اس صفحہ میں سورہ Hud کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ هود کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍ
وَيَٰقَوْمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَٰلِحًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِّثَمُودَ
وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوا۟ سَلَٰمًا ۖ قَالَ سَلَٰمٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ
فَلَمَّا رَءَآ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۚ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ
وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ
اے میری قوم ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں تو اپنے نفس میں اپنے رب کی حقیقت کو واضح طور پر پاتا ہوں اور یہ ربانی حقیقت مجھے صاف صاف بتاتی ہے کہ جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل واضح اور حقیقی ہے ، پھر اس پر مزید فضل مجھ پر یہ ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے منصب رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور اللہ نے مجھے وہ صلاحتیں دی ہیں جو اس منصب کے لیے ضروری ہیں ، اگر ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی میں اللہ کی نافرمانی کروں اور تبلیغ دین میں قصور کا ارتکاب کروں تو میری مدد کون کرے گا ؟ کیا میں تمہاری امیدوں کا پاس رکھوں یا اپنی نجات کی فکر کروں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے انجام کو محض اس لیے داؤ پر لگا دوں کہ تمہاری امیدیں پوری ہوں۔
فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) “ تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو ”۔ اگر میں تمہاری آرزوؤں کا خیال رکھوں تو میں عظیم خسارے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہوجاؤں گا۔ اور منصب رسالت سے معزول کردیا جاؤں گا۔ دنیا میں بھی شرمندگی ہوگی اور آخرت میں بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکوں گا۔ اور یہ ایک عظیم اور مسلسل خسارہ ہوگا۔ چناچہ یہ تباہ کن اور ناقابل برداشت گھاٹا ہوگا۔
یہاں یہ قرآن کریم نے اس ناقہ کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں جو ان کے لیے ایک نشانی اور علامت تھی۔ لیکن اس ناقہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ “ اللہ کی اونٹنی ” ہے۔ اور تمہارے لیے یہ ایک نشانی ہے ان ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ممتاز اونٹنی تھی اور وہ جانتے تھے کہ یہ ان کے لیے اللہ کی جانب سے ایک نشانی ہے۔ بس ہم بھی یہاں صرف ان باتوں پر اکتفاء کرتے اور ناقہ صالح (علیہ السلام) کے بارے میں اسرائیلی روایات کے مطابق مفسرین نے جو رطب ویابس جمع کی ہیں ان کے ساتھ یہاں تعرض نہیں کرتے۔
هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ (64 : 11) “ دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے خدا کی زمین پر چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو ۔ اس سے ذرا تعرض نہ کرنا۔ ” ورنہ اللہ تمہیں بہت جلد پکڑ لے گا اور عذاب دے گا۔ عبارت میں فاء تعجیل کے لیے ہے۔
فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ (11 : 64) ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا ”۔ یعنی تم اللہ کی شدید پکڑ میں آجاؤ گے ، انداز تعبیر محض عذاب ہونے یا عذاب کے نزول سے کہیں زیادہ کسی چیز کو ظاہر کر رہا ہے۔
۔ ” انہوں نے ناقہ کی ٹانگیں کاٹ دیں (فعقروھا) اور اس انداز میں اسے قتل کردیا ’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر مفسد تھے اور کس قدر بےباک تھے ، سیاق کلام میں یہاں نزول ناقہ اور قتل ناقہ کے درمیان مدت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ، کیونکہ مدت کے ذکر کا دعوت دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ محض ایک تاریخی پہلو ہے۔ البتہ قتل ناقہ کے بعد سیاق کلام میں ان کے عذاب کا ذکر آجاتا ہے۔ یہاں واقعات کے تمام مراحل کو فاء تعقیب کے ساتھ لایا جاتا ہے یعنی پس یہ ہوا ، پس یہ ہوا۔
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ (11 : 65) “ مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس پر صالح (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کردیا کہ “ بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی ”۔ یعنی اب تمہاری مہلت زندگی صرف تین دن رہ گئی اور یہ میعاد ایسی ہے جس میں کوئی تغیر و تخلف نہیں ہو سکتا۔ اب یہ فائنل آرڈر ہے۔ فا تعقیب سے یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات آگے پیچھے وقوع پذیر ہوئے۔
جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔
اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔
کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا۔
“ گویا ان بستیوں میں کبھی انہوں نے قیام ہی نہ کیا تھا اور نہ عیش و عشرت کی تھی۔ یہ نہایت موثر نظر ہے ، پرتاثیر احساس ہے ، یہ منظر زندگی اور موت کے درمیان ایک کھلا منظر ہے ، لیکن چشم زدن میں یہ نظر کے سامانے سے گزر جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد گویا زندگی ایک ٹیپ ہے۔ جو تزی سے گزر رہی ہے اور نظر یوں آتا ہے کہ شاید خواب و خیال تھا۔
اب اس قصے پر حسب سابق آخری تبصرہ یہ ہے کہ ملامت اور لعنت کے ساتھ اس صفحے کو لپیٹ دیا جاتا ہے ، اور یہ منظر جس طرح نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ، اسی طرح لوح حافظہ سے بھی مٹ جاتا ہے۔
اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَابُعْداً لِّثَمُوْدَ (68)
“۔ ”
ایک بار پھر ہمارے سامنے ، اس قصے کی صورت میں دعوت اسلامی کی تاریخ کی ایک لڑی موجود ہے۔ وہی دعوت ہے جو حضور ﷺ دے رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے وہی خدو خال ہیں جو حضور ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ دعوت یہ دی جا رہی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، صرف اللہ کے وضع کردہ نظام زندگی کو اپناؤ۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اور اسلام کی وہی کشمکش ہے جو مکہ میں برپا ہے۔ شرک اور توحید کی ٹکر ہے۔ اہل ثمود بھی ان لوگوں میں سے تھے جو عاد کی طرح کشتی نوح میں بچ گئے تھے۔ کشتی نوح کے سواروں کی اولاد تھے لیکن وہ اپنے حقیقی دین ، دین نوح سے منحرف ہو کر جاہلیت میں ڈوب گئے تھے اور تاریخ کے اس مرحلے میں حضرت صالح (علیہ السلام) اب ان کی اصلاح کے لیے مامور ہوئے تھے تا کہ ان کو از سر نو اسلام میں داخل کردیں۔
اس قصے میں ہمیں نظر آتا ہے کہ انہوں نے خود ایک خارق عادت معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معجزہ انہیں دکھا دیا گیا لیکن انہوں نے اس کا جواب ایمان اور قبول حق کے ساتھ نہ دیا بلکہ انہوں نے صاف صاف انکار کردیا اور ناقہ کی ٹانگیں کاٹ کر اسے ہلاک کردیا۔
مشرکین عرب بھی حضور ﷺ سے ایسے ہی خارق عادت معجزات کے طلب گار تھے تا کہ وہ امیان لائیں تو ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ قوم صالح (علیہ السلام) نے بھی معجزات طلب کیے۔ وہ آگئے انہوں نے نہ مانا اور ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ معجزات طلب نہیں کیا کرتے۔ اسلام تو ایک سادہ اور فطری دعوت ہے ، اس کے قبول کرنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے محض غور وفکر اور تعقل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جاہلیت کی وجہ سے لوگوں کی عقل پر پردے پڑجاتے ہیں اور ان کی عقل مسخ ہوجاتی ہے۔
اس قصے میں بھی ہمارے سامنے حقیقت باری اپنے اس رنگ میں آتی ہے جس طرح اللہ کے مختار بندوں کے ذہنوں میں وہ موجود ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے رسولوں کے ذہن میں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے قول پر ذرا غور فرمائیں :
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (11 : 63) “ صالح نے کہا ، اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔ ” اور یہ اظہار حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس کے بعد کیا۔
إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ (11 : 61) “ میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ ” ذات باری کی حقیقت حضرات انبیاء کے اذہان وقلوب میں اس طرح منعکس ہوتی ہے اور اس طرح جمال و کمال کے ساتھ موجود ہوتی ہے کہ اس شان سے وہ کسی اور کے دل میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ انبیاء کے دل آئینہ کی طرح صاف ہوتے ہیں اور ان میں ذات باری کا انعکاس نہایت ہی صفائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور نہایت ہی منفرد شان کے ساتھ۔
اس قصے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیں اس میں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اپنے آپ کو ہدایت کی شکل میں پیش کرتی ہے اور ہدایت کو ضلالت کے جامے ہیں۔ اور وہ نہایت ہی عیاری سے سچائی پر تعجب کرنے لگتی ہے۔ وہ سچائی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ صالح علہی السلام سے ان کی قوم نے بہت امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں ، کیونکہ وہ ایک صالح ، عقلمند ، باخلاق اور پسندیدہ نوجوان تھے ، لیکن اب قوم ان کے بارے میں سخت مایوسی کا اظہار کرتی ہے ، یہ کیوں ؟ یہ محض اس لیے کہ وہ ان کو اسلامی نظام زندگی کی طرف بلاتے ہیں ، صرف اسلامی نظام کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور ان کی دعوت آبا ؤاجداد کی مورثی ڈگر سے مختلف ہے۔
یاد رہے کہ انسانی فکر و نظر اگر جادہ مستقیم سے بال برابر بیھ ادھر ادھر ہوجائے تو ضلالت و گمراہی کی کسی حد پر وہ رکتی نہیں ہے۔ آخر کار انسانی سوچ کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے نہایت ہی واضع اور سادہ سچائی بھی گمراہی نظر آتی ہے اور وہ سچائی کو سن کر تعجب کرنے لگتا ہے اور انسانی سوچ اور تصور اس قدر محدود ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر سادہ سے سادہ حقیقت بھی نہیں سماتی اور کوئی فطری اور سیدھی منطق بھی سمجھ میں نہیں آتی۔
دیکھئے ، حضرت صالح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ، اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور یہاں تمہیں ترقی دی۔ وہ پکارتے ہیں کہ دیکھو تم اس کرہ ارض پر موجود ہو ، یہ وجود تمہیں اللہ نے بخشا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جس سے تم دیکھتے اور جس کا تم انکار نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو خود نہیں پیدا کیا اور نہ خود اپنے لیے حیات اور رزق کا انتظام کیا ہے۔
یہ بات بالکل واضح بھی تھی ، کیونکہ وہ اس حقیقت کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ وہی ہے جس نے انسانی کو وہ عقل دی ہے جس کے ذریعے وہ اس کرہ ارض کو ترقی دے رہا ہے لیکن وہ اس صغریٰ کبریٰ کو تسلیم کرنے کے بعد اس کا منطقی نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے کہ اللہ ہی الٰہ ہے اور اس نے انسان کو یہاں خلیفہ و مختار بنایا ہے۔ لیکن اس پر لازم کیا ہے اور اس کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ وہ صرف اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نہ اس کے سوا کسی اور کی اطاعت کرے۔ یہی سادی حقیقت تھی جس کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) دعوت دیتے تھے۔
(یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہ غَیْرُہُ ) مسئلہ کیا تھا ؟ مسئلہ الوہیت و ربوبیت کا تھا۔ کہ کون حاکم اور مطاع ہوگا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے گرد تمام انبیاء کے مشن گھومتے ہیں اور اس کے گرد انبیاء کے بعد تمام دعوتی تحریکیں گھومتی ہیں اور یہی ہے آج بھی اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کا محور۔
درس نمبر 102 ایک نظر میں
اب حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بعد ، دوسرے ادوار میں کاروان تاریخ اسلامی میں داخل ہوتا ہے ، اب منصہ تاریخ پر کچھ اور بابرکت اقوام آتی ہیں اور کچھ اور ایسی اقوام آتی ہیں جنہیں عاد وثمود کی طرح ہلاک کیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کے ایک پہلو کو یہاں لیا جاتا ہے۔ آپ کے قصے میں خیر و برکت کا جو پہلو ہے اس پر ایک نظر ڈال کر ہمیں تاریخ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بڑھ جاتی ہے جو مستحق عذاب ٹھہری اور جسے سخت عذاب دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصص میں اللہ کا وہ وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے جو اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ کہا گیا تھا۔
قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ (11 : 48) “ کہا گیا اے نوح ، ہماری جانب سے سلامتی کے ساتھ اتر جا اور برکتوں کے ساتھ تم پر اور ان اقوام پر جو تمہارے ساتھ ہیں۔ اور ان اقوام پر جن کو ہم عنقریب متاع دیں گے اور اس کے بعد ان کو ہماری جانب سے عذاب الیم پکڑلے گا ”۔ برکات کے مستحق تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد ہوئی اور آپ کی اولاد حضرت اسحٰق اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے انبیاء آئے اور حضرت خاتم النبیین ﷺ سب سے آخر میں آئے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بعض مستحق عذاب بھی ہوئے۔
درس نمبر 102 تشریح آیات
69۔۔۔۔ تا ----83
وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُ سُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی
یہاں قرآن کریم نے خوشخبری کے بیان کو بعد میں آپ کی بیوی کی موجودگی کے وقت تک موخر کردیا کیونکہ یہاں تو ابھی قاری کو معلوم نہیں کہ آنے والے فرشتے ہیں۔ یہاں مفسرین نے ان آنے والوں کے بارے میں جو تفیصلات دی ہیں ہم ان کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ تفصیلات بلا دلیل ہیں :
قَالُوْا سَلٰمًا قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذِ (69) فَلَمَّارَآاَ یْدِیَھُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے لدانیوں میں پیدا ہوئے اور یہاں سے انہوں نے ہجرت کر کے دریائے اردن کو عبور کرتے ہوئے کنعان کی صحرائی سرزمین میں بودباش اختیار کرلی۔ اور جس طرح دیہاتی رسم و رواج کے مطابق جو شخص کھان نہیں کھاتا اس سے یہ خوف کیا جاتا ہے کہ شاید یہ کسی جنایت اور دشمنی کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ تمام دیہاتی لوگ کھانا کھانے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ برائے کا ارتکاب کرنے سے ابا کرتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمان کھان نہیں کھا رہے تو قدرتی طور پر انہیں خوف دامن گیر ہوا اور طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے۔ غرض اس صورت حالات کو دیکھ کر انہوں نے مناسب سمجھا کہ اپنا تعارف کرا دیں اور اپنی مہم سے ان کو آگاہ کردیں۔
قَالُوا لا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ (70)
‘۔ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو فوراً سمجھ گئے کہ قوم لوط کی طرف فرشتوں کے بھیجنے کے کیا معنی ہیں ، لیکن اچانک روئے سخن ایک ایسے موضوع کی طرف مڑ گیا جو زیر بحث نہ تھا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔