قل ارءیتم۔۔۔۔۔ الا غرورا (40) “۔
یہ حجت بالکل واضح ہے اور یہ دلیل محتاج تشریح نہیں ہے۔ یہ زمین اور اس کے اندر جو بھی ہے اس کے ساتھ وہ اللہ کی مخلوق ہے اور یہ آسمان اپنی وسعتوں تک اللہ کا ہے۔ اس زمین کے اندر نظر آنے والی اشیاء میں سے کون سی چیز ایسی ہے جس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی اور دعویٰ کرسکتا ہو یا کسی اور کے بارے میں دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو ہر چیز اس کے دعویٰ کے خلاف پکار اٹھے گی کہ یہ غلط ہے اور ہر چیز پکار کر کہے گی کہ اسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز اپنے اندر ایسے آثار اٹھائے ہوئے ہے کہ وہ کسی مدعی کے دعویٰ کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں کیونکہ یہ آثار کسی انسانی صنعت سے مشابہت ہی نہیں رکھتے۔ یعنی انسانوں نے جس قدر چیزیں بنائی ہیں ان میں نظام قدرت کی مصنوعات کی صفات نہیں ہیں۔
ام لھم شرک فی السموت (35: 40) ” یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے “۔ یہ تو بطریق اولیٰ مسترد ہے۔ جب زمین کو کسی چیز میں وہ شریک نہیں تو آسمان کی کسی چیز میں شریک کیسے ہیں۔ کیونکہ جب زمین کی کسی چیز کے بارے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان نام والیوں کی مخلوق ہے تو آسمان کی کسی چیز کے بارے میں کوئی کیسے دعویٰ کرسکتا ہے۔ غرض نہ یہ الٰہ آسمانوں کی کسی چیز کی تخلیق میں شریک ہیں اور نہ مملکت میں شریک ہیں۔ جو چیز بھی آپ کہیں۔ یہاں تک کہ جن اور ملائکہ کو بھی ایسی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تو ان کا زعم یہ تھا کہ جن آسمانوں کی خبریں چراکر لاتے ہیں اور یہ ان سے یہ خبریں معلوم کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا ہے کہ جن یا ملائکہ آسمانوں میں خدا کے ساتھ شریک ہیں۔
ام اتینھم۔۔۔۔ بینت منہ (35: 40) ” کیا ہم نے ان کو کوئی تحریر لکھ کردی ہے جس کی بنا پر کوئی سند رکھتے ہیں “۔ یہ کہ اللہ نے ان خود ساختہ خداؤں کو کوئی تحریر دی ہو اور انہیں یقین ہو کہ وہ بھی خدا کے ساتھ شریک ہیں یہ مفروضہ بھی غلط ہے۔ یہاں یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استفہام انکاری شرکاء کے بجائے مشرکین سے ہو ، یعنی ان خود ساختہ الہوں پر ان لوگوں کا جو اندھا عقیدہ ہے کیا یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی تحریر پر مبنی ہے۔ جو ان مشرکین پر اتری ہو۔ اس سے یہ اپنا عقیدہ لیتے ہوں اور استدلال کرتے ہوں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ کوئی ایسی تحریر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہاں اس تفسیر کے مطابق اشارہ بھی نکلے گا کہ عقائد صرف اللہ کی جانب سے کسی کتاب اور صریح نص ہی سے ثابت ہوتے ہیں اور کتاب اللہ ہی نظریات کے لیے ماخذ ہوسکتی ہے کیونکہ یہی یقینی سرچشمہ ہدایت ہوتی ہے۔ ان کے پاس کوئی منصوص دلیل چونکہ نہیں ہے اس لیے ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کا ہر قوم اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا ہے۔ پس کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ منہ پھیرتے ہیں حالانکہ عقائد لینے کا صحیح راستے یہی ہے کہ یہ لوگ رسول ﷺ کی بات مانیں۔
بل ان یعد۔۔۔۔ الا غرورا (35: 40) ” بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دئیے جا رہے ہیں “ یہ ظالم ایک دوسرے سے لمبے چوڑے وعدے کرتے ہیں کہ ان کا راستہ یہی راستہ ہے جو آباء و اجداد کا ہے اور یہ کہ وہ آخر کار کامیاب ہوں گے۔ حالانکہ یہ لوگ فریب خوردہ اور مغرور ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ بعض کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ اس غرور میں زندہ رہتے ہیں اور یہ ان کے لیے کوئی نفع بخش صورت حال نہیں ہے۔
اس کے بعد کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے نہ آسمانوں میں ، نہ زمین میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ دست قدرت کا کارنامہ ہے کہ جس نے زمین و آسمان کو تھام رکھا ہے اور وہ بلاشکت غیرے اس کائنات کا مدبر اور چلانے والا ہے۔ کائنات میں کوئی اور الٰہ تلاش کرنے کے بجائے خود اس کو دیکھو۔
آیت 40{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟“ { اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں !“ { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ } ”یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں !“ کیا ان کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب موجود ہے جس کی کسی واضح دلیل کی بنیاد پر انہوں نے اپنے اعتقادات اخذ کیے ہیں ؟ { بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا } ”بلکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدے نہیں دے رہے مگر فریب کے۔“ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض ُ پرفریب وعدے کر رہے ہیں۔
مدلل پیغام۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے ؟ یا یہی ثابت کردو کہ آسمانوں میں ان کا کونسا حصہ ہے ؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارو ؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کردو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے ان جھوٹے معبودوں کی کمزوری اپنے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جو سچا معبود ہے قدرت و طاقت دیکھو کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ رکا ہوا اور تھما ہوا ہے۔ ادھر ادھر جنبش بھی تو نہیں کرسکتا۔ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے اللہ تعالیٰ رکے ہوئے ہے۔ یہ دونوں اس کے فرمان سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے، روک سکے، نظام پر قائم رکھ سکے۔ اس حلیم و غفور اللہ کو دیکھو کہ مخلوق و مملوک، نافرمانی و سرکشی، کفر و شرک دیکھتے ہوئے بھی بربادی اور بخشش سے کام لے رہا ہے، ڈھیل اور مہلت دیئے ہوئے ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب بلکہ منکر حدیث ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا ایک واقعہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر بیان فرمایا کہ آپ ﷺ کے دل میں خیال گذرا کہ اللہ تعالیٰ کبھی سوتا بھی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیج دیا جس نے انہیں تین دن تک سونے نہ دیا۔ پھر ان کے ایک ایک ہاتھ میں ایک ایک بوتل دے دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو یہ گریں نہیں ٹوٹیں نہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ انہیں ہاتھوں میں لے کر حفاظت کرنے لگے لیکن نیند کا غلبہ ہونے لگا اونگھ آنے گی۔ کچھ جھکولے تو ایسے آئے کہ آپ ہوشیار ہوگئے اور بوتل گرنے نہ دی لیکن آخر نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرگئیں اور چورا چور ہوگئیں۔ مقصد یہ تھا کہ سونے والا دو بوتلیں بھی تھام نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں فرما چکا ہے کہ اسے نہ تو اونگھ آئے نہ نیند۔ زمین و آسمان کی کل چیزوں کا مالک صرف وہی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو سوتا ہے نہ سونا اس کی شایان شان ہے۔ وہ ترازو کو اونچا نیچا کرتا رہتا ہے۔ دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ یا آگ ہے۔ اگر اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے سب مخلوق کو جلا دیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا شام سے۔ پوچھا وہاں کس سے ملے ؟ کہا کعب سے۔ پوچھا کعب نے کیا بات بیان کی ؟ کہا یہ کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے تک گھوم رہے ہیں۔ پوچھا تم نے اسے سچ جانا یا جھٹلا دیا ؟ جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سنو حضرت کعب نے غلط کہا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ دوسری سند میں آنے والے کا نام ہے کہ وہ حضرت جندب بجلی تھے۔ حضرت امام مالک بھی اس کی تردید کرتے تھے کہ آسمان گردش میں ہیں اور اسی آیت سے دلیل لیتے تھے اور اس حدیث سے بھی جس میں ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کا دروازہ ہے وہ بند نہ ہوگا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو۔ حدیث بالکل صحیح ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔