سورہ ہود: آیت 112 - فاستقم كما أمرت ومن تاب... - اردو

آیت 112 کی تفسیر, سورہ ہود

فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اردو ترجمہ

پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faistaqim kama omirta waman taba maAAaka wala tatghaw innahu bima taAAmaloona baseerun

آیت 112 کی تفسیر

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ”

اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔

وَلا تَطْغَوْا (112 : 11) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔

إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11 : 112) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر ﷺ تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔

آیت 112 فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔وَلاَ تَطْغَوْاتجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آجائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌاللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر وثواب ملے گا اور ان لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی سزاملے گی۔

استقامت کی ہدایت استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پروردگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے ؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔

آیت 112 - سورہ ہود: (فاستقم كما أمرت ومن تاب معك ولا تطغوا ۚ إنه بما تعملون بصير...) - اردو