اولم یسیروا۔۔۔۔۔ علیما قدیرا (44) ”
اس زمین میں سیر کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اس میں گزشتہ اقوام کے واقعات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں کہ وہ کیا کرتے تھے اور ان کا انجام کیا ہوا۔ زمین کے واقعات و حادثات سے انسانی شعور اور دل میں خدا کا خوف اور عبرت آموز اشارات کا بیٹھنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ زمین میں پھرو اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانوں کا مطالعہ کرو ، ہلاک شدہ اقوام کے شب و روز دیکھو ! جن کا نام و نشان اس زمین سے مٹا دیا گیا۔ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان دلوں کو جگاؤ جن کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہے تو ان کے اندر احساس نہیں ہے اور اگر احساس ہے تو وہ عبرت نہیں لیتے۔ ان مردہ دلوں میں سنن الہیہ کا کوئی شعور نہیں ہے اور وہ تاریخی واقعات کی تعبیر سنن الہیہ کی روشنی میں نہیں کرتے۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے اندر فرق ہی صرف یہ ہے کہ انسان واقعات کی تعبیر و تشریح اصولوں کی روشنی میں کرتا ہے جبکہ حیوان حالات ، واقعات ، اصولوں اور قواعد اور سنن الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتا ، نہ وہ کسی واقعہ سے احکام و نتائج اخذ کرتا ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تمام بنی نوع انسان سنن الہیہ اور نوامیس فطرت کے سامنے یکساں ہوتے ہیں۔
اس تاریخی سفر میں قرآن کریم ناظرین کو تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کے دہانے کھڑا کرکے ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ لوگ نہایت قوت اور شوکت والے تھے اور ان کو ان کی یہ قوت اور شوکت بچانہ سکی ، لہٰذا تمام قوتوں سے برتر قوت موجود ہے ۔ وہ قوت جس کے مقابل کی کوئی قوت نہیں ہے اور نہ اس کو کوئی قوت عاجز کرسکتی ہے۔ یہ قوت ان لوگوں کو اسی طرح پکڑ سکتی ہے جس طرح سابقہ اقوام کو اس نے پکڑا۔
وما کان۔۔۔۔۔ فی الارض (35: 44) ” اور اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے ، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں “ اور اس پر یہ تبصرہ آتا ہے جو اس کی تفسیر کرتا ہے اور دلیل پیش کرتا ہے۔
انہ کان علیما قدیرا (35: 44) ” وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ سب سے آخر میں سورة کا خاتمہ آتا ہے جس میں اللہ کی مہربانیاں اور معافیاں اور درگزر کا اظہار بھی کیا جاتا ہے اور اللہ کی قدرت اور قوت کا احساس بھی دلایا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ لوگوں کو جو مہلت دئیے جا رہا ہے وہ اس لیے دے رہا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے اور اللہ حساب و کتاب میں نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔
آیت 44{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں ‘ پس یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے“ { وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ”حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے !“ { وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کرسکے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا } ”یقینا وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ ہرچیز پر قادر ہے۔“
عبرت ناک مناظر سے سبق لو۔ حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہوگئی، ان کے مال تباہ کردیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کردی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لئے گئے، تباہ و برباد کردیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کرسکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا۔ وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہوجاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہوجاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو موخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہوجائے اور حساب کتاب شروع ہوجائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ بخوبی دیکھنے والا ہے۔