظہار کریں گے اور یہ فیصلہ دیں گے کہ یہ لوگ گمراہ تھے اور سچائی کے علاوہ جو کچھ بھی ہے ، گمراہی ہے۔

درس نمبر 201 تشریح آیات

9 ۔۔۔ تا۔۔۔ 14

واللہ الذی ارسل ۔۔۔۔۔۔ کذلک النشور (9) ”

یہ منظر قرآن میں دلائل تکوینی کے بیان کے دوران بار بار آتا ہے۔ ہواؤں کا منظر ، بادلوں کا منظر ، سمندروں کا منظر۔ بادلوں کو ہواؤں کا چلانا ، سمندروں سے بخارات کا اٹھنا۔ گرم ہوائیں بخارات اٹھاتی ہیں۔ سرد ہوائیں ان کو کثیف کرکے بادل کی شکل دیتی ہیں۔ سمندروں سے یہ بخارات اور بادل پھر ہوا کی موجوں کی سمت میں شمال و جنوب اور مشرق و مغرب کی طرف چلتے ہیں جس طرف بھی اللہ کو ان کا چلانا منظور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ منزل مقصود پر پہنچ کر برستے ہیں اور جہاں مردہ زمینوں پر بارش ہوتی ہے۔ وہاں زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

فاحیینا بہ الارض بعد موتھا (35: 9) ” اور اس کے ذریعے سے اس زمین کو جلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی “ یوں یہ معجزہ برپا ہوتا ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ہر لحظہ اس قسم کے معجزات دیکھتے ہوئے بھی انہیں قیامت میں لوگوں کا اٹھایا جانا مستبد نظر آتا ہے حالانکہ حشر و نشر تو ان کے ہاتھوں میں اس دنیا میں موجود ہے۔

کذلک النشور (35: 9) ” مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہی سادہ طریق استدلال ہے قرآن کا۔ اسی طرح آسانی سے یہ عمل ہوگا ، اللہ کے لیے اس میں کوئی دقت نہیں ہے۔

یہ منظر قرآن میں کائناتی دلائل کے بیان کے دوران بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ منظر ایسا ہے جسے ہر شخص دیکھتا ہے اور اس کے انکار کا کوئی جواز انسان کے سامنے نہیں ہے۔ پھر یہ منظر انسان کو بےحد جھنجھوڑتا ہے بشرطیکہ انسان اسے دیکھیں ۔ اسے سمجھیں اس حال میں کہ ان کے دل زندہ ہوں اور جب بھی انسان اس منظر پر غور کرے تو یہ انسانی شعور پر چھا جاتا ہے۔ پھر یہ منظر ایک خوبصورت اور پسندیدہ منظر ہے۔ خصوصا صحرائی علاقوں میں جہاں انسان ریگستانوں میں جلتا رہتا ہے۔ اچانک جب سرسبز اور شاداب علاقہ آجاتا ہے تو انسان کی نگاہ گرویدہ ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ کل جب بارش نہ ہوئی تھی تو یہی علاقہ چٹیل میدان اور خشک صحرا تھا۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ اپنے دلائل ایسے مناظر سے اخذ کرتا ہے جو انسان نے دیکھے ہوئے ہوں۔ جبکہ ان مناظر سے انسان روز گزرتے ہیں لیکن نہایت غفلت سے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان مناظر پر انسان غور کرتا ہے تو اسے یہ منظر معجزات نظر آتے ہیں۔

اب روئے سخن مردہ زمین کے احیا کے موضوع سے ہٹ کر نفسیاتی شعور کے میدان میں آتا ہے۔ موضوع کی یہ تبدیلی بظاہر عجیب لگتی ہے یہ کہ عزت ، سربلندی ، قوت اور شوکت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ اور عزت اور سربلندی کو مربوط کیا جاتا ہے۔ قول طیب اور قول صالح کے ساتھ ، کیونکہ قول صالح بھی اللہ کی طرف اٹھتا ہے اور عمل صالح بھی عزت اور رفعت پاتا ہے اور اس کے

مقابلے میں قول خبیث اور عمل خبیث سرنگوں ہوکر ہلاکت اور تباہی کی طرف آتے ہیں۔

اردو ترجمہ

جو کوئی عزت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں، اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Man kana yureedu alAAizzata falillahi alAAizzatu jameeAAan ilayhi yasAAadu alkalimu alttayyibu waalAAamalu alssalihu yarfaAAuhu waallatheena yamkuroona alssayyiati lahum AAathabun shadeedun wamakru olaika huwa yabooru

من کان یرید العزۃ ۔۔۔۔۔ اولئک ھو یبور (10) ” “۔

شاید مردہ زمین میں اٹھنے والی نباتاتی زندگی اور کلمہ طیبہ اور عمل صالح کے درمیان ربط یہ ہے کہ دونوں میں پاکیزہ زندگی اور قدر مشرک ہے۔ نباتات کی بھی طیب زندگی ہے اور عمل صالح اور کلمہ طیبہ بھی پاک زندگی ہے۔ اور ان کے درمیان ربط اور تعلق وہی ہے جس کی طرف سورة ابراہیم کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کے مزاج اور اسلامی زندگی کے مزاج کی یکسائی سورة ابراہیم میں فرمایا :

الم ترکیف ضرب اللہ ۔۔۔۔۔ مالھا من قرار (24 – 26) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اس سے سبق لیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھنکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے “۔ یہ ایک حقیقی مشابہت ہے جو ایک پاک کلمہ اور پاک درخت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ دونوں کے اندر حیات اور برہنہ موجود ہے۔ ایک کلمہ اور نظریہ بھی نشوونما پاتا ہے اور بار آور ہوتا ہے اور ایک درخت بھی نشوونما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ دونوں کی ایک ہی مثال ہے۔

مشرکین اس لیے شرک کرتے تھے کہ مکہ کے اندر ان کا جو دینی مقام تھا ، وہ برقرار رہے۔ محض عقیدے اور نظریہ کی وجہ سے وہ دوسرے قبائل سے برتر تسلیم کیے جاتے تھے۔ پھر ان کو مالی مفادات بھی حاصل تھے۔ مثلاً ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اس وجہ سے وہ پرشوکت اور پر قوت تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔

ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا ” اگر تمہارے ساتھ ہدایت کے تابع ہوجائیں تو ہمیں ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا۔ لہٰذا اللہ فرماتے ہیں :

من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا (35: 10) ” جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے “۔ یہ حقیقت جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو اس انسان کی قدریں اور حسن و قبح کے اصول بدل جاتے ہیں۔ ان قدروں کے حصول کے ذرائع اور منصوبے ہی بدل جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عزت سب کی سب اللہ کیلئے ہے اور عزت کا کوئی حصہ بھی اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ اگر کوئی عزت چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ہاں عزت طلب کرے گا تو وہاں لازما جائے گا اور اسے عزت ضرور ملے گی اور اگر کسی اور دروازے پر عزت تلاش کرے گا تو خوار ہوگا اس لیے کہ ۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” عزت تو سب کی سب اللہ کے ہاں ہے “۔ قریش اپنے بت پرستانہ عقیدے کی وجہ سے لوگوں سے عزت چاہتے تھے۔ وہ لوگوں کے علی الرغم ہدایت قبول کرنے سے ڈرتے تھے حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت دیتے ہیں وہ ہدایت ہے۔ وہ اس لیے ڈرتے تھے کہ ان کے مقام و مرتبہ میں فرق نہ آجائے۔ جن عوام اور قبائل سے وہ ڈرتے تھے ان کے پاس عزت کا کوئی سرچشمہ ہی نہ تھا۔ وہ عزت کے مالک ہی نہ تھے۔ عزت کا مالک تو اللہ ہے۔

فان العزۃ فللہ جمیعا ” بیشک عزت اللہ کی ہے “۔ اگر قریش قوی تھے تو قوت کا مصدر بھی اللہ ہی ہے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ عزت اور قوت اور شوکت اپنے اصلی مصدر سے لیں ، لوگوں سے نہ لیں۔ یہ لوگ تو خود عزت کے طالب ، محتاج اور کمزور ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات کے حقائق میں سے یہ اولین حقیقت ہے ۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ جائے تو اس کی قدریں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ حسن و قبح کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ اقوام کے فیصلے اور ان کی تقدیریں بدل دیتی ہے۔ ان کا منہاج زندگی اور طرز عمل بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے اسباب و وسائل بدل دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں اور پھر پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں۔ پھر ہم دنیا میں نہایت معزز ، پروقار اور مستقل مقام و مرتبہ پائیں گے۔ اقوام عالم میں ہمارا وزن ہوگا۔ یہی ہے عزت و وقار کا طریقہ ۔ ایک مسلمان کیلئے اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو وہ دل پھر کسی جبار وقہار کے سامنے نہیں جھکتا۔ وہ کسی تندوتیز طوفان سے بھی نہیں ڈرتا۔ کوئی عظیم حادثہ بھی اس کے عزائم کو ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی صورت حال اور کوئی حکومت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ کوئی مملکت اور کوئی مصلحت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ اس کرہ ارض کی قوتوں میں سے کوئی قوت اسے نہیں جھکا سکتی اور کیوں ایسا ہو سکے ؟ جب کہ ہر قسم کی قوت کا سرچشمہ اللہ کے پاس ہے اور اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔

یہ وجہ ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا ذکر ہوتا ہے۔

الیہ یصعد۔۔۔۔۔ الصالح یرفعہ (35: 10) ” اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ پاکیزہ قول ہے اور عمل صالح اس کو اوپر اٹھاتا ہے “۔ اس عظیم حقیقت کے ذکر کے بعد اس تبصرے کا ایک خاص مفہوم اور اشارہ ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ذرائع کیا ہیں ؟ وہ ہیں قول طیب اور عمل صالح۔ قول طیب سیدھا اللہ کی طرف بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ یوں اللہ عمل صالح کو مکرم بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قول طیب اور عمل صالح کے مالک ہمیشہ سربلند اور معزز اور مکرم ہوتے ہیں اور ان کو عزت عطا ہوتی ہے۔

صحیح عزت وہ ہوتی ہے جو قبل اس کے کہ اس دنیا میں وہ نمودار ہو یا اس کے آثار نمودار ہوں ایک شخص کے قلب میں بیٹھی ہے۔ جب یہ حقیقت کسی دل میں بیٹھ جائے تو ایسا شخص ذات اور سرنگونی کے تمام اسباب کے دائرے سے باہر نکل آتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو سب سے پہلے تو وہ خود اپنے نفس امارہ پر قابو پا لیتا ہے۔ یہ سب سے پہلے اپنی سفلی خواہشات کو کنڑول کرلیتا ہے۔ جب کوئی انسان ان انسانی کمزوریوں پر قابو پالے تو پھر اس کو ذلیل کرنے اور تابع کرنے کا کوئی سبب ہی نہیں رہتا۔ لوگوں کو جو چیز ڈلیل کرکے رکھ دیتی ہے وہ ان کی خواہشات اور رغبات ہوتی ہیں ۔ ڈر اور لالچ ہوتا ہے اور جو شخص ان کمزوریوں پر غالب آجاتے وہ گویا تمام انسانوں پر غالب آگیا۔ اور وہ یہ حقیقی عزت ہے جس کے ذریعے انسان سربلند ، قوی اور نڈر ہوجاتا ہے۔

عزت یہ نہیں ہے کہ انسان حق کے ساتھ معاند ہو ، خود سر ہو اور باغی ہو اور باطل کو بلند کرنے کی سعی کرتا ہو نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ کوئی فاسق و فاجر ہوجائے ، اللہ کا باغی اور نافرمان ہوجائے اور نہایت ہی جبر اور اصرار کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرے اور نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی آزادانہ شہوت رانی اور بےحیائی کا رویہ اختیار کرے۔ نہ قوت یہ ہے کہ کوئی بغیر کسی اصول اور ضابطے کے طاقت کا استعمال کرے اور انصاف اور اصلاح کے مقاصد کے بغیر دھکڑ شروع کر دے۔ ہرگز نہیں ، بلکہ قوت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پالے۔ انسان ذلت اور غلامی کا مقابلہ کرے ، اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ جھکے اور صرف اللہ ہی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے ، اللہ کا خوف کرے ، اس سے ڈرے ، خوشی اور غم دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرے۔ جب کوئی ایسی قوت حاصل کرلے تو پھر اس کی پیشانی بلند ہوگی اور ایسا انسان ہر اس بات کا مقابلہ کرسکے گا جسے اس کا ضمیر پسند نہ کرتا ہو۔ اور ایسا انسان اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کو خاطر میں نہ لائے گا۔ یہ ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا مقام۔ عزت کے حوالے سے اور سیاق کلام میں بات کی مناسبت اور ربط کے حوالے سے۔ اس کے بعد صفحہ بالمقابل کی تکمیل یوں کی جاتی ہے۔

والذین یمکرون ۔۔۔۔۔۔ ھو یبور (35: 10) ” رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے “۔ یمکرون کے اندر تدبیر کے معنی بھی شامل ہیں لیکن یہاں مکر بمعنی سازش اور چال اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس کا اکثر استعمال برے معنوں ہی میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے عذاب شدید ہے اور یہ عذاب تو ان کے لیے مقدر ہے کہ ان کی یہ چال بازیاں غارت جائیں گی ، نہ قائم رہیں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔ یہ ” بور “ کے ہے اور ” بور “ اور ” بوران “ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ آیت سابقہ میں چونکہ اشارہ زمین کی آبادی اور پھل دینے کے معنی کی طرف تھا ، یہاں اس کے بالمقابل بوران کا لفظ لایا گیا ہے جس میں پھل ضائع ہوجانے کے معنی ہیں۔

جو لوگ یہ چال بازیاں کرتے ہیں وہ جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سوسائٹی میں عام لوگوں کی نظروں میں ، وہ معزز ہوں۔ بظاہر وہ بڑے لوگ اور صاحب عزت ہوں اور قوت والے نظر آئیں۔ یہاں عزت ذرا وسیع مفہوم میں ہے لیکن ہر بری تدبیر جس میں قول طیب نہ ہو اور عمل صالح نہ ہو ، اس کا مدبر کبھی بھی معزز ، پروقار اور صاحب قوت نہیں ہوتا۔ اگرچہ بعض اوقات وہ ایک مختصر وقت کے لیے اپنا عرب جما لیتا ہے لیکن آخر کار وہ ہلاکت کی طرف جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اور اللہ اپنے وعدوں سے کبھی الٹ نہیں کرتا۔ ہاں وہ ہر مکار کو قدرت مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ

تمام مکاریاں غارت چلی جاتی ہیں۔

اب انسان کی پہلی زندگی اور پہلی پیدائش کا ایک منظر ، اس سے قبل کے منظر میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک خشک زمین کو پانی کے ذریعہ کس طرح زندہ اور سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اس کے زمانہ حمل مادر اور پھر اس کی طویل عمر یا قصیر عمل۔ یہ سب چیزیں اللہ کے علم اور منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں۔

اردو ترجمہ

اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے (یعنی مرد اور عورت) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAllahu khalaqakum min turabin thumma min nutfatin thumma jaAAalakum azwajan wama tahmilu min ontha wala tadaAAu illa biAAilmihi wama yuAAammaru min muAAammarin wala yunqasu min AAumurihi illa fee kitabin inna thalika AAala Allahi yaseerun

واللہ خلقکم من تراب ۔۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (11) ”

انسان کی پہلی تخلیق کی طرف قرآن کریم میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اسی طرح قرآن میں حمل کے ابتدائی مراحل کی طرف بھی مفصل اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی نطفے کی طرف۔ تراب وہ عنصر ہے جس میں زندگی نہیں ہوتی اور نطفہ وہ عنصر ہے جس میں زندگی ہوتی ہے۔ اس کائنات کے عظیم معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ اس بےجان عنصر میں کس طرح جان ڈال دی گئی اور حیات کس طرح پہلے عنصر کے ساتھ گھل مل گئی۔ آج تک یہ راز معمہ ہے اور انسان ابھی تک اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ یہ ایک قائم اور دیکھی جانے والی حقیقت ہے۔ اس کے اعتراف کے سوا چارہ کار بھی نہیں ہے۔ یہ معجزہ خالق ، زندہ کرنے والے اور عظیم قدرت والے اللہ کی طرف انسان کو دھکیل کرلے جاتا ہے اور انسان کسی شکل میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا اور نہ اس میدان میں کوئی چوں چرا کرسکتا ہے۔

بےجان سے جان دار کی طرف کسی عنصر کو منتقل کرنا نہایت ہی بڑا انقلاب ہے اور یہ زمان و مکان کی دوریوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس انقلاب پر ایک زندہ دل شخص جس قدر بھی غور کرے وہ ملول نہ ہوگا۔ اس طرح اس کائنات کے اسرار کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس راہ میں علم کے آگے بڑھنے سے جو اسرار و رموز کبھی کھلیں گے ہر اگلا راز پچھلے سے زیادہ عجیب ہوگا۔

اب اس نطفے سے ذرا آگے بڑھئے۔ ایک خلیہ کامل ہوتا ہے ، جنین بنتا ہے اور پھر ایک مرحلے میں اس جنین کی جنس کا تعین ہوتا ہے ۔ مرد اور عورت الگ الگ ۔ پھر وہ صورت بنتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔

ثم جعلکم ازواجا (35: 11) ” پھر تمہارے جوڑے بنا دئیے “۔ چاہے اس سے مراد یہ ہو کہ جنین کی حالت میں مذکر اور مونث کا امتیار کردیا یا اس سے مراد یہ ہو کہ ولادت کے بعد اور بالغ ہونے کے بعد شادیاں کر کے جوڑے بنا دیا۔ یہ انقلاب بھی کیا فکر و نظر کے لیے کم ہے کہ نہایت چھوٹے نطفے سے یوں مذکر و مونث بنا دیا گیا تو یہ بھی ایک عظیم انقلاب ہے۔ یا تو ایک چھوٹا سا نکتہ جو نطفے کی شکل میں ہے اور یا پھر ایک مکمل انسان جو ایک قوی ہیکل مخلوق ہے اور جس کے جسم کے اندر کثیر التعداد مشینیں ہیں جو مختلف کام کر رہی ہیں۔ جس کی تفصیلات میڈیکل سائنسز میں موجود ہیں اور باہم بالکل جدا ہیں۔

اب ہمارے زیر مطالعہ یہ سادہ خلیہ ہے۔ یہ اب تقسیم در تقسیم ہوتا ہے اور اس سے اور خلیے نکلتے ہیں ۔ اب اس ایک خلیے سے خلیات کے مجموعے بنتے چلے جاتے ہیں اور اعضاء بنتے چلے جاتے ہیں اور ہر عضو کا ایک فیضہ مقرر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان تمام اعضا سے ترکیب پاکر ایک انسان وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اعضاء باہم مربوط اور ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ انسان ایک بالکل ممتاز مخلوق ہوتا ہے۔ یہ اپنے ہم جنس بنی نوع انسان سے بھی الگ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی جدا ہوتا ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ دو انسان بالکل ایک ہی جیسے ہوں ، حالانکہ یہ ایک ہی نطفے سے پیدا ہوئے اور اس کے اندر کسی فرق کا ادراک انسان کو نہ تھا ۔ پھر یہ خلیے مرد و عورت کی شکل اختیار کرکے جوڑے بن جاتے ہیں اور ان جوڑوں کے ذریعے پھر اس تخلیق کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور یہ تسلسل انہی مراحل میں چلتا ہے۔ وہی مراحل دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر عجیب سلسلہ ہے کہ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے قرآن میں اس اعجوبے کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک راز نہیں ہے بلکہ جسم انسانی میں رازوں کا مجموعہ ہے۔ لوگ اگر اس پر تدبر کریں تو ایک سنان کے جسم میں بیشمار عجائبات ہیں اور انسان کی روح ان پر تدبر کرکے جاگ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس زاویہ سے انسان کو بار بار جھنجھوڑتا ہے اور جگاتا ہے۔

اس باریک مطالعہ کو پیش کرنے کے بعد اللہ کے علم کی وسعت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا میں اس کی تفصیلات آئی ہیں کہ اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے۔ یہاں مذکر و مونث کی تخلیق اور حمل اور وضع حمل بھی اس کے علم میں رہتا ہے

وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ (35: 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ کوئی بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے “۔ اب یہاں مذکر و مونث کا دائرہ عام کردیا جاتا ہے۔ انسان ، حیوان ، طیور ، مچھلیاں اور تمام حشرات الارض اس کے دائرے میں آجاتے ہیں ۔ چاہے ہم ان کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں کہ جن کا وضع حمل ہوتا ہے یا جو انڈے دیتے ہیں کیونکہ انڈا بھی ایک قسم کا حمل ہوتا ہے ۔ انڈے کے اندر جو جنین ہوتا ہے وہ ماں کے پیٹ میں نہیں بڑھتا بلکہ انڈے کے اندر بڑھتا ہے۔ صرف انڈا ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے اور یہ بھی اللہ کی صنعت کاری کا ایک کرشمہ ہے کہ ایک عمل جو پیٹ کے اندر ہوتا ہے ، یہاں یہ پوری ٹیکنالوجی انڈے کے اندر پیٹ کے باہر کردی جاتی ہے اور پھر وہ بڑھتی ہے اور ان سب عملوں کو اللہ جانتا ہے اور اس پر اس کا علم محیط ہے۔ اس پوری کائنات کے مختلف اطراف ہیں۔

اللہ کے علم کی یہ جامعیت ایسی ہے کہ ذہن انسانی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔ نہ تصور کے اعتبار سے اور نہ انداز تعبیر کے اعتبار سے جیسا کہ ہم نے سورة سبا میں یہ نکتہ بیان کیا۔ یہ تو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہی قرآن کا نازل کرنے والا ہے اور قرآن کا مصدر وسیع ذات باری ہے اور یہ ایک منفرد انداز استدلال ہے۔ پھر مختلف افراد و اشیاء کی عمر بھی اللہ کے علم میں ہے اور کتاب میں درج ہے۔ وما یعمر من ۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (35: 11) ” کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے ۔ اللہ کے لیے یہ سب کچھ بہت آسان کام ہے۔ جب خیال اس طرف جاتا ہے کہ اس کائنات میں نباتات ، پرندے ، حیوانات اور انسان اور دوسری چیزیں ، جن کے سائز اور حجم مختلف ہیں اور مختلف انواع و اقسام کی ہیں۔ مختلف علاقوں اور زمانوں میں ہیں ، پھر انسان جب یہ تصور کرتا ہے کہ یہ عظیم تعداد ، جس کا صحیح علم صرف خالق ہی کو ہے ، اس کے ہر فرد کو ایک عمر دی جاتی ہے۔ یہ عمر طویل ہو یا قصیر ہو ، اس میں زیادتی ہو یا کمی ہو ، سب کی سب ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ سب کے بارے میں جانتا ہے۔

بلکہ ہر ایک فرد کے جزء کے بارے میں بھی اللہ جانتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہوگی۔ زیادہ ہوگی یا کم ہوگی مثلا کسی درخت کے پتے کی عمر کیا ہوگی۔ کب نکلے گا اور کب گرے گا۔ اور کب مٹی ہوگا۔ ہر پرندے کے ہر پر کے بارے میں بھی اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب جسم سے الگ ہوگا۔ ہر حیوان کا ہر سینگ کس قدر عمر پائے گا یا حیوانات کی باہم ٹکر میں کوئی سینگ ٹوٹ جائے گا۔ پھر انسان کے اعضاء آنکھ اور کان وغیرہ یہ کب تک رہیں گے اور کب کام چھوڑ دیں گے۔ یہ سب باتیں اللہ کی کتاب تقدیر میں درج ہیں۔ اور اللہ کے علم میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس سلسلے میں کوئی جہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

ان ذلک علی اللہ یسیر (35: 11) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے “۔

جب انسانی خیال ان باتوں پر غور و فکر کرتا ہے اور ان لائنوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ بہت ہی عجیب نظر آتا ہے۔ اس آیت کے ضمن میں ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں جس طرف انسانی خیال بالعموم متوجہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح کی باتیں ساچنا انسان کی عادت ہی نہیں ہے۔ یہ صرف خداوند قدوس کی ہدایت ہے کہ تم ذرا اس انداز سے غور کرو۔

اور عمر کی زیادتی سال و ماہ کی تعداد کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور عمر میں برکت کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ عمر میں برکت یوں ہوتی ہے کہ انسان کی عمر اچھے کاموں میں صرف ہو اور اس میں دوڑ دھوپ ، مفید کام اور اعمال و آثار زیادہ ہوں۔ اور عمر کا نقص بھی اسی طرح ہے یا تو ماہ و سال کم ہوجائیں یا عمر کی افادیت کم ہوجائے اور اس سے برکت نکل آئے بجائے اس کے کہ انسان اچھے کام کرے اس کی زندگی خالی ہو۔

بعض اوقات زندگی کا ایک گھنٹہ بھی پوری عمر کے برابر ہوتا ہے۔ وہ افکار اور شعور اور احساسات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور اس کے اندر اونچے درجے کا اعمال عمل میں آجاتے ہیں اور اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات انسان کا پورا سال خالی خولی گزر جاتا ہے اور اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔ اللہ کے نزدیک اس سال کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ یہ سب امور اللہ کے حساب و کتاب میں ہیں اور ہر موجود مخلوق کے بارے میں یہ سب امور صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

جماعتیں افراد کی طرح ہیں۔ اسی طرح اقوام بھی ایک فرد کی طرح ہیں۔ ان کی عمر کا بھی یہی قانون ہے۔ کسی کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی امت کا پتہ جلد ہی کاٹ لیا جاتا ہے اور یہ سب معانی اس آیت میں داخل ہیں۔ امم کی بھی تقدیر ہوتی ہے اور وہ طاؤس و رباب پر ختم ہوتی ہے۔ تمام اشیاء کی بھی عمر ہوتی ہے جس طرح زندہ چیزوں کی عمر ہوتی ہے۔ ایک چٹان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ ایک پہاڑ کی بھی عمر ہوتی ہے ۔ ایک نہر کی بھی عمر ہوتی ہے اور ایک پتھر کی بھی عمر ہوتی ہے۔ پھر وہ پاش پاش ہوجاتا ہے۔ ایک غار کی بھی عمر ہوتی ہے اور پھر وہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایک نہر کی عمر ہوتی ہے اور جب عمر ختم ہو تو نہر خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ بعض اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان بناتا ہے۔ ان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ مشینیں ، کپڑے اور تمام دوسری مصنوعات کی بھی عمر ہوتی ہے اور اپنی مقررہ عمر پوری کرکے وہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ اور یہ سب کام اللہ کی تقدیر میں ہیں اور معلوم و مقدر ہیں۔

اس زاویہ سے اگر امور پر تدبر کیا جائے تو اس کائنات کا مطالعہ ایک نئے افق سے ہوتا ہے ۔ یہ کائنات کے مطالعہ کا یہ ایک نیا اسلوب ہے اور انسانی فہم و ادراک کی قوتوں کو ایک نیا شعور ملتا ہے۔ انسان محصوس کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور علم وسیع اور شامل اور کامل ہے۔ لہٰذا انسان اس شعور کے ہوتے ہوئے کبھی غافل اور گمراہ نہیں ہوسکتا۔ وہ جہاں دیکھتا ہے ، دست قدرت کی کاری گری نظر آتی ہے۔ اللہ کی نگرانی نظر آتی ہے اور ہر چیز کی مہربانی اور قدرت نظرآتی ہے۔

اب سیاق کلام کا رخ کائناتی مناظر کے ایک منظر کی طرف ہوتا ہے ۔ سمندر کے پانیوں کے مناظر میں سے ایک منظر ، پانیوں کی اقسام ۔ یہ ہے میٹھا پانی اور وہ ہے سخت کھارا۔ دونوں قسم کے پانیوں کے پہاڑ سمندر کے اندر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں انسانوں کی خدمت کرتے ہیں ، یا ہم ملتے نہیں ہیں۔

435