آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔
فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (109 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ”
لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔
وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (11 : 109) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔
مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ یہ تو بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔
مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔