سورہ ہود: آیت 108 - ۞ وأما الذين سعدوا ففي... - اردو

آیت 108 کی تفسیر, سورہ ہود

۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ

اردو ترجمہ

رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waamma allatheena suAAidoo fafee aljannati khalideena feeha ma damati alssamawatu waalardu illa ma shaa rabbuka AAataan ghayra majthoothin

آیت 108 کی تفسیر

عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ان آیات میں جنت اور جہنم کا جو موازنہ کیا گیا ہے اس میں جنت کے لیے عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ کے الفاظ اضافی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے لفظی فرق و تفاوت کا جب علماء و مفسرین باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو ان سے بڑے بڑے فلسفیانہ نکات پیدا ہوتے ہیں۔ چناچہ جنت اور جہنم کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ اور شیخ ابن عربی دونوں نے ایک رائے پیش کی ہے جو اہل سنت کے عام اجماعی عقیدے سے مختلف ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے درمیان اگرچہ بڑا نظریاتی بعد ہے امام ابن تیمیہ بعض اوقات شیخ محی الدین ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں مگر اس رائے میں دونوں کا اتفاق ہے کہ جنت تو ابدی ہے مگر جہنم ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا ‘ چاہے وہ ارب ہا سال کے بعد آئے ‘ جب جہنم ختم کردی جائے گی۔ اس کے برعکس اہل سنت کا اجماعی عقیدہ یہی ہے کہ جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں۔ واللہ اعلم !

انبیاء کے فرماں بردار اور جنت رسولوں کے تابعدار جنت میں رہیں گے۔ جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ زمین و آسمان کی بقا تک ان کی بھی جنت میں بقا رہے گی مگر جو اللہ چاہے یعنی یہ بات بذاتہ واجب نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور اسکے ارادے پر ہے بقول ضحاک و حسن یہ بھی موحد گنہگاروں کے حق میں ہے وہ کچھ مدت جہنم میں گزار کر اس کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے یہ عطیہ ربانی ہے جو ختم نہ ہوگا۔ نہ گھٹے گا یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں ذکر مشیت سے یہ کھٹکا نہ گزرے کہ ہمیشگی نہیں۔ جیسے کہ دوزخیوں کے دوام کے بعد بھی اپنی مشیت اور ارادے کی طرف رجوع کیا ہے۔ سب اس کی حکمت و عدل ہے وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جس کا ارادہ کرے۔ بخاری و مسلم میں ہے موت کو چت کبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا۔ پھر فرما دیا جائے گا کہ اہل جنت تم ہمیشہ رہو گے اور موت نہیں اور جہنم والوں تمہارے لیے ہمیشگی ہے موت نہیں۔

آیت 108 - سورہ ہود: (۞ وأما الذين سعدوا ففي الجنة خالدين فيها ما دامت السماوات والأرض إلا ما شاء ربك ۖ عطاء غير مجذوذ...) - اردو