درس نمبر 115 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52
سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔
رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔
اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔
سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 28 تا 30
کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔
کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔
اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔
اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔
آیت 28 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًااللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جیسے سورة ہود آیت 98 میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔
منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت علی ؓ سے بھی ایک قول حضرت ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کوا کے جواب میں آپ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا ؟ واللہ میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کوا کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا آپ نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابو جہل تھا اور احد میں ابو سفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ حضرت عمر ؓ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔ ابن عباس ؓ نے جب آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ دینا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے۔ جیسے فرمان ہے ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے دنیاوی نفع اگرچہ ہوگا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے۔