حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (88 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔
وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (88 : 11) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ” میں خود بھی مالدار ہوں اور اپنی دولت میں تمہاری طرف تصرفات کرتا ہوں۔
وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (88 : 11) “ اور میں یہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ ” یعنی میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس بری حرکت سے تمہیں تو روک دوں اور دکان میں جا کر خود یہ کام کروں اور دولت کماؤں ، ہر گز نہیں بلکہ
إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ “ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تم بھی میرا بس چلے۔ ”
اصلاح سے مراد عام اصلاح ہے جس میں پورے معاشرے کی بھلائی ہو ، معاشرے کے تمام افراد اور تمام جماعتوں کی بھلائی ہو۔ اگرچہ بعض لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے سے مادی لحاظ سے نقصان پہنچتا ہے اور انسان سے نفع اندوزی کے مواقع جاتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ صرف حرام اور خبیث اور ناپاک دولت کے سمیٹنے سے بچ نکلتا ہے۔ بلکہ حرام اور ناپاک کمائی کی جگہ رزق حلال اسے ملتا ہے اور اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام لوگوں کی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے اور جس کے اندر کوئی تعصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی جنگ وجدال ہوتا ہے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ (88 : 11) “ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ ” وہی ہے جو میرے اصلاحی کام کو کامیابی تک پہنچا سکتا ہے ، کیونکہ اسے خوب علم ہے کہ میری نیت اور میرا ارادہ کیا ہے اور وہی ہے جو اس جدوجہد پر مجھے جزاء دے سکتا ہے۔
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (88 : 11) “ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ ” یعنی میرا اعتماد صرف پر ہے اور اس کے سوا کسی اور پر میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔
وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88 : 11) “ اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ” میرا رخ اسی کی طرف ہے اور تمام امور میں میرا رجوع اسی کی صرف ہے۔ میری نیت ، میرا ارادہ اور میرا عمل اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اور تمام جدوجہد اس کے لیے ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ایک دوسرے میدان میں فہمائش کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ذرا قوم نوح۔ قوم ہود ، قوم صالح اور قوم لوط کے انجام پر غور کرو۔ تاریخی واقعات کند ذہن افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جامد اور سنگدل لوگوں پر عقلی دلائل کے مقابلے میں واقعات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
آیت 88 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ حضرت شعیب نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘ میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًایعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ میرا مقصد تم لوگوں کی اصلاح ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں وہ اللہ کی توفیق ہی سے کر رہا ہوں۔ اسی نے مجھے ہمت اور استقامت سے نوازا ہے۔
قوم کو تبلیغ آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔ اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ یعنی نبوت یا رزق حلال یا دونوں، میری روش تم یہ نہ پاؤ گے کہ تمہیں تو بھلی بات کا حکم کروں اور خود تم سے چھپ کر اس کے برعکس کروں۔ میری مراد تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرنی ہے۔ ہاں میرے ارادہ کی کامیابی اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ اور توکل ہے اور اسی کی جانب رجوع توجہ اور جھکنا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے راویت کرتے ہیں کہ اس کے بھائی مالک نے کہا کہ اے معاویہ رسول اللہ ﷺ نے میرے پڑوسیوں کو گرفتار کر رکھا ہے، تم آپ ﷺ کے پاس جاؤ۔ آپ ﷺ سے تمہاری بات چیت بھی ہوچکی ہے اور تمہیں آپ ﷺ پہچانتے بھی ہیں۔ پس میں اس کے ساتھ چلا۔ اس نے کہا کہ میرے پڑوسیوں کو آپ ﷺ رہا کر دیجئے وہ مسلمان ہوچکے تھے۔ آپ نے اس سے منہ پھر لیا۔ وہ غضب ناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا واللہ اگر آپ نے ایسا جواب دیا تو لوگ کہیں گے کہ آپ ہمیں تو پڑوسیوں کے بارے میں اور حکم دیتے ہیں اور آپ خود اس کے خلاف کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے ایسی بات زبان سے نکالی ہے ؟ اگر میں ایسا کروں تو اس کا وبال مجھ پر ہی ہے ان پر تو نہیں۔ جاؤ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ اور روایت میں ہے کہ اس کی قوم کے چند لوگ کسی شبہ میں گرفتار تھے۔ اس پر قوم کا ایک آدمی خاص حاضر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ فرما رہے تھے۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی چیز سے اوروں کو روکتے ہیں اور خود اسے کرتے ہیں۔ آپ نے سمجھا نہیں۔ اس لیے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں حضرت بہزبن حکیم کے دادا کہتے ہیں میں نے بیچ میں بولنا شروع کردیا کہ اچھا ہے آپ کے کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے منہ سے میری قوم کے لیے کوئی بد دعا نکل جائے کہ پھر انہیں فلاح نہ ملے لیکن رسول اللہ ﷺ برابر اسی کوشش میں رہے یہاں تک کہ آپ نے اس کی بات سمجھ لی اور فرمانے لگے کیا انہوں نے ایسی بات زبان سے نکالی ؟ یا ان میں سے کوئی اس کا قائل ہے ؟ واللہ اگر میں ایسا کروں تو اس کا بوجھ بار میرے ذمے ہے ان پر کچھ نہیں۔ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ اسی قبیل سے وہ حدیث بھی ہے جسے مسند احمد لائے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میری جانب سے کوئی ایسی حدیث سنو کہ تمہارے دل اس کا انکار کریں اور تمہارے بدن اور بال اس سے علیحدگی کریں یعنی متاثر نہ ہوں اور تم سمجھ لو کہ وہ تم سے بہت دور ہے تو میں اس سے اس سے بھی زیادہ دور ہوں۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ حضرت مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی کیا آپ بالوں میں جوڑ لگانے کو منع کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا آپ کے گھر کی بعض عورتیں تو ایسا کرتی ہیں آپ نے فرمایا اگر ایسا ہو تو میں نے اللہ کے نیک بندے کی وصیت کی حفاظت نہیں کی۔ میرا ارادہ نہیں کہ جس چیز سے تمہیں روکوں اس کے برعکس خود کروں۔ حضرت ابو سلیمان ضبی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز کے رسالے آتے تھے جن میں اوامر ونواہی لکھے ہوئے ہوتے تھے اور آخر میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ میں بھی اس میں ہی ہوں جو اللہ کے نیک بندے نے فرمایا کہ میری توفیق اللہ ہی کے فضل سے ہے۔ اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔