یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔
فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌوہ لوگ درد اور کرب کی وجہ سے چیخ و پکار کریں گے اور پھنکارے ماریں گے۔
عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے (النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ01208) 6۔ الانعام :128) میں ہے۔ اس استثنا کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔