اس صفحہ میں سورہ Hud کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ هود کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَرَىٰكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٍ ۗ قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
مِن دُونِهِۦ ۖ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌ
وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٰهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ عَادًا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ
۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌ مُّجِيبٌ
قَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍ
آیت 54 اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں اور تمہارے شرک کے اس جرم سے بالکل بری اور بیزار ہوں۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمائی تھی۔
مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔
آیت 59 وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ یہاں پر ان تمام انبیاء کو بھی رسول کہا گیا ہے جو حضرت ہود سے پہلے اس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اکثر اس طرح ہوتا رہا ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء کرام ان کے معلمین کی حیثیت سے آتے رہے اور پھر آخر میں ایک رسول آیا۔ اور جیسا کہ قبل ازیں بھی نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے کہ قرآن میں یہ دونوں الفاظ اگر الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کی جگہ پر آسکتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ دونوں الفاظ اکٹھے ایک جگہ آئیں تو پھر ان میں سے ہر لفظ اپنے خاص معنی دیتا ہے۔
آیت 61 وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا قوم عاد میں سے جو لوگ بچے تھے وہ اپنے علاقے سے آگے وسطی علاقے کی طرف جا کر ”حجر“ میں آباد ہوئے اور ان لوگوں کی نسل میں سے ثمود نام کی ایک بڑی قوم ابھری۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اس قوم کے اندر بھی وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں اور وہ لوگ بھی جب بت پرستی اور شرک کی لعنت میں مبتلا ہوگئے تو ان کی اصلاح کے لیے حضرت صالح کو مبعوث کیا گیا۔
آیت 62 قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَآ یعنی آپ تو اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے پوری قوم کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ہمیں تو توقع تھی کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے سبب اپنے آباء و اَجداد اور پوری قوم کا نام روشن کریں گے ‘ مگر آپ نے یہ کیا کیا ؟ آپ نے تو اپنے باپ دادا کے دین اور ان کے طور طریقوں پر ہی تنقید شروع کردی۔ آپ کی ان باتوں سے تو پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ آپ کی اس دعوت توحید کے بارے میں ہمیں سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا دل آپ کی اس دعوت پر مطمئن نہیں ہے۔