اس صفحہ میں سورہ Faatir کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فاطر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ ۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلْكَٰفِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلْكَٰفِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا
قُلْ أَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمْ ءَاتَيْنَٰهُمْ كِتَٰبًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ ٱلظَّٰلِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يُمْسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا
ٱسْتِكْبَارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَكْرَ ٱلسَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلْمَكْرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِۦ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحْوِيلًا
أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعْجِزَهُۥ مِن شَىْءٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا
آیت 39{ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ } ”وہی تو ہے جس نے تمہیں جانشین بنایا زمین میں۔“ { فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ } ”تو جس کسی نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا۔“ { وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلَّا مَقْتًاج } ”اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک سوائے غضب کے کسی چیز میں اضافہ نہیں کرے گا۔“ { وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُہُمْ اِلَّا خَسَارًا } ”اور کافروں کے لیے ان کا کفر سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھائے گا۔“ ان کے کفر کے سبب ان کے خلاف اللہ کے غصے اور اس کی بےزاری میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح ان کی تباہی اور بربادی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
آیت 40{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟“ { اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں !“ { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ } ”یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں !“ کیا ان کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب موجود ہے جس کی کسی واضح دلیل کی بنیاد پر انہوں نے اپنے اعتقادات اخذ کیے ہیں ؟ { بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا } ”بلکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدے نہیں دے رہے مگر فریب کے۔“ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض ُ پرفریب وعدے کر رہے ہیں۔
آیت 41{ اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا } ”یقینا اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ اپنے راستے سے ہٹ نہ جائیں۔“ { وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْم بَعْدِہٖ } ”اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد !“ { اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } ”یقینا وہ بہت بردبار ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی لوگوں کی غلطیوں پر فوراً پکڑ نہیں کرتا اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے۔
آیت 42{ وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ہُمْ نَذِیْـرٌ لَّـیَکُوْنُنَّ اَہْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ } ”اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرَا } ”پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس چیز نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔“ جب محمد عربی ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے انہیں دعوت دینا شروع کی تو وہ آپ ﷺ کی دعوت سے بدکنے اور دور بھاگنے لگے۔
آیت 43{ نِ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَ السَّیِّیِٔ } ”زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور ُ بری چالیں چلتے ہوئے۔“ انہوں نے حضور ﷺ کے خلاف متکبرانہ رویہ بھی اختیار کیا اور آپ ﷺ کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں بھی کیں۔ { وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ } ”اور ُ بری چال کا وبال نہیں پڑتا مگر اس کے چلنے والے پر ہی۔“ { فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ } ”تو وہ کس چیز کے انتظار میں ہیں سوائے پہلے والوں کے انجام کے !“ ”سُنّتُ الاَوّلیْن“ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق پچھلی نافرمان قومیں ہلاک ہوئیں۔ گویا اب یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ قانونِ خداوندی کا انطباق جس طرح پچھلی اقوام پر ہوا تھا اسی طرح اب ان پر بھی ہو اور جس طرح ماضی میں نافرمان اقوام کو ہلاک کیا جاتا رہا اسی طرح انہیں بھی ہلاک کردیا جائے۔ { فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا } ”تو تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی ‘ اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون کو رخ پھیرتے ہوئے۔“ تبدیل اور تحویل دو الگ الگ لیکن قریب المعانی الفاظ ہیں۔ تبدیل یا تبدیلی کا مفہوم تو عام فہم ہے ‘ جبکہ تحویل کے معنی رخ پھیرنے یا سمت بدلنے کے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا قانون کسی کے لیے اپنا رخ نہیں بدلتا اور اگر کوئی شخص یا کوئی قوم اللہ کے قانون کی زد میں آنے والی ہو تو اس قانون کے رخ کو کسی طور سے پھیرا نہیں جاسکتا۔ چناچہ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں تو اللہ کا قانون بھی بدلنے والا نہیں۔ ان سے پہلے کی قومیں اگر ایسی روش کو اپنا کر نشان عبرت بنتی رہی ہیں تو یہ لوگ بھی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔
آیت 44{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں ‘ پس یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے“ { وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ”حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے !“ { وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کرسکے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا } ”یقینا وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ ہرچیز پر قادر ہے۔“