سورہ فصیلات: آیت 37 - ومن آياته الليل والنهار والشمس... - اردو

آیت 37 کی تفسیر, سورہ فصیلات

وَمِنْ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيْلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اردو ترجمہ

اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamin ayatihi allaylu waalnnaharu waalshshamsu waalqamaru la tasjudoo lilshshamsi wala lilqamari waosjudoo lillahi alathee khalaqahunna in kuntum iyyahu taAAbudoona

آیت 37 کی تفسیر

درس نمبر 228 ایک نظر میں

اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔

یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔

شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ،

واسجدوا للہ الذی خلقھن (41 : 37) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔

ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔

آیت 37{ وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّـیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ } ”اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند۔“ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ } ”تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو“ { وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ”بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ‘ اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔“

مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں ؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہوجاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہوجاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لئے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کرلی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کرلیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بےتھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لئے رحمت ہیں اور بعض کے لئے زحمت، اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے۔

آیت 37 - سورہ فصیلات: (ومن آياته الليل والنهار والشمس والقمر ۚ لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن إن كنتم إياه تعبدون...) - اردو