اس صفحہ میں سورہ Hud کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ هود کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍ
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ
وَإِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ
وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔
فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (109 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ”
لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔
وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (11 : 109) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيه (110 : 11) “ ہم اس سے پہلے موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) ”
قوم موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنی کتاب کے بارے میں بہت سے اختلافات کیے ، ان کے اعتقادات کیا سے کیا بن گئے اور وہ فرقے فرقے بن گئے۔ لیکن اللہ کی طرف سے حکم یہ تھا کہ ان کو تباہ نہ کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب قیامت کے دن لیا جائے۔
وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (110 : 11) “ اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصہل چکا دیا گیا ہوتا۔ ”
اور اللہ کے اس کلمے اور فیصلے سے بھی پہلے اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ بنی اسرائیل کے مقدمے کو قیامت تک موخر کردیا جائے کیونکہ بنی اسرائیل اہل کتاب تھے اور تمام ایسے رسول جو اہل کتاب تھے ، ان کی امتوں کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی۔ کیونکہ کتاب اس بات پر دلیل تھی کہ ہدایت باقی ہے اور بعد کی نسلیں بھی ان پر اس طرح غور کرسکتی ہیں جس طرح انہوں نے غور کیا جن کی طرف نازل ہوئی تھی اور مادی معجزات اور خارق عادت امور کا معاملہ بالکل مختلف ہے کو ین کہ مادی معجزات کو صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے سامنے وہ معجزات ظاہر ہوئے لوگوں کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں یا تو ایمان لائیں اور یا پھر ہلاکت کے لیے تیار ہوجائیں۔ تورات اور انجیل دو مستقل کتابیں تھیں جو نزول قرآن تک لوگوں کے سامنے موجود تھیں۔ یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوا۔ قرآن کریم نے تورات و انجیل کی تصدیق کی اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ اب آخری کتاب ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اب قیامت میں تمام انسانوں کا حساب و کتاب قرآنی احکام کی اساس پر ہوگا۔
وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110 : 11) “ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔ ” سے مراد یہ ہے کہ قوم موسیٰ اس کتاب کے بارے میں سخت خلجان میں ہے کیونکہ یہ کتاب موسیٰ ٰ (علیہ السلام) سے صدیوں بعد لکھی گئی اور اس کی آیات و مضامین کے بارے میں روایات میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا ، لہذا یہ کتاب قابل یقین نہ رہی۔
یہ درست ہے کہ عذاب موخر کردیا گیا ہے ، لیکن قیامت میں سب کو ان کے اعمال کی جزاء و سزا دی جائے گی اور یہ سزا ان لوگوں کو علیم وخبر دے گا جو ہر گز کسی چیز کو ضائع نہیں کرتا۔
وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (11 : 111) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ”
اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔
یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت تحریک اسلامی کے حالات واقعات یہ تھے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر ایک معاند قوت کی طرح کھڑے تھے ، وہ رسول اللہ کے راستے کو ہر طرف سے روک رہے تھے ، مسلمان قلیل تعداد میں تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے ، دعوت کا پھیلاؤ تقریبا منجمد ہوگیا تھا اور خدا کی طرف سے عذاب کا آنا بھی قیامت تک ملتوی ہوگیا تھا۔ مومنین کو ہر طرح کی اذیت دی جا رہی تھی اور ان کے دشمن بظاہر کامیاب جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بعض کمزور قسم کے دل متزلزل ہو سکتے تھے نیز ثابت قدم لوگ بھی بہرحال پریشانی کا شکار ہو سکتے تھے ، لہذا تحریک اسلامی کو اس قسم کی تسلی اور ہمت بندھانے کی ضرورت تھی ، اس سے زیادہ مسلمانوں کے دل کسی اور چیز سے حوصلہ نہیں پاتے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن بتلا دے اور یہ اعلان کر دے کہ بلا شک و بلا ریب و باطل پر ہیں۔ معرکے میں حصہ لیتا ہے اور کس طرح صحابہ کرام کو موقع بموقع نشانات راہ بتلاتا جاتا ہے۔
یہ تاکیدی بیان کہ اللہ کے دشمنوں کا یہ انجام ہو کر رہے گا ، نفس کے اندر قدرتی طور پر یہ بات بٹھاتا ہے کہ سنت الہیہ اس کی مخلوق میں جاری وساری ہے اس کا دین بھی اس کی سنت کے مطابق غالب ہوگا اس کا وعدہ بھی اور اس کی دھمکی بھی سنت الہیہ کے مطابق روبعمل ہوگی ، لہذا جو لوگ اس دین کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس دین کی دعوت دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مسنون طریقے کے مطابق دعوت دیتے رہیں جس طرح کہ ان کو حکم دیا گیا ہے ، نہ اس میں کمی کریں ، نہ اس میں زیادتی کریں نہ ظالموں کے سامنے جھکیں ، اگر چہ وہ جبار ہوں ، وہ غیر اللہ کے دین کو قبول نہ کریں ، اگر چہ راستہ طویل ہوجائے ، وہ مشکلات راہ کے لیے تیاریاں کریں اور اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ وہ کام نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے۔
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ”
اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔
وَلا تَطْغَوْا (112 : 11) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔
إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11 : 112) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر ﷺ تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔
وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (113 : 11) “ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ ” یعنی ظالموں پر بھروسہ نہ کرو اور نہ ان کی جانب سے کسی قسم کا اطمینان کرو ، ظالموں سے مراد وہ جبار وقہار اور سرکش لوگ ہیں جو زمین پر اپنے مظالم کی بنیاد پر اپنی برتری قائم کرتے ہیں اور عوام الناس سے خدا کے مقابلے میں اپنی بندگی کراتے ہیں ان پر بھروسہ بھی نہ کرو اور ان کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم ان کی جانب سے اسی طرح غیر جانبدار اطمینان و بھروسے کا اظہار کرو گے تو تم گویا بالواسطہ ان ظالمانہ کاروائیوں میں ان کے موید ہو گے اور اس طرح اس عظیم جرم میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم آگ کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (11 : 113) “ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ ” ایسے مشکل حالات میں جن سے اس وقت تحریک اسلامی کے مٹھی بھر پیروکار گزر رہے تھے ، سیدھی راہ پر جم جانا فی الواقعہ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور اس کے لیے روحانی زادراہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو اخلاقی اور روحانی تربیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے اس زاد راہ کی نشاندہی فرماتا ہے :
وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11 : 114) “ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے رپ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ ”
اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وہ زاد سفر ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب تمام زاد سفر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ روحانی وقت کا زاد سفر ہے اور یہ انسان کو ایسی قوت دیتا ہے جو عظیم تر مشکلات کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے یہ زاد راہ معراج المومنین ہے اور یہ اہل ایمان کو رب کریم اور رحیم و ودود سے ملاتا ہے جو قریب ہے اور تمام پکاروں کو خوب سنتا ہے اور جب مومن تنہا ہوتا ہے اور پریشان ہوتا ہے تو ایسے حالات میں یہ زاد راہ اس انس و محبت کی باد نسیم چلاتا ہے اور اس طرح اس پر جاہلیت اور کفر کی گٹھن فضا میں قدر کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔
آیت میں دن کے دو سروں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی اول اور آخر اور پھر است کے قریب وقت کا۔ اس میں تمام کے تمام اوقات آگئے ۔ اگر نمازوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوا ، تعداد کا تعین بہرحال سنت رسول سے ہوا ہے اور نیز متعین اوقات کا تعین بھی سنت سے ہوا ہے۔
اس آیت میں نماز کی اقامت کے حکم ، یعنی پوری پوری ادائیگی کے حکم کے بعد یہ حکم آیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ عام آیت ہے اس سے تمام نیکیاں مراد ہیں اور نماز بہرحال عظیم ترین نیکی ہے لہذا یہ بھی اس آیت میں شامل ہے بہرحال “ المحسنات ” نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے۔
ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (11 : 114) “ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ ” نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے ذکر الہی ہے۔ اس لیے یہ صفت نہایت ہی مناسب ہے۔
استقامت انسان تب ہی اختیار کرسکتا ہے جب اس میں مشکلات پر صبر کرنے کا حوصلہ ہو ، نیز اللہ کی سنت کے مطابق منکرین کے انجام بد سے دو چار ہونے کے لیے ایک مہلت ہوتی ہے اور اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ اتنظار بھی صبر کا محتاج ہے لہذا استقامت اور تمام پچھلی ہدایات پر کامیابی سے عمل پیرا ہونے کے لیے حکم دیا جاتا ہے کہ صبر کرو۔
وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (11 : 115) “ اور صبر کر ، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ” اللہ کی راہ میں استقامت احسان ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا بھی احسان ہے ، جھٹلانے والوں کی طرف سے جھٹلانے پر صبر کرنا بھی احسان ہے اللہ محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
اقوام وملل کی ہلاکت اور بستیوں کی بربادی پر جو تبصرہ کیا گیا اس کی تکمیل کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ان بستیوں میں اہل خیر موجود ہوتے اور وہ نہی عن المنکر اور زمین سے فتنہ و فساد کے دور کرنے کی سعی جاری رکھتے اور زمین سے ظلم مٹانے کی سعی کرتے اور دست درازی کرنے والوں کے ہاتھ روکتے تو ان بستیوں اور قوموں پر ایسا عذاب نازل نہ ہوتا جس نے ان کو چڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ بستیوں پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ صالح ہوں اور مصلح ہوں۔ یعنی خود بھی نیک ہوں اور بقدر طاقت لوگوں کو نیک بنانے میں بھی مصروف ہوں ، ہاں ان ہلاک شدہ بستیوں میں بھی اہل ایمان کی ایک قلیل تعداد موجود تھی لیکن ان کے پاس بقدر ضرورت قوت اور اثر نہ تھا۔ اس لیے اللہ نے ان کو نجات دے دی ، اکثریت چونکہ مترفین اور مفسدین کی تھی اور دوسرے لوگ ان کے تابع تھے اس لیے اللہ نے پوری کی پوری بستیوں کو ہلاک کردیا۔
یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔
لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔
آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف