اس صفحہ میں سورہ Hud کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ هود کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أُو۟لَٰٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
۞ مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَمِّ وَٱلْبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ
فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَٰذِبِينَ
قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَٰرِهُونَ
(اولئک) یہ لوگ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور جو اللہ کے نزدیک قابل ملامت اور لعنت ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ " ان کی یہ تمام تدبیریں اللہ کو عاجز کرنے والی نہیں ہیں۔ لہذا اللہ جس وقت بھی چاہے ان پر اپنا عذاب نازل کرسکتا ہے اور خود اس دنیا میں بھی "
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ " نہ اللہ کے مقابلے میں ان کا کوئی حامی تھا " جو ان کو اللہ سے بچا سکتا یا اللہ کے مقابلے میں ان کی نصرت کرسکتا۔ لیکن اللہ نے ان لوگوں کو اخروی عذاب کے لیے یہاں مہلت دے دی ہے تاکہ وہاں ان کو دنیا اور آخرت دونوں کا عذاب دیا جائے۔
يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ " انہیں اب دہرا عذاب دیا جائے گا " اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لیا جن کے ذریعے وہ حقیقت کا ادراک کرسکتے تھے۔ انہوں نے زبردستی اپنی آنکھوں کو بند رکھا۔ وہ اس طرح تھے جیسے وہ نہ سن سکتے ہوں اور نہ دیکھ سکتے ہوں۔
مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ " وہ نہ کسی کی سن سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا "
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ " یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا " یہ بہت ہی عظیم اور تباہ کن خسارہ ہے ، اس لیے کہ اس کاروبار میں جو شخص خسارہ اٹھائے کوئی دوسرا شخص اس کی امداد نہیں کرسکتا۔ اس قسم کے لوگوں نے خسارہ اٹھا کر اپنی دنیا میں بھی ضائع کردی ، یہاں انہوں نے اپنے انسانی شرف کو بھی گنوایا۔ کیونکہ انسان کو یہاں شرف صرف اسلامی نظام زندگی کے ذریعے مل سکتا ہے اور انہوں نے آخرت بھی گنوا دی کیونکہ انہوں نے آخرت کا انکار کیا جس کی وجہ سے اخروی عذاب ان کے انتظار میں ہے۔
وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ " اور وہ سب کچھ ان سے کھو گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا " دنیا میں انہوں نے جھوٹے خدا بنا رکھے تھے وہ سب غائب۔ اب کوئی بھی کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ سب ناپید اور گم ہوگئے۔
لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ " ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں گے " اس قدر خسارے میں کہ دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا۔
اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے ، اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے امن ، قرار اور رضا کی کیفیت مل جاتی ہے۔
اب دونوں پر تبصرہ دیکھیے (اگلی آیت میں)
یہ ایک حسی تصویر کشی ہے جس کے اندر دونوں فریقوں کو مجسم طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ پہلا فریق ایک نابینا کی طرح جو کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا ، بہرے کی طرح ہے جو کچھ سن نہیں سکتا۔ جس کے قوائے مدرکہ معطل ہیں اور وہ علی امفاہیم کے ادراک سے عاجز ہے۔ چونکہ اس کے اعضائے مدرکہ کام نہیں کرتے اس لیے وہ گویا ان اعضا ہی سے محروم ہے جبکہ دوسرا فریق ان سے کام لیتا ہے اور سمیع وبصیر ہے اور ان قوتوں سے اس کی عقل استفادہ کرتی ہے۔
اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ آخری میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ دونوں قسم کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ جواب کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
بلکہ دوسرا سوال کردیا جاتا ہے کہ کیا تم لوگ اس مثال سے سبق نہیں لیتے اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ اس لیے کہ بات اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی گہرے غور و فکر کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔
درس نمبر 100 ایک نظر میں
قصص انبیاء اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ لیکن ، اصل مقصود بذات خود قصہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت ہے جسے ان قصص کے ذریعے ثابت کیا جا رہا ہے اور سورت کے آغاز میں مجملاً اس کا تذکرہ کردیا گیا ہے : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ (3)إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (4): " ال ر۔ فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں ، اور بشارت دینے والا بھی۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ "
سورت کے آغاز میں ان حقائق کے بارے میں متعدد اور مکرر بار تبصرہ ہوچکا ہے۔ زمین اور آسمان کے نظام ، انسانی نفس کی تخلیق اور حشر کے میدان کے مکالموں کے ذریعے ان حقائق کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب یہاں کرہ ارض کے اطراف و اکناف میں بسنے والے انسانوں اور ان کی تاریخ کے حوالے سے ان حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کی یہ کشمکش ایک تاریخی کشمکش ہے۔ اور ابتدائے آفرینش سے یونہی چلی آرہی ہے۔
یہ قصص اس سورت میں قدرے تفصیل سے آئے ہیں ، خصوصاً حضرت نوح کا قصہ طوفان۔ اس میں وہی نظریاتی کشمکش ہے جس کا سورت کے آغاز میں ذکر ہوا۔ اور وہی حقائق اس میں موضوع جدال ہیں جن کو لے کر ہر دور میں ہر رسول آیا ہے۔ گویا موجود مکذبین بھی وہی ہیں جو حضرت نوح سے ادھر تکذیب کرتے آئے ہیں۔ ان کا مزاج ایک ہے ، ان کی سوچ ایک جیسی ہے اور پوری تاریخ انسانی میں جس طرح رسولوں کی دعوت ایک ہے ، مکذبین کا جواب بھی ایک ہے۔ اس سورت کے قصے تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں۔ آغاز حضرت نوح سے ہوتا ہے ، پھر حضرت ہود ، پھر حضرت صالح ، کچھ اشارہ حضرت ابراہیم کی طرف اور پھر بحث حضرت لوط کی طرف چلی جاتی ہے ، پھر حضرت شعیب اور پھر حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھ جاتی ہے اور تاریخی ترتیب کو اس لیے یہاں بحال رکھا ہے کہ مقصد پچھلوں کو اگلوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ پوری انسانی تاریخ کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔
قصہ نوح تاریخی اعتبار سے بھی مقدم ہے ، سورت میں بھی مقدم ہے تو لیجییے قصہ نوح علیہ السلام۔
۔۔۔
درس نمبر 100 تشریح آیات 25 تا 49
۔۔۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ : (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔
یہ وہی الفاظ ہیں جو آغاز سورت میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور آپ کے پیغام کے بارے میں کہے گئے ہیں کہ یہ کتاب ہے جس کی آیات پختہ ہیں اور مفصل ہیں اور ایک حکیم اور خبردار ذات کی طرف سے ہیں اور میں اس کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوں۔ دعوت کے مفہوم اور مقصد کو ایک ہی جیسے الفاظ میں ادا کرنے سے یہ ثابت کرنا مطلوب ہے کہ تمام انبیاء کا مشن اور ان کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ ان کے نظریات ایک ہی رہے ہیں ، اسی وجہ سے انداز تعبیر بھی ایک ہی جیسا اختیار کیا گیا ہے ، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہاں حضرت نوح کے اپنے الفاظ کو نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کے مفہوم کو عربی میں ادا کیا گیا ہے اور یہی راجح مذہب ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حضرت نوح کی زبان کیا تھی ؟
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: " (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں "۔
یہاں متن قرآن میں لفظ " اس نے کہا " نہیں لایا گیا۔ ایک تو اس لیے کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ گویا حضرت نوح ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ایک زندہ اور چلتا پھرتا منظر ہمارے سامنے ہے اور آپ تقریر فرما رہے ہیں اور ہم سن رہے ہیں۔ اس لیے ماضی کا بیانی اور حکایتی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ یہاں فریضہ رسالت کو نہایت ہی مختصر الفاظ میں اور مخصتر مفہوم میں بتا دیا گیا ہے کہ " میں تم کو صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں " یہ انداز سامعین کے وجدان میں مقاصد رسالت کو اچھی طرح ذہن نشین کردیتا ہے "
اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ " کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو "۔ یہ اہداف رسالت کا تعین ہے کہ پیغمبر تمہارے سامنے صرف یہ ابتدائی حقیقت پیش کرتا ہے اور اگر اسے تسلیم نہ کیا گیا تو عذاب الہی آنے کا اندیشہ ہے۔
اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ " ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا "۔ رسالت اور ڈراوے کی یہ اساسی حقیقتیں ہیں کہ میں تمہیں اس ہلاکت سے ڈراتا ہوں ، اور بس اور ان ہی مختصر کلمات میں رسالت کے تمام اہداف کو مختصراً قلم بند کردیا جتا ہے۔
يَوْمٍ اَلِيْمٍ ۔ دن دردناک نہیں ہے۔ الیم سے مراد مولم ہے۔ الیم بمعنی مالوم ہے۔ در اصل اس دن لوگ مالوم ہوں گے۔ لیکن زیادہ مبالغے کے لیے یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا ہے کہ اس دن وقت بھی درد کو محسوس کرے گا۔ دن بھی اس روز کے شدائد کو محسوس کرے گا۔ اس سے لوگوں کے حالات کا انداز کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر دردناک ہوں گے۔
یہ ہے اونچے طبقات کے مستکبرین کا جواب ، جو کسی بھی سوسائٹی کے صدر نشین ہوتے ہیں۔ اور یہی جواب حضور ﷺ کو بھی آپ کی قوم قریش کے مستکبرین نے دیا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے ، ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں اور ہماری قوم کے کم درجے کے لوگوں نے بغیر سوچے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا ہے اس لیے کہ عوام الناس گہری سوچ نہ رکھتے۔ آخر تمہیں ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہین۔
وہی شبہات ، وہی الزامات ، وہی تکبر و غرور ، اور وہی جہالت اور کم فہمی جو قوم نوح نے اختیار کی اور یہ لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔
انسانوں میں ہمیشہ یہ جہالت پائی جاتی رہی ہے کہ انسان حامل رسالت نہیں ہوسکتا اور اگر کسی انسان کو منصب رسالت عطا ہوسکتا ہے تو پھر یہ منصب کسی بادشاہ یا اس سے بھی کسی برتر مخلوق کو دیا جانا چاہئے۔ یہ ایک نہایت ہی جاہلانہ اور احمقانہ تصور ہے کہ وہ انسان جسے اللہ نے اس کرہ ارض پر خلافت عطا کی ، اور جس کو خلافت ارضی کی بھاری ذمہ داری سپرد کی گئی ہے وہ منصب رسالت کا اہل نہیں ہے کیونکہ مصب خلافت ارضی بھی تو ایک عظیم منصب ہے ، اور ظاہر ہے کہ انسان کے اندر اللہ نے ایسی صلاحیتیں ودیعت کی ہوں گی جن کے ذریعے وہ اسے ادا کرسکے۔ لہذا اللہ تعالیٰ جنس انسانی میں سے بعض افراد کو اس سے بھی بڑی صلاحیت عطا کرسکتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے منصب رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اپنی مخلوق میں سے اللہ جسے چاہے یہ ذمہ داریاں عطا کردے۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے کس ذات کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے تاکہ اس کے اندر یہ منصب بھی رکھ دے۔
دوسری غلط فہمی انسانوں کو ہمیشہ یہ لاحق رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو یہ منصب عطا بھی کرتا ہے تو یہ منصب ان بڑوں اور مالداروں کا حق ہے ، کیونکہ وہ پہلے سے اپنی قوم پر مسلط ہیں اور ایک بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ یہ درحقیقت ان اقدار سے لا علمی ہے جو اللہ نے اس مخلوق انسانی کے لیے محترم گردانی ہیں اور جن کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ہوا ہے اور پھر ان میں سے مزید اونچے مرتبے والے لوگ منصب رسالت کے اہل گردانے گئے ہیں۔ ان اقدار کا تعلق مال اور مرتبے اور زمین پر قوت سے نہٰں ہے۔ ان کا تعلق نفس انسانی سے ہے اور یہ کہ کوئی نفس آیا اپنے اندر وہ مخصوص قوت رکھتا ہے جو عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے۔ اس رابطے کے لیے مال و دولت اور عزت مرتبے کی نہیں بلکہ خاص روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس امانت کبری اور منصب دعوت اور اقدار کو قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہوں۔ اور اس راہ میں مشکلات پر صبر کرنے کی صلاحیت بھی اس میں ہو۔ یعنی وہ صفات جو منصب نبوت کے لیے ضروری ہوں۔ ان صفات کا تعلق مال اور جاہ سے نہیں ہے اور نہ سوشل مقام و مرتبے سے ہے۔
لیکن اس کے برعکس حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اونچے طبقات کا خیال یہ تھا جیسا کہ ہر سوسائٹی کے اونچے طبقات یہ خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اونچے مرتبے کی وجہ سے اندھے ہوجاتے ہیں اور مقام نبوت کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا اور اگر ہوسکتا ہے ، تو پھر اس مقام کے وہ حقدار ہیں۔
مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا " ہماری نظر میں تو تم ہم جیسے انسان ہو " ایک تو یہ بات ہے اور دوسری یہ ہے کہ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ " اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروری اختیار کی ہے "
یہ لوگ غریبوں کو " اراذل " کے لفظ سے یاد کرتے ہیں اور ہمیشہ مستکبرین ان لوگوں کو رذیل سمجھتے ہیں جن کو دولت و اقتدار نصیب نہیں ہوتا۔ حالانکہ رسولوں اور اسلامی تحریکات میں ہمیشہ غریب اور سلیم الفطرت لوگ ہی سب سے پہلے دلچسپی لیتے ہیں اور اونچے لوگوں کے مقابلے میں وہ سچائی کو جلدی قبول کرتے ہیں۔ ان کے دل رب واحد کے ساتھ زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔ جو بلند اور قاہر ہے۔ اس لیے کہ مالداری ، عیاشی اور سرکشی نے ان کی فطرت کو بگاڑا نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے ہاں قبولیت حق کی راہ میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔ غریب لوگوں کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ اسلام قبول کرکے وہ اس چرائے ہوئے مقام کو گنوا دیں گے جو جمہور لوگوں کی غفلت اور نادانی کی وجہ سے انہوں نے حاصل کرلیا ہوتا ہے اور جمہور عوام کو بت پرستی اور شاہ پرستی میں مبتلا کردیا ہوتا ہے اور سب سے بڑی بت پرستی تو یہ ہوتی ہے کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے جیسے لوگوں کو بڑا بنا کر اور انہیں زمین کا اقتدار دے کر ان کا اتباع اور پرستش کریں۔ تمام رسولوں کی دعوت تو در اصل عوام الناس کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کی دعوت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے اس دعوت کا مقابلہ سوسائٹی کے اکابر کرتے ہیں ، اور جمہور عوام کو بھی یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اسے قبول نہ کیا جائے اور وہ پیغمبر کی دعوت کو للکارتے ہیں ، ان پر الزامات عائد کرتے ہیں اور لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔
ذرا ان لوگوں کے الفاظ پر تو غور کرو " ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذ تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے " ہم انہوں نے تمہاری دعوت پر غور و فکر نہیں کیا ہے۔ یہ ہے وہ الزام جو ہر دور میں سوسائٹی کے بلند اور با اثر طبقات اہل ایمان کی خلاف عائد کرتے ہیں ، یہ کہ یہ لوگ بھولے بھالے ہوتے ہیں اور ان میں غور و فکر نہیں ہوتا۔ اور بڑے لوگوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ عوام الناس کے پیچھے چلیں۔ اب چونکہ یہ مومن ہوگئے ہیں اس لیے ہم کیسے مومن ہو سکتے ہیں کیونکہ بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کے ایمان اور دعوت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں۔
وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ " اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو " اب یہ لوگ داعی اور متبعین دونوں کے خلاف ایک ہی تبصرہ کرتے ہیں ، کہ اہل ایمان کو ہمارے اوپر کوئی برتر حاصل نہیں ہے کہ تم لوگ زیادہ ہدایت یافتہ سمجھے جاؤ، یا تم لوگ ہمارے مقابلے میں زیادہ سچائی کے قریب ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ہم تم سے پہلے ہوتے۔ غرض وہ ہدایت کو بھی دنیا پرستی پر قیاس کرتے ہیں کہ دنیا پرستی کے معاملے میں ہم سے کوئی آگے نہیں ہے تو دین کے معاملے میں کیسے آگے ہوگیا۔ کیونکہ ہم معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہمارے پاس اقتدار ہے۔ لہذا اہل ثروت اور اہل اقتدار ہی افضل ہوسکتے ہیں۔ اور زیادہ سمجھدار ہوسکتے ہیں۔ جب کسی معاشرے سے عقیدہ توحید غائب ہوجاتا ہے تو اس معاشرے کی ذہنیت وہ بن جاتی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ جب بھی عقیدہ توحید ختم ہوا ، لوگ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے مختلف پہلوؤں سے بت پرستی اختیار کرلی۔ اگرچہ بظاہر ایسا معاشرہ نہایت سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ نظر آتا ہے لیکن در حقیقت یہ پوری انسانیت کی پسماندگی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسی سوسائٹی ان اقدار کی تحقیر کرتی ہے جن اقدار کی وجہ سے انسان ، انسان بنتا ہے۔ اور انہی کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ٹھہرا ہے اور انہی کی وجہ سے انسان کو عالم بالا سے منصب نبوت عطا ہوا۔ یہی وہ تصورات ہیں جن کی بنا پر انسان عالم بالا سے دور ہو کر خالص حیوانیت اور مادیت اور جسمانیت کے قریب چلا جاتا ہے۔
بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ " بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں " یہ وہ آخری الزام ہے جو وہ رسول اور آپ کے متبعین کے سر تھوپتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی وہ اپنی مستکبرانہ شان سے بات کرتے ہیں کہ " ہم یہ سمجھتے ہیں ہمیں یہ گمان ہے " یہ محتاط انداز گفتگو ہے جسے یہ مالدار طقبہ اپنایا کرتا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں ہر بات پر یقین کرلینا اور دو ٹوک بات کرنا ایک عامی بات ہے اور سطحی رائے والے نادان لوگ فوراً یقین کرلیتے ہیں۔ یہ تو بڑے لوگ ہیں جو مفکرانہ انداز میں تحفظ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔
یہ ہے مزاج ان لوگوں کا جو مالدار ہوتے ہیں ، جو فارغ البارلی کی زندگی بسر کرتے ہیں ، جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور جن کی گردنیں موٹی اور پیٹ پھولے ہوئے ہوتے ہیں۔
حضرت نوح ان الزامات ، اس سرکشی اور استکبار کو نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہ یقین ، ثابت قدمی اور نہایت ہی ٹھنڈے انداز میں اس سچائی کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اللہ نے ان پر نازل کی ہے۔ وہ نہایت ہی وضاحت سے بات کرتے ہیں ، نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں گہرے شعور اور یقین کے ساتھ ان سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ وہ ان کی زبان میں بات نہیں کرتے ، وہ الزام کا جواب الزام سے نہیں دیتے۔ وہ ایسا دعویٰ نہیں کرتے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں حقیقی تاثر کے بجائے کوئی مبالغہ آمیز تصور نہیں دیتے۔ وہ اپنی رسالت اور منصب رسالت کے بارے میں ان کے سامنے نہایت ہی حقیقی بات کرتے ہیں۔
قَالَ يٰقَوْمِ " اے برادران قوم " کس قدر مہذب ، پرخلوص داعیانی خطاب ہے ! ان کی نسبت اپنی طرف اور اپنی نسبت ان کی طرف۔ آپ فرماتے ہیں کہ تم اعتراض یہ کرتے ہو کہ میں تمہاری جیسا ایک آدمی ہی ہوں تو بظاہر تمہاری تو درست ہے لیکن اگر میرا میرے رب کے ساتھ پیغمبرانہ اتصال ہو تو ذرا سوچو تمہاری اس رائے کے نتائج تمہارے لیے کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ میں تو واضح طور پر اپنے رب کے ساتھ رابطہ رکھتا ہوں۔ اور مجھے اس کا شعور بھی ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے تم لوگ محروم ہو۔ اللہ نے مجھے اپنا رسول ہونے کا منصب دیا ہے اور یہ اس کی جانب سے میرے لیے رحمت ہے یا مجھے ایسے خصائص عطا کیے جن کی بنا پر میں اس رحمت الہی کا حامل ہوگیا ہوں اور یہ بیشک ایک عظیم رحمت ہے۔ تم اس پوزیشن پر بھی ذرا غور کرلو کہ اگر مجھ پر یہ رحمت ہو۔ اور تم اس کو سمجھ نہ پا رہے ہو ، کیونکہ تم عقل کے اس قدر کورے ہو کہ اس عظیم حقیقت کے ادراک ہی سے محروم ہو۔ تم اس کو دیکھ نہیں سکتے ہو تو ہمارے پاس اب اور کیا ذریعہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو زبردستی تمہارے ذہن میں ڈال دیں۔ نہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور نہ ایسا کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ خصوصاً جب کہ تم اس کے تسلیم کرنے کو ناپسند کرتے ہو۔ جب نفرت کی خلیج حائل تو تم سمجھ ہی کب سکتے ہو۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نہایت پیار کے ساتھ ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرماتے ہیں اور ان کے احساس کو تیش فرماتے ہیں تاکہ وہ ان بلند حقائق کو سمجھنے کی سعی کریں۔ اور رسالت کے بارے میں وہ جس غلط فہمی اور غفلت کا شکار ہیں اس سے باہر نکل آئیں۔ ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) یہ حقیقت سمجھانے کی کو ششش کرتے ہیں کہ رسالت کا معاملہ اس قدر سطحی نہیں ہے جس قدر وہ اسے سمجھ رہے ہیں۔ لیکن حضرت نوح اپنے اس نرم کلام میں ان کو یہ عظیم اصول بتا رہے ہیں کہ عقیدے کا معاملہ خالص کسی شخص کی سمجھ پر موقوف ہے اور کسی عقیدے کا اختیار ایک شخص کے ذاتی غور و فکر پر منحصر ہے۔ اس باب میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی پر کوئی عقیدہ ٹھونسا جاسکتا ہے۔ خواہ کوئی جس قدر جبر اور تشدد چاہے ، اختیار کرلے۔