اس صفحہ میں سورہ Fussilat کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ فصلت کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ
نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىٓ أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحًا وَقَالَ إِنَّنِى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌ
وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيْلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
فَإِنِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْـَٔمُونَ ۩
یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔
الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔
اس سبق کا خاتمہ ایک داعی کے خدو خال اور حوصلہ افزائی پر ہوتا ہے۔ اس کی روح ، اس کے الفاظ ، اس کے آداب اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ان باتوں کی طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے تمام داعیوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ سورت کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پیغمبروں اور داعیوں کے ساتھ عوام الناس کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ کس قدر گستاخی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں داعی کو بتایا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کا منہاج دعوت یہ ہے۔
دعوت اسلامی کا کام ایک بہت بڑا اور کٹھن کام ہے ، داعی کو مخاطب کی پیچیدہ نفسیات کا ، اس کی جہالت کا ، اس کی عزت نفس ، اس کے استکبار کا ، اس کی خواہشات کا ، اس کے مفادات کا اور اس کے مرتبہ و مقام کا سامنا ہوتا ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت کی طرف دعوت دینا ، ان میں سے بیشتر چیزوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر یہ دعوت دینا اور ایک طبقاتی معاشرے میں دینا کہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ برابر ہیں ، ایسے حالات میں دعوت کی ذمہ داری اٹھانا حقیقت ہے کہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک عظیم کام بھی تو ہے۔
ومن احسن قولا ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (33) ” اور اس شخص کی بات سے اور اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں “۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھے ہیں ان کی دعوت اس عالم میں سب سے برگذیدہ دعوت ہے ، ان کے کلمے آسمانوں کی طرف پاکیزہ کلمات کی صورت میں بلند ہوتے ہیں ، لیکن داعی کی دعوت کے ساتھ اس کا عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ وہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو۔ اس کی ذات اس دعوت میں گم ہوجائے اور اس کے سب کام دعوت ہوجائیں اور اس کی تمام سرگرمیوں میں اس کا اپنا کچھ نہ ہو۔
اس کے بعد پھر داعی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اس کی دعوت کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ کوئی انکار کرتا ہے ، کوئی گستاخی کرتا ہے ، کوئی تکبر کرتا ہے ، بہرحال داعی ایک اچھا انداز لے کر ہی چلتا ہے۔ وہ تو بلند مقام پر ہوتا ہے۔ اس کا مخالف برائی لے کر آتا ہے۔ اس کا مخالف تو نہایت ہی گرے ہوئے مقام پر ہوتا ہے۔
ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ (41 : 34) ” اے نبی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں “۔ اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے دے۔ نیکی اور بدی کا اثر یکساں نہیں ہوتا۔ نہ دونوں کی قدرو قیمت یکساں ہے۔ داعی کو چاہئے کہ شر کا مقابلہ شر سے کرنے کی دلی رغبت کو ترک کر دے اور برائی کو صبر ، معافی اور سنجیدگی کے ساتھ رد کرے۔ کرخت نفوس کو اعتماد اور نرمی پر آمادہ کرے۔ چناچہ دشمن دوستی سے بدل جائے اور سختی نرمی میں بدل جائے۔
ادفع بالتی ھی ۔۔۔۔۔ ولی حمیم (41 : 34) ” تم بدی کو نیکی سے دفع کرو ، جو بہترین ہو ، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے “۔ اسلام کا یہ اصول بسا اوقات نہایت ہی اچھے نتائج دیتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے اور غضب اور کینہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ تکبر ، شرم و حیاء میں بدل جاتا ہے ، بشرطیکہ کوئی اچھی بات کرنا جانتا ہو ، اور سنجیدگی سے بات کرسکتا ہو ، اور ایک نہایت ہی ہیجانی کیفیت کے سامنے مسکراہٹ سے بات کرسکتا ہو۔ ایک ایسے شخص کے سامنے نہایت ہی ٹھنڈے مزاج کا مظاہرہ کرسکتا ہو ، جو آپے سے باہر ہوگیا ہو۔
اگر کسی ایسے شخص کا مقابلہ ایسے ہی انداز میں کیا گیا جس طرح اس کا ہے تو پھر کیا ہوگا۔ وہ مزید آپے سے باہر ہوگا ، کبر کرے گا اور سرکشی پر آمادہ ہوگا ، حیا و شرم کا جامہ اتار پھینکے گا اور آپے سے باہر ہو کر آمادۂ جنگ ہوگا۔
لیکن اس میں ایک شرط ہے ، وہ یہ کہ اس طرح کی شرافت کا مظاہرہ کرنے والا ایک بڑے دل اور بڑے مقام کا مالک ہو ، وہ اس پوزیشن میں ہو کہ اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہے تو دے سکے۔ برائی کا جواب دینے کی اگر قدرت ہو تو پھر شرافت کا اثر ہوگا۔ ورنہ ” گداگر تواضع گند خوئے اوست “۔ یہ نہ ہو کہ اچھا رویہ اختیار کرنے کو کمزوری سمجھا جائے ۔ اگر مخالف نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کمزور ہے تو پھر وہ ہرگز احترام نہ کرے گا اور پھر اچھائی کا کوئی اثر نہ ہوگا۔
پھر یہ بات بھی نوٹ کرلینا چاہئے کہ اس شرافت کا مظاہرہ شخصی دست درازی کے مواقع پر ہونا چاہئے۔ اگر کوئی اسلام اور اللہ کے اصولوں پر دست درازی کرتا ہے ، یا کوئی اہل ایمان پر مظالم ڈھاتا ہے۔ لوگوں کو دین سے روکتا ہے ، تو اس صورت میں ہر قسم کے ہتھیاروں سے مقابلہ ضروری ہے یا پھر اگر مقابلے کی صورت نہ ہو تو صبر کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ایک تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہو اور دوسرا برائی کا بدلہ نیکی سے دے رہا ہو۔
یہ مقام ، کہ برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ، اور غیض و غضب کے مقام پر رواداری اور برداشت کرنا اور یہ فیصلہ کر سکنا کہ کہاں رواداری اور برداشت کرنا ہے اور کہاں برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ہے۔ یہ ایک عظیم مرتبہ ہے۔ یہ مرتبہ و مقام ہر انسان کو نہیں مل سکتا۔ اس مقام پر وہی شخص فائز ہوسکتا ہے جسے صبر کی بڑی مقدار دی گئی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر اللہ کے خاص بندے اور صبر کرنے والے ہی فائز ہو سکتے ہیں۔
وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذو حظ عظیم (41 : 35) ” اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں “ ۔ یہ اس حد تک بلند درجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ جو ذاتی معاملات میں بھی کبھی غصے میں نہیں آتے تھے اور اگر غصے میں آتے تھے تو ان کے مقابلے میں کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ ہر داعی کو یہ کہا جاتا ہے :
واما ینزغنک ۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (41 : 36) ” اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ غصے میں کبھی اکساہٹ ہوتی ہے انتقام کی ، برائی کی وجہ سے بعض اوقات انسان صبر کی کمی محسوس کرتا ہے یا شرافت میں تنگ دلی محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے۔ اس سے وہ سوراخ بند ہوجائے گا جو شیطان کرنا چاہتا تھا۔
اللہ انسانی دل کا خالق ہے ، وہ اس کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اس کی طاقت اور حد برداشت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ شیطان کس سوراخ سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ یہ داعی کے قلب کو گھیرتا ہے اور اکساتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو بچانے والا ہے۔ کیونکہ یہ راستہ کٹھن ہے۔ یہ راہ بڑی دشوار گزار ہے ، نفس انسانی کے نشیب و فراز میں اور نفس انسانی کی پیچیدہ وادیوں میں داعی کو سفر کرنا ہوتا ہے تا کہ داعی گہرے نفسیاتی میلانات میں ہدایت اور قیادت کا حق ادا کرسکے۔
درس نمبر 228 ایک نظر میں
اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔
یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔
شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ،
واسجدوا للہ الذی خلقھن (41 : 37) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔
اس کا قریب الفہم مفہوم تو یہی ہے کہ اللہ کے پاس کی مخلوق سے مراد ملائکہ ہیں۔ لیکن اللہ کے مقرب بندوں پر مشتمل کوئی اور مخلوق بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ اللہ کی مخلوقات کے بارے میں تو ہم بہت کم جانتے ہیں۔
وہ لوگ جو رب کے ہاں ہیں وہ ارفع و اعلیٰ مخلوق ہیں ، وہ زیادہ مکرم اور مثالی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کے مقابلے میں اس طرح کبر نہیں کرتے جس طرح زمین کی یہ کمزور مخلوق انسان کرتا ہے ، نہ وہ اس طرے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقربین ہیں اور نہ وہ رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کی تسبیح کرنے سے رکتے یا تھکتے ہیں۔
وھم لا یسئمون (41 : 38) ” کبھی نہیں تھکتے “۔ لہٰذا اگر اہل امین سب کے سب ہی اللہ کی بندگی چھوڑ دیں تو اللہ کی پرستش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ذرا اس زمین کو تو دیکھیں جس میں وہ رہتے ہیں ، جس سے وہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور جس کی طرف لوٹا کر دفنائے جائیں گے۔ یہ زمین جس کے اوپر یہ چیونٹیوں جیسے پھرتے ہیں ان کے کھانے پینے کا کوئی سامان بھی اس زمین کے سوا کہیں نہیں ہے۔ یہ زمین بھی نہایت خشوع میں اللہ کے سامنے سہمی ہوتی ہے۔ مردہ ہوجاتی ہے تو اللہ ہی اسے زندہ اور سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔