اس صفحہ میں سورہ Hud کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ هود کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِۦ لَعْنَةً وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ بِئْسَ ٱلرِّفْدُ ٱلْمَرْفُودُ
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَآئِمٌ وَحَصِيدٌ
وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ۖ فَمَآ أَغْنَتْ عَنْهُمْ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِى يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ
وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلْقُرَىٰ وَهِىَ ظَٰلِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلْءَاخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ
يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّ وَسَعِيدٌ
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُوا۟ فَفِى ٱلنَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ
۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔
(فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔
بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :
یہ ایک تو توہین آمیر تبصرہ ہے۔ یوں کہ آگ کو تحفے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محنت کا صلہ۔ یہ تھا تحفہ جو فرعون نے ان کو دیا۔ وہاں اس نے جادوگروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو عظیم صلہ اور جزاء دے گا۔ یہ ہے اس کی دی ہوئی جزا اور انعام۔ یہ ہے اس کا عظیم انعام کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ جس پر اس نے اپنی قوم کو اتارا اور کیا ہی برا ہے وہ صلہ جو اس نے اپنی قوم کو اس کی جانب سے اتباع پر دیا۔
یہاں قرآن کریم کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ انسان عش عش کرنے لگتا ہے اور یہ ہے دراصل اعجاز اس کتاب عزیز جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو قرآنی اسلوب کا ذوق رکھتے ہیں۔
درس نمبر 105 ایک نظر میں
یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔
مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102)
“ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔
دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108)
“ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔
اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی گئی جس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ضرور عذاب سے دوجار ہوں گے ، لہذا اے رسول آپ اور آپ کے ساتھ چلنے والے ساتھی اپنی راہ پر سیدھے آگے بڑھیں اور ان مشرکین اور ظالموں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اختیار نہ کریں ، نماز قائم کریں ، مشکلات پر صبر کریں کیونکہ اللہ محسنین کے اجر کو ذرہ برابر ضائع نہیں کرتا۔
فَلاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلاكَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (109) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110) وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (111) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113) وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (114) وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (115) (11 : 109 تا 115)
“ پس اے نبی ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ ولوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے ، اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔
ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔
پس اے نبی ﷺ ، تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ، جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے۔ اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبہی ضائع نہیں کرتا ”۔
اس کے بعد روئے سخن ان ازمنہ قدیمہ کی اقوام کی طرف مڑجاتا ہے جن میں ایسے لوگ نہ تھے جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے ۔ ان اقوام کی اکثریت اسی راہ پر چلتی رہی جس پر وہ چل پرے تھے۔ اس لیے وہ اقوام ہلاکت کی مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کو ہلاک کر دے اور اس کے باسی مصلح ہوں۔
فَلَوْلا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأرْضِ إِلا قَلِيلا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ (116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) (11 : 116 ۔ 117)
“ پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ، ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کا سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیا گیا اور وہ مجرم بن کر ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ”۔
اس حصے میں اللہ نے ان سنتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کے اندر جاری کی ہوئی ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات اور میلانات مختلف ہوں گے اور ان کے خیایات میں اخلاف ہو کا۔ اگر الہل چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا۔ لیکن اللہ نے لوگوں کو فکری اور اختیاری آزادی عطا کردی اور اس وجہ سے ان کے درمیان اختلافات واقع ہوگے۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118)إِلا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) (11 : 118 – 119)
“ بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ”۔
آخر میں ، اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان قصص کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ؟ یہ کہ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کفار کو آخری وارننگ دے دیں اور ان کو بتادیں کہ کس قدر عظیم عذاب آخرت ان کے انتظار میں ہے ، اور یہ کہ آپ اللہ پر توکل کر کے اللہ کی عبادت کریں اور لوگون کو اللہ کے حوالے کردیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔
وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (120) وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ (122) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (123) (11 : 121 ۔ 123)
“ اور اے نبی ﷺ ، یہ پیغمبروں کے قصے ، جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا۔ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کا کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جارہے ہیں ، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے ۔ سب الہل کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اللہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ بس اے نبی تو اس کسی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ”۔
درس نمبر 105 تشریح
100۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 123
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102)
“ یہ چند بستیوں کی سر گزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ”۔
اس سے قبل جو مناظر پیش کیے گئے وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پردہ خیال پر مناظر و تصاویر بری تیزی سے آرہی ہے اور گزر رہی ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ایک عظیم طوفان میں موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ بعض لوگ سخت آندھی میں گھرے ہوئے ہیں جو سب کچھ تباہ کرتی آگے بڑہ رہی ہے ، بعض لوگوں پر اس قدر شدید آواز اور چیخ آئی وہ دھڑام سے گرے اور ڈھیرے ہوگئے۔ بعض لوگ اپنے گھروں سمیت زمین کے پیٹ میں دھنس گئے اور بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے متبعین کے جلوس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن پورے کا پورا جلوس جاکر جہنم میں گر جاتا ہے ، غرض اقوام سابقہ کو پیش آنے والے تمام واقعات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور بات لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے شعور کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے تو اس حالت میں درج ذیل تبصرہ آتا ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (11 : 100)
“ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ”۔
یہ چند بستیوں کی مختصر سرگزشت ہے ، عبرت آموزی کے علاوہ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو پیغمبر یہ علم پیش کر رہا ہے ، مسلمہ طور پر اس سے قبل وہ ان باتوں کو نہ جانتا تھا ، لہذا اس کے پاس یہ معلومات بذریعہ وحی ہی آرہی ہیں اور قصص قرآن کے بیش کرنے کے بیشمار مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے۔
(منہا قائم) “ یعنی ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں ، لوگ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ کس قدر متمدن اور ترقی یافتہ اقوام تھیں مثلا علاقہ احقاف میں عاد کے آثار ہیں ، اور علاقہ حجر میں وقم ثمور کے آثار ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ یعنی وہ “ زرع محصور ” کی طرح ہیں کہ فصل کٹ جانے کے بعد زمین چٹیل رہ گئی ہے ، مثلاً قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) جن کے آثار بھی غائب ہیں۔
اقوام اور گروہوں کی حیثیت کی کیا ہے ، کبھی ہم نے غور کیا ہے ؟ دراصل وہ بھی انسانوں کی فصلیں ہیں ، بوئی جاتی ہیں ، بری ہوتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور بعض بری ہوتی ہیں ، بعض فصلیں بڑھتی ہیں اور بعض گھٹتے گھٹتے مرجاتی ہیں۔
وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ (11 : 101) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ ” انہوں نے اپنے فہم و ادارت کے ذرائع کو معطل کردیا تھا۔ ہدایت سے منہ موڑ لیا تھا ، اللہ کی آیات و معجزات کی تکذیب کردی تھی اور ان کو جن باتوں سے ڈرایا گیا تھا اس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا تھا ، لہذا وہ مظلوم نہ تھے بلکہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (11 : 101) “ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سواء انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ”
ان قصص کے لانے کی یہ ایک دوسری غرض ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی اس بات سے ہوا تھا کہ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد قصص رسل میں تمام رسولوں نے لوگوں کو باری باری بےانجام سے ڈرایا۔ تمام رسولوں نے لوگوں کو کہا کہ تم نے جن خود ساختہ الہوں کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ، وہ تمہیں نہیں بچا سکتے چناچہ تمام قصص کا یہ خلاصہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور جب اللہ کا حکم آئے گا اور قیامت برپا ہوگی تو وہاں یہ الہ کسی بھی پیروکار کو عذاب سے نہ بچا سکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے خسارہ اور بربادی ہوگی (یہاں لفظ تتبیب استعمال ہوا ہے۔ جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سخت بربادی کا اظہار کرتا ہے) یہ بربادی زیادہ اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے ان جھوٹے خداؤں پر اندھا اعتماد کیا اور اس وجہ سے یہ اعراض اور تکذیب میں آگے بڑھ گئے اس وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے یہ الہ تو جس طرح نفع نہیں دے سکتے تھے اسی طرح نقصان بھی نہ دے سکتے تھے لیکن اس اندھے اعتماد کی وجہ سے خسارہ بڑھ گیا۔
وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ (11 : 102) “ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ ” (اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قصص میں بیان ہوا ، جس طرح اقوام ملل کو تباہ اور ہلاک کیا گیا ، جب انہوں نے ظلم کیا۔ ظالم سے مراد مشرکہ ہے یعنی جب وہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت سے رو گردانی کر کے کسی اور کو رب اور حاکم بنا لیتی ہیں اس طرح وہ اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں کیونکہ شرک و فساد میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کی مستحق بنتی ہیں ایسی اقوام شرک کی وجہ سے دعوت توحید دعوت اصلاح سے محروم ہوجاتی ہیں اور اس طرح زمین ظلم و فساد سے بھر جاتی ہے۔
إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (11 : 102) “ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔ ” یہ سزائے شدید اللہ تعالیٰ مہلت کے بعد دیتا ہے جب لوگ خوب عیاشی کرلیتے ہیں ، یوں وہ ابتلاء میں پڑجاتے ہیں۔ پھر ان کے عذرات بھی غتم ہوجاتے ہیں ، اس لیے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ پھر جب ان اقوام میں ظلم کا دور دورہ ہوتا ہے اور مظلوموں پر ظالموں کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ دعوت حق دینے والے مصلحین نہایت ہی قلیل اور بےاثر رہ جاتے ہیں اور ظالموں کے آگے ان کی ایک نہیں چلتی۔ کیونکہ وہ ظلم میں بہت آگے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان ان ظالموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں جو ظلم میں بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اہل ایمان پھر اپنے آپ ہی کو امت سمجھتے ہیں ، اپنے دین اور اپنے رب کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا اپنا قائد ہوتا ہے اور اپنے روابط ہوتے ہیں اور امت ظالمہ کو وہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدرتی انجام تک پہنچ جائے اللہ کی اس سنت کے مطابق جو اس نے اس کائنات کے لیے تجویز کر رکھی ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے ۔
یہ دنیاوی پکڑ دراصل آخرت کے لیے ایک علامتی سزا ہوتی ہے اور جو لوگ عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں وہ اس پکڑ سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ نے بہرحال یہ بصیرت دے دی ہوتی ہے کہ جو خدا دنیا میں اس قدر شدید عذاب کسی قوم کو دے سکتا ہے وہ آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دے سکتا ہے ، اس لیے وہ ڈرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید انسان کو اچانک دنیا کے مناظرے قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ وہ دنیا کے مناظر کے بعد اچانک آخرت کا منظر پیش کردیتا ہے۔
دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔
لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں جو عبرت انگیز حالات پیش آتے ہیں وہ ان سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔
اب بتایا جاتا ہے کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟
ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103 : 11) “ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ”
یہ ایک منظر ہے جس میں سب لوگ جمع کردیئے جائیں گے ، اس اکٹھ میں ان کے اپنے ارادے کا کوئی دخل نہ ہوگا بلکہ اس نظر آنے والے منظر میں ان کو چلا کر لایا جائے گا ، تمام کے تمام لوگ یکجا حاضر ہوں گے اور سب کی سب انجام کے منتظر ہوں گے۔
يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ (105 : 11) “ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی ، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ ” سب لوگوں پر ہیبت طاری ہوگی اور خوفناک سکوت کا ماحول ہوگا ، لوگ سہمے ہوں گے ، وہاں بات اجازت سے ہوگی مگر اجازت طلب کرنا کارے دارد۔ یہ اللہ ہی ہوگا جو کسی کو اجازت دے دے ، تو کچھ عرض کی جاسکتے گی۔
اب لوگوں کو ان کے انجام کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا :
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (11 : 105) “ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ ” انداز تعبیر ایسا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ بدبختی کا شکار ہوئے وہ دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کی سانس پھولی ہوئی ہے اور ہانپ رہے ہیں اور پھنکارے مار رہے ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ جنت میں ہیں وہ بھی نظر آتے ہیں اور ان کے لیے ایسے عطیات ہیں جو دائمی ہیں اور ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔