سورہ ہود: آیت 103 - إن في ذلك لآية لمن... - اردو

آیت 103 کی تفسیر, سورہ ہود

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلْءَاخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna fee thalika laayatan liman khafa AAathaba alakhirati thalika yawmun majmooAAun lahu alnnasu wathalika yawmun mashhoodun

آیت 103 کی تفسیر

دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔

لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں جو عبرت انگیز حالات پیش آتے ہیں وہ ان سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔

اب بتایا جاتا ہے کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟

ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103 : 11) “ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ”

یہ ایک منظر ہے جس میں سب لوگ جمع کردیئے جائیں گے ، اس اکٹھ میں ان کے اپنے ارادے کا کوئی دخل نہ ہوگا بلکہ اس نظر آنے والے منظر میں ان کو چلا کر لایا جائے گا ، تمام کے تمام لوگ یکجا حاضر ہوں گے اور سب کی سب انجام کے منتظر ہوں گے۔

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے اس دن صرف رسول ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے۔ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ اس آیت کے اترنے پر حضرت عمر ؓ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کرلی گئی ہے یا کسی نئی بنا پر ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہوچکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہوگا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے۔

آیت 103 - سورہ ہود: (إن في ذلك لآية لمن خاف عذاب الآخرة ۚ ذلك يوم مجموع له الناس وذلك يوم مشهود...) - اردو